2010 کے بعد ہندوؤں کی نقل مکانی، پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی باتیں

کس نے سوچا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات کو سرے سے ہی غائب کردیا جائے گا جس میں انہوں نے کھلے اور واضح الفاظ میں واشگاف کہا تھا کہ اقلیتیں اس ملک میں آزاد ہیں۔

ہندو بیچارے نوجوان بچیوں کو اس ظلم سے محفوظ رکھنے کے لیے 2010 کے بعد سے بھارت یا دیگر ممالک میں  نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں(اے ایف پی)۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ہمیں مدینہ کی ریاست جیسے الفاظ سننے کو بار بار مل رہے ہیں جیسے کہ ہمارے کانوں میں یہ الفاظ گھول کر ڈالے جارہے ہیں کہ اب پاکستان میں مدینہ کی ریاست کا ماڈل جیسا نظریہ بنانے کی ضرورت ہے یا پھر اس جیسا نظام۔

مدینہ کی ریاست کا ماڈل کیا تھا اورکیا یہ آج کے زمانے اور معاشرے کے لیے بھی اتنا ہی قابل عمل ہے جتنا کہ  اس وقت کے زمانے کے لیے تھا؟

وہ زمانہ اسلام کے عروج کا زمانہ تھا۔ بغیر کسی رنگ، نسل، فرقے اور ذات پات کے ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کی جاتی تھی۔ لوگوں کے جان و مال محفوظ ہوا کرتے تھے اور اقلیتوں کے ساتھ صلہ رحمی اور قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا تھا۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم مدینے کی ریاست کے یہ سنہرے اصول پاکستان کی ریاست میں متعارف کروا سکیں گے؟

کیا پاکستان کی عوام مدینہ کی ریاست کے سنہرے اصول کے نفاذ کو قبول کر سکتی ہے؟ کیا کرپشن سے متاثر اس معاشرے کو مدینہ کی ریاست بننے کے لیے تیار کر لیا گیا ہے؟

مدینہ کی ریاست میں ہر خاص وعام کو ایک جیسے حقوق میسر تھے کسی عجمی کو عربی پر کسی گورے کو کالے پر اور کسی امیر کو کسی غریب پر فضیلت حاصل نہیں تھی لیکن پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی آپ کو ہر طرح کا فرقہ وارانہ امتیاز نظر آئے گا۔ کس نے سوچا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات کو سرے سے ہی غائب کردیا جائے گا جس میں انہوں نے کھلے اور واضح الفاظ میں واشگاف کہا تھا کہ اقلیتیں اس ملک میں آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کر سکتی ہیں۔ کیا واقعی آج کے پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں؟

کیا واقعی آج کے پاکستان میں پارسیوں کی تعداد وہی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا آج بھی پاکستان میں ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور احمدیوں کی وہی تعداد ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا، پاکستان کی ریاست میں بین المذاہبی خوبصورتی ہوتی اور ہر طرح کا ٹیلنٹ موجود ہوتا اور دنیا بھر میں شاید پاکستان کی کچھ اور ہی شکل کچھ اور ہی امیج ہوتا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم لوگ بچپن میں سنتے تھے کہ ہمارے آس پاس پارسی، بنگالی، برمی، ہندو، سکھ، عیسائی اور احمدی رہا کرتے تھے اور اس وقت کا یہ ماحول تھا کہ سب کے سب ایک دوسرے کے ساتھ دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہوتے اور مذہبی تہواروں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آتے تھے۔

ہر محکمے میں ہر مذہب اور فرقے کے لوگ کام کرتے اور قیام پاکستان کے بعد کی تکالیف بھی اکٹھے برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کا سوچتے تھے۔

بات چاہے قانون سازی کی ہو یا انصاف کے ایوانوں کی، تعلیم کی یا صحت کی یا سماجی ترقی کی آپ کو اقلیتوں کے شاندار کردار نظر آئیں گے لیکن ہم جیسے بد نصیبوں کے نصیب میں کسی نے اس خوبصورت بین المذاہبی معاشرے کو آنے ہی نہیں دیا۔ ہم تک یہ کلچر ہی نہیں پہنچا اور نہ ہی ہم نے ان کے تہوار دیکھ کر کچھ سیکھا۔  ہم تو وہ بد نصیب پاکستانی جنریشن ہیں جنہوں نے اقلیتیں ہی بہت کم دیکھیں۔ کبھی کوئی پارسی نظر نہیں آیا،  احمدی نظر نہیں آیا البتہ کبھی کبھار ان پر ہونے والے مظالم کی خبریں ضرور سننے کو ملتی ہیں وہ بھی صرف شعبہ صحافت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے، ورنہ عام آدمی کو تو شاید یہ بھی پتہ نہ ہو کہ وہ آخر رہتے کہاں ہیں۔

ہندووں کی صرف بیٹیوں کو مسلمان بنانے میں ہماری دلچسپی ہے جس کی وجہ سے انہیں اغوا کرلیا جاتا ہے۔ انہیں اسلام کے دائرے میں شامل کرکے اور ان ’بے سہارا‘ بچیوں سے نکاح بھی کر لیتے ہیں کیوں کہ جنت بھی تو صرف اسی کام سے ہمیں حاصل ہونی ہے باقی کے اسلامی امور سے تو ہم نابلد ہیں۔

اب ہندو بیچارے نوجوان بچیوں کو اس ظلم سے محفوظ رکھنے کے لیے 2010 کے بعد سے بھارت یا دیگر ممالک میں  نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ 2010 کے بعد کے گوشوارے اٹھا کر دیکھ لیں ہندووں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان سے نقل مکانی کرچکی ہے بالکل اسی طرح جیسے پارسیوں کے گھر اور کاروبار جلا دئیے گئے اور ان کو بھی پاکستان چھوڑنا پڑا۔

اب ذرا بات کرتے ہیں عیسائیوں اور احمدیوں کی۔ خدا جانتا ہے جتنا ظلم ان دو اقلیتوں پر ہوا کسی اور پر نہیں ہوا۔ چن چن کر ہیرے جیسے لوگ ماردئے گئے۔ بہت سے مسیحی پارلیمینٹرینز کو اور عام لوگوں کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا لیکن انصاف آج تک نہ ملا، آسیہ بی بی کے اوپر ایک الزام نے کس طرح اس کی، اس کے خاندان کی زندگی تباہ حال کیے رکھی اور کس طرح کچھ مذہبی جماعتوں نے اس کی رہائی کے فیصلے پر پورے راولپنڈی، اسلام آباد،کراچی اور لاہور کو یرغمال بنائے رکھا، سب نے دیکھا۔

احمدیوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ان کے نہ صرف کارخانے جلائے گئے بلکہ ان کے گھروں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ اوورسیز احمدیوں کے پاکستان آنے سے پہلے ان کے قتل کے منصوبے تیار ہوتے ہیں اور اور پھر ان کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتیں بڑی سہولت سے ان کے قتل کے فتوے جاری کرتی ہیں اور اگر عدالتوں سے ان کی خواہشات کے برعکس فیصلے آئیں تو پورے پاکستان کو یرغمال بنا لیتی ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا فیصلہ ان مذہبی جماعتوں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا گیا؟

کیا پاکستان واقعی اقلیتوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے؟ میرا یہ سوال مدینہ کی ریاست کا خواب دیکھنے والے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ہے۔ کیا  آپ سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو برابری کے حقوق دئیے بغیر پاکستان مدینہ کی ریاست بن سکتا ہے اگر نہیں تو پھر اقلیتوں کے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور ان کی زندگی موت کا فیصلہ نام نہاد جنونی مذہبی جماعتوں کے ہاتھ میں نہ جانے دیں۔پاکستان کو صرف تقریریں نہیں انصاف بھی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ