قاتلانہ حملے میں ٹانگ کی نس بھی متاثر ہوئی: عمران خان

عمران خان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ بلٹ پروف سکرین میں انتخابی مہم پر واپس آنا ’عجیب‘ احساس ہے، عوام کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں کہا ’کبھی کبھی آپ کو لگتا ہے کہ آپ صرف اپنے آپ سے بات کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان 23 مارچ 2023 کو لاہور میں بلٹ پروف شیلڈ کے پیچھے سے خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی)

ایک سیاسی ریلی میں جان لیوا حملے کی کوشش کے دوران ٹانگوں میں تین گولیاں لگنے کے تقریباً پانچ ماہ بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

ماضی کے کرکٹ سپر سٹار سے شعلہ بیاں سیاست دان بننے والے عمران خان نے نومبر میں وزیرآباد میں ہونے والے حملے کے بعد پہلی بار گذشتہ ہفتے لاہور میں بلٹ پروف سکرین کے پیچھے سے ایک جلسے سے خطاب کیا اور یہ ان کی زندگی کو لاحق خطرے کے پیش نظر کیا گیا۔ 

دی انڈپینڈنٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں عمران خان نے انکشاف کیا کہ قاتلانہ حملے کے نتیجے میں ان کی دائیں ٹانگ کو ممکنہ طور پر دیرپا نقصان پہنچا جب کہ ان کی ران پر لگنے والی دو گولیوں کے زخم ٹھیک ہو چکے ہیں۔ تیسری گولی سے ان کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس سے ٹانگ کی نس کو نقصان پہنچا۔

ان کے بقول ’مجھے گولیوں کے زخموں سے زیادہ اعصابی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات سے زیادہ پریشانی ہوئی ہے۔‘

’میں اب بھی ٹھیک سے چل نہیں سکتا، میرے دائیں پاؤں میں اب تک حساسیت کی کمی ہے۔ یہ ایک دیرپا اثر ہے جس کے بارے میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ہی یہ ٹھیک ہو گا۔‘

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں صوبائی انتخابات 30 اپریل کو ہونا تھے۔

لیکن مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے اور عمران خان کی حمایت میں ہونے والے بڑے احتجاج کے دوران الیکشن کمیشن نے ’سکیورٹی خدشات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کو اکتوبر تک معطل کر دیا۔ ملک میں اگلے عام انتخابات بھی اکتوبر میں ہونے ہیں۔

لاہور ریلی کے دوران اپنی تقریر میں عمران خان نے بدعنوانی، ڈرانے دھمکانے اور گذشتہ سال تحریک عدم اعتماد میں انہیں بے دخل کرنے کی ’غیر قانونی سازش‘ کے الزامات دہراتے ہوئے مخلوط حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان کی موجودہ اتحادی (پی ڈی ایم) حکومت بارہا عمران خان کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ ان پر یہ الزامات اپنے حامیوں کو ابھارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اقتدار میں واپس آ سکیں۔

عمران خان اپنے پرجوش سامعین کے ساتھ جڑنے کی فطری صلاحیت کے ساتھ ایک زبردست مقرر بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ بلٹ پروف سکرین کے پیچھے انتخابی مہم میں واپس آنا ایک ’عجیب‘ احساس ہے جس سے عوام کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں کہا ’کبھی کبھی آپ کو لگتا ہے کہ آپ صرف اپنے آپ سے بات کر رہے ہیں۔‘

عمران خان کے انتخابی انداز کا ماضی کے ایک اور مشہور سیاسی شخصیت سے موازنہ کیا جاتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

دونوں ہی فقروں کی ادائیگی اور تیز و تند بیان بازی کے ساتھ ہجوم میں جوش بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے ناقدین اشتعال دلانے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

ان کی برطرفی کے بعد عمران خان کے خلاف بنائے گئے درجنوں مقدمات میں سے ایک خاتون جج کے خلاف دھمکی آمیز زبان کا استعمال کرنا بھی ہے جس میں انہوں نے جج کو خبردار کیا تھا کہ ’وہ خود کو تیار کر لیں کیوں کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘ حالانکہ ان کی پارٹی کا اصرار ہے کہ اس ’کارروائی‘ کا مطلب قانونی کارروائی تھا۔

لاہور جلسے کے بارے میں پوچھے جانے پر عمران خان نے فوری طور پر مینار پاکستان کے میدان میں سجنے والے جلسہ گاہ میں امڈ آنے والے عوام کے سمندر پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ تصور نہیں کر سکتے کہ کیا ہوا۔ ہفتے کا دن تاریخی تھا۔ یہ پاکستان کا سب سے تاریخی مقام ہے اور یہ سب سے بڑا میدان ہے اس لیے اس جگہ کو بھرنا بہت مشکل ہے۔ اگر آپ وہاں کوئی ریلی کرتے ہیں تو پورا ملک دیکھتا ہے کیوں کہ کسی پارٹی کے لیے اس مقام کو بھرنے کا مطلب ہے کہ آپ کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے۔‘

2024 کے امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی بے دخلی کی طرح عمران خان بھی حکومت کھونے کے بعد اقتدار میں واپسی کے مشکل کام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ عمران معاملے میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ان کا تختہ الٹا گیا تھا۔

لیکن امریکہ کے برعکس عمران خان ایک ایسے ملک میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سیاسی بیان بازی کی جگہ تشدد کی کھلی دھمکیوں نے لے لی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے رواں ہفتے ہی عمران خان کو ایک ’دشمن‘ اور ’لاعلاج‘ قرار دیا تھا۔

رانا ثنا اللہ نے ایک چینل کو انٹرویو میں کہا ’اگر وہ (عمران خان) سوچتے ہیں کہ ہم انہیں مارنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ بھی ہمیں مارنا چاہتے ہیں۔ جب ہم محسوس کریں گے کہ ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے تو ہم اس حد تک جائیں گے جہاں ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہو گی کہ یہ اقدام جمہوری ہے یا نہیں۔‘

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1996 میں پی ٹی آئی کی بنیاد رکھنے کے بعد سے سیاست میں اپنے 27 سال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا: ’میں نے پاکستان (میں سیاست) کو کبھی اس سطح پر گرتے نہیں دیکھا۔ میں جنرل مشرف کی فوجی آمریت کی مخالفت کر رہا تھا۔ انہوں نے مجھے آٹھ دن کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جو کچھ اب ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں وہ کچھ بھی نہیں تھا۔‘

عمران خان نے خود پر ہونے والی کچھ زیادتیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا وہ حکام کے ہاتھوں مضحکہ خیز اقدامات جھیل رہے ہیں جیسا کہ پولیس نے 18 مارچ کو لاہور میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا جب عمران خان خود اسلام آباد میں عدالت میں پیش ہونے والے تھے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران افسران نے ان کے گھریلو عملے کو مارا پیٹا اور ان کے باورچی تک کو حراست میں لے لیا۔

ان کے بقول: ’انہیں (باورچی) مارا پیٹا گیا اور وہ اسے ساتھ لے گئے، انہیں جیل میں ڈال دیا اور پوچھا گیا کہ عمران خان کیا کھاتے ہیں؟‘

پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عمران خان کے گھر پر چھاپے کے دوران رائفلز، کلاشنکوف اور پیٹرول بموں سمیت ہتھیار برآمد کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے اور پی ٹی آئی کے دیگر سینکڑوں کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے نئے الزامات عائد کیے ہیں۔

انڈپینڈنٹ نے چھاپے کے دوران بربریت کے دعوؤں کے جواب کے لیے لاہور پولیس سے رابطہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے خلاف حکومت کے مبینہ کریک ڈاؤن اور دیگر عناصر پر انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو کہا کہ عمران خان کے سوشل میڈیا چیف اظہر مشوانی کے لاپتہ ہونے کی خبریں ’پریشان کن‘ ہیں۔

اظہر 23 مارچ سے لاپتہ ہیں۔ ایمنسٹی نے کہا کہ اس طرح کے اغوا کے واضح واقعات نے ’پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو کئی دہائیوں سے داغدار کر رکھا ہے۔‘

ایمنسٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا انہیں فوری طور پر عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔‘

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے لاپتہ کارکن کے بھائی کی جانب سے انہیں عدالت میں پیش کرنے کی دائر کی گئی درخواست کے جواب میں مشوانی کو حراست میں رکھنے سے صاف انکار کر دیا۔

ایف آئی اے نے کہا کہ ایجنسی کو ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں تاہم جج نے اس کو ’غیر تسلی بخش‘ جواب قرار دیا ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ مشوانی کو خاص طور پر اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے کیوں کہ ان کی ٹیم نے پی ٹی آئی کے پیغامات کو عوام تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا: ’انہوں نے مرکزی میڈیا پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ہے، وہ بنیادی طور پر مجھے قومی میڈیا پر آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اب وہ سوشل میڈیا پر بھی شکنجہ کس رہے ہیں، اور ان کا خیال یہ ہے کہ وہ مجھے کسی طرح مکمل بلیک آؤٹ کر دیں۔‘

عمران خان نے بارہا ’اسٹیبلشمنٹ‘ کی اعلیٰ شخصیات پر نومبر کی قاتلانہ کوشش کا الزام لگایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں خدشہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ان کے قتل کی مزید کوششیں ہوں گی کیوں کہ ان کو پریشانی ہے کہ اگر میں اقتدار میں آ گیا تو وہ احتساب سے نہیں بچ پائیں گے۔‘

درحقیقت وہ 18 مارچ کو حکومت کے جوڈیشل کمپلیکس میں نامکمل عدالتی پیشی کو ’موت کے پھندے‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں جس سے ان کے بقول وہ وقت آنے پر نکل گئے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں قتل کرنے کا منصوبہ اور اسے بے قابو شورش کے طور پر ظاہر کرنے کی سازش کا انتباہ اس لیے باہر آیا کیوں کہ ان کے بقول ساڑھے تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی ان کے سرکاری سکیورٹی اداروں میں رابطے ہیں۔

عمران خان تسلیم کرتے ہیں کہ ’سٹیٹس کو سیاست‘ کے لیے ’خطرے‘ کے طور پر قائم ان کے امیج کی وجہ سے ان کے اور ٹرمپ کے درمیان موازنہ کیا جانا ہے۔

ان کے بقول: ’میرا نظریہ اس سے بالکل مختلف ہے جس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لالچ کوئی بری چیز نہیں ہے، لیکن میری سوچ اس کے برعکس ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا لالچ سے تباہ ہو رہی ہے۔ میں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سب پہلے بھی دیکھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر یقین نہیں کیا۔‘

’لہذا بہت سے طریقوں سے میرا نظریہ ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف ہے۔ لیکن پھر مجھے لگتا ہے کہ میری طرح ٹرمپ بھی (موجودہ سیاست سے) باہر کی شخصیت تھے، مجھے لگتا ہے ہمارے درمیان یہی ایک مشترکہ چیز ہو سکتی ہے۔‘

اگر عمران خان اقتدار میں واپس آتے ہیں تو ایک سنگین معاشی صورت حال ان کی منتظر ہو گی جہاں افراط زر کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور آئی ایم ایف سے مطلوبہ قرض کے حصول میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان اب بھی گذشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب سے بحالی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جس میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 15 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔

اس پس منظر میں عمران خان نے ہفتے کو اپنا 10 نکاتی ریکوری پلان بھی ظاہر کیا جس میں بڑی حد تک بدعنوانی اور ٹیکس چوری سے نمٹنے کے لیے ملکی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مزید رقم وطن واپس بھیجنے کی اپیل کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو چیز ان نکات میں غائب ہے وہ فنڈز اکٹھا کرنے اور تجارت کو بہتر بنانے میں بین الاقوامی برادری کو شامل کرنے کی حکمت عملی ہے اور شاید یہ زیادہ حیران کن بھی نہیں ہے کیوں کہ مغرب کو نشانہ بنانا عمران خان کے اپنے حامیوں راغب کرنے کے لیے ان کے پسندیدہ ہتھکنڈوں میں سے ایک رہا ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر تنقید کرتے رہے ہیں اور وہ گذشتہ سال اپنی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکہ میں بنائی گئی ’غیر ملکی سازش‘ کا نظریہ بار بار پیش کرتے رہے ہیں۔

عمران خان روس کے یوکرین پر حملہ کرنے سے پہلے ماسکو میں ولادی میر پوتن سے ملاقات کرنے والے آخری عالمی رہنما تھے جس کے بارے میں اب وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اس دورے کے لیے ’مناسب وقت‘ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ماسکو کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے کے لیے مضبوط معاشی دلائل موجود تھے۔

پاکستان کے معاشی بحران اور یوکرین کے حملے کے بعد سے سستے روسی تیل اور گیس کی خریداری میں پڑوسی ملک انڈیا کی جانب سے دکھائی گئی موقع پرستی کے تناظر میں یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اقتدار میں آنے کی صورت میں اب دوبارہ پوتن سے ہاتھ ملائیں گے، عمران خان متفق نہیں تھے۔ ’ابھی جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ میں بنیادی طور پر روسی اقدام کی تائید کر رہا ہوں۔‘

لیکن وہ پوتن کے اقدامات کی بھی کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ ان کے بقول: ’میری بات یہ ہے کہ ہم جیسے ممالک جانبدار ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ ہمیں صرف اپنے لوگوں کی فکر کرنی چاہیے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان