میانوالی: 73 سالہ بزرگ پینشنرز کے لیے واحد ’مددگار‘

پنجاب کے ضلع میانوالی کے 73 سالہ بزرگ مشتاق احمد پچھلے 18 برس سے علاقہ مکینوں کو اپنی پینشن حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

مشتاق احمد کا تعلق نواحی اور پسماندہ قصبے ٹھٹھی سے ہے اور وہ ہر ماہ کے ابتدائی ایام میں روزانہ پیدل گھر سے ریلوے لائن کے ساتھ چھ کلو میٹر کا سفر کر کے دیگر پینشنرز کی مدد کے لیے داؤد خیل پوسٹ آفس جاتے ہیں۔

مشتاق احمد وہاں پینشنرز کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے بعد ڈاک خانے کا وقت ختم ہوتے ہی اسی راستے سے پیدل گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔

انتہائی سادہ شخصیت کے مالک اور کم وسائل رکھنے والے مشتاق احمد خود بھی محکمہ ڈاک سے ریٹائرڈ پینشنر ہیں اور وہ پینشن کے دنوں میں پوسٹ آفس داؤد خیل کے باہر بیٹھ کر بلا تفریق آنے والے ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے بزرگ مرد و خواتین پینشنرز کی ہر وقت معاونت، رہنمائی اور ان کے پینشن فارم پُر کرتے نظر آتے ہیں۔

وہ روزانہ مختلف اوقات میں اوسطاً دو درجن سے زائد پینشنرز کے فارم پُر کرتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مشتاق احمد نے بتایا کہ ملازمت کے دنوں سے ہی وہ پینشنرز، خصوصاً بزرگ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں کیوں کہ ان کو احساس ہے کہ معاشرے میں بزرگ پینشنرز کا طبقہ کم علمی ناخواندگی اور ضعیفی کی وجہ سے پینشن کے حصول میں انتہائی مدد کا طلب گار ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’اس خدمت کا بدلہ دنیا سے لینے کا کبھی نہیں سوچا بلکہ اس کے اجر کی اللہ سے امید رکھتا ہوں، لہذا ہمیشہ بستر پر سونے سے پہلے یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ اللہ میری زند گی دراز کرے اور مجھے محتاج نہ کرے تا کہ میں ضرورت مند لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکوں۔‘

مشتاق احمد چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب سے یہ کام میں نے شروع کیا تو سب ضرورت مند لوگوں، پینشنرز اور اہل علاقہ نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ میں نے اس کام کا بدلہ دنیا سے لینے کا کبھی نہیں سوچا ہمیشہ یہ سوچ کر یہ فلاحی کام کیا ہے کہ اس کا اجر قیامت کے دن مجھے اللہ دے گا۔

’میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے یاد کریں اور بطور مثال لیں اور کاش کوئی اور میری جگہ لے کیوں کہ میں نے تو ہمیشہ نہیں رہنا جب کہ دنیا کے کام ہمیشہ چلتے رہیں گے۔‘

داؤد خیل ڈاک خانے میں آنے والے پینشنر ابراہیم خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مشتاق احمد صرف اس لیے اچھا نہیں کہ اس کا رویہ اچھا ہے بلکہ اس لیے بھی اچھا ہے کہ یہ انتہائی مدد گار آدمی ہیں۔

’مجھ جیسے کئی ضرورت مند ناخواندہ اور ناواقف پینشنرز کی ہر قسم کی مدد اور رہنمائی کرتے ہیں، ہمارے فارم پر جو غلطیاں ہوتی ہیں انہیں دور کرتے ہیں اور اگر یہ مدد گار نہ ہوتے تو مجھ سمیت کئی پینشنرز کو کافی مشکلات پیش آتیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی