’میں نے لندن کی سرخ بسوں کو ٹینکوں میں بدلتے دیکھا:‘ افغان پناہ گزین کی کہانی

غزہ میں جنگ نے برطانوی ڈاکٹر وحید آریان کو ان کی یادوں میں ڈبو دیا ہے، جنہیں 12 سال کی عمر میں کابل کی سڑکوں پر راکٹ حملوں سے بھاگنا پڑا تھا۔

ڈاکٹر وحید آریان کی زندگی کے ابتدائی 15 سال جنگ کی دائمی حالت میں گزرے (فراہم کردہ)

اسرائیل اور غزہ سے آنے والی تصاویر کی ہولناکی نے گذشتہ ماہ سب پر گہرا اثر ڈالا۔ شروسبری سے تعلق رکھنے والے اے اینڈ ای کنسلٹنٹ ڈاکٹر وحید آریان کے لیے یہ بات اہم ہے۔

یہ انہیں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں جنگ زدہ افغانستان میں ان کے بچپن کی یاد دلاتے ہیں۔

40 سالہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ 'میں حال ہی میں انٹرنیٹ پر گھوم رہا تھا اور میں نے غزہ کے ایک ہیلتھ کیئر ورکر کی یہ تصویر دیکھی جس کے ہاتھ میں دو چیزیں تھیں۔ جب میں نے قریب سے دیکھا تو وہ ایک بچے کی نچلی ٹانگیں تھیں۔ ایک پر جوتا تھا اور دوسرے پر نہیں تھا۔

’اسی لمحے انہیں’ری ٹرومیٹائزیشن (صدمے) کا دوبارہ عمل‘  کہتے برداشت کرنا پڑا۔ وہ یہ بات پرسکون انداز میں بتاتے ہیں ایسے کہ جیسے وہ اپنی تشخیص خود کر رہے ہوں۔

وحید کی زندگی کے ابتدائی 15 سال مستقل حالت جنگ میں گزرے کیونکہ پہلے مجاہدین نے سوویت قابضین کو افغانستان سے نکالا اور پھر طالبان نے عروج حاصل کیا۔

وہ 1988 میں پانچ سال کے تھے جب وہ پہلی بار اپنے خاندان کے ساتھ کابل سے پہاڑی راستوں کے ذریعے پاکستان کے ایک پناہ گزین کیمپ پہنچے۔

سات سال بعد وہ اس امید میں اپنے گھر لوٹ آئے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور افغانستان میدان جنگ ہی رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میں کابل کا موازنہ غزہ سے نہیں کر رہا کیونکہ صدمے کا موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ اور پھر تصاویر کو دیکھنا ہی انہیں 12 سال کی عمر میں واپس لے جانے کے لیے کافی ہیں جب ان کے اردگرد ہر جگہ راکٹ گر رہے تھے۔‘

اس کی جوان آنکھوں نے ہر چیز کا اندراج اور انہیں جمع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تفصیلات اب بھی ان کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا، 'خاندان حفاظت کے لیے آگے بڑھ رہے تھے لیکن راستے میں لوگ راکٹوں کی زد میں آ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کٹے ہوئے بازو چاروں طرف پڑے ہوئے تھے، کسی کا سر تھا، کسی کا جسم تھا لیکن ہمیں حرکت کرتے رہنا پڑا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’آپ کی یادداشت، آپ کا جسم ان سب معلومات کو جمع کر رہا ہوتا ہے، اسے جذب کر رہا ہے۔ جنگ میں گزاری زندگی کا صدمہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔‘

کسی دوسری جگہ پر دوسرے بچوں کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھنا ایک ٹریگر کے طور پر کام کرتا ہے۔

’انسان تکلیف میں ہے، والدین اپنے بچوں کو کھو رہے ہیں۔ اور اب میرے اپنے دو بچے ہیں [سات اور چار سال کی عمر کے] لہذا، جب میں نے اس تصویر کو دیکھا تو میں رونے لگا۔ بعد میں، میں نے گھر جا کر اپنے بچوں کے پاؤں چومے۔‘

بولتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے لیکن وہ وسطی لندن کے کیفے میں میرے سامنے بغیر لڑکھڑائے سیدھے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے صدمے سے نمٹنا سیکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے جھڑکنے یا دفن کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ یہ اس وقت واپس آئے گا جب آپ اس کی کم توقع کر رہے ہوں گے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ 2008 میں کیمبرج کے ٹرینیٹی ہال میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن کے امپیریل کالج میں میڈیکل کی تربیت مکمل کر رہے تھے۔

’میرا اس سے مقابلہ کرنے کا طریقہ لڑائی یا فرار تھا کیونکہ میرے پاس ایڈرینلین ختم ہو گیا تھا۔‘

اور پھر دو سال بعد وہ اپنی انگریز بیوی، ڈوینا سے ملا۔ ’یادیں تب آتی ہیں جب آپ انہیں نہیں چاہتے ہیں۔ آپ شرم محسوس کرتے ہیں۔ آپ خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ آپ ناامید محسوس کرتے ہیں۔ جب تک میں ان سے ملا نہیں میں نے ان چیزوں کے بارے میں بات نہیں کی۔‘

وحید آریان گیارہ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر تھے۔ اسی کی دہائی کے اواخر میں ان کے والد نے (ایک کیشئر جن کے پاس کوئی رسمی تعلیم نہیں تھی) فیصلہ کیا کہ خاندان کو نکلنا پڑے گا، جس کی وجہ سے ہمسایہ ملک پاکستان کا انہیں طویل سفر طے کرنا پڑا۔

انہوں نے سات دن تک گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر ان راستوں پر سفر کیا جہاں مجاہدین سوویت حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کے لیے مغرب کی جانب سے فراہم کردہ ہتھیار لاتے تھے۔

روسی سپوٹر طیارے گشت کر رہے تھے اور اگر انہیں زمین پر نقل و حرکت کی جھلک نظر آتی تو وہ حملہ کر دیتے۔ وحید اور اس کے والد پگڈنڈی پر تھے جب انہیں دیکھ لیا گیا۔

’ان کی آمد اور لڑاکا طیاروں کے آنے کے درمیان تطوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ ہم نے بھاگ کر ایک چھوٹے ویران گاؤں کے ایک مکان میں پناہ لی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ روایتی افغان عمارتوں میں ایک کمرہ روٹیاں پکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں تندور زمین میں کھودا جاتا ہے۔

’وہ مجھے تندور میں لے گئے، مجھے اپنے جسم سے ڈھانپ لیا اور کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو میں [سب سے بڑا بیٹا ہونے کے ناطے] خاندان کا ذمہ دار ہوں گا۔‘

جیٹ طیاروں نے اس مکان کو تباہ کر دیا لیکن اس کی زیر زمین پناہ گاہ میں باپ اور بیٹا زندہ بچ گئے۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ بچپن کا کھو جانا تھا، جب میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کب مرنے والے ہیں؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو میں کیا کروں؟‘ پشاور میں واقع پناہ گزین کیمپ پہنچنے پر پورے خاندان کو پہلے صرف ایک خیمہ اور پھر ’ایک کمرے کا مٹی کا مکان‘ دیا گیا۔

’ملیریا بہت زیادہ تھا اور وحید کو کھانسی تھی جو رکتی نہیں تھی۔ کیمپ کے ڈاکٹر نے اسے شہر کے مرکز میں پھیپھڑوں کے ایک ماہر کو دیکھنے کے لیے بھیجا۔

’باہر گرمی اور چپچپا موسم تھا لیکن کنسلٹنٹ کے پاس ایئر کنڈیشننگ تھی۔ میں یہ سب کچھ جذب کر رہا تھا – صاف ستھرا کمرہ، سفید کوٹ، اس کے چہرے پر مسکراہٹ، مہربان الفاظ۔‘ انہیں ایکسرے کے لیے پڑوس میں کلینک بھیجا گیا۔

’مجھے اس تصویر پر اتنا فخر تھا کہ مجھے اس بات کی فکر نہیں تھی کہ اس میں کیا دکھایا گیا ہے۔ وہاں سے میری طب سے دلچسپی شروع ہوئی۔‘

وہ تپ دق کے مرض میں مبتلا تھے اور ایک سال کے علاج  سے وہ بہتر ہوئے اور اسی ڈاکٹر نے انہیں سٹیتھوسکوپ اور چند نصابی کتابیں دی تھیں۔ ’بیٹا، ایک دن تم ڈاکٹر بنو گے۔

یہاں تک کہ ہمارے تاریک ترین دور میں بھی ہمیں اچھا سلوک ملتا ہے۔ پناہ گزینوں کی حیثیت سے ہم اپنے کمزور، تاریک ترین مقام پر تھے اور میں اس مہربانی کو پکڑے رکھا، جیسا کہ دوسرے پناہ گزین نے کیا۔‘

خانہ جنگی کی افراتفری میں کابل واپس آنے کے بعد، خاندان نے ایک اہم فیصلہ کیا جس نے اس کی زندگی بدل دی۔

انہوں نے اپنے سب سے بڑے سولہ سالہ بیٹے (وحید) کو پناہ گزین ویزے پر برطانیہ بھیجنے کے لیے اپنا مکان فروخت کرکے ہزاروں ڈالر جمع کیے تاکہ وہ تعلیم حاصل کر سکے۔

اسے بہت کم رقم کے ساتھ ہوائی جہاز پر بھیجا گیا جہاں دوسرے کونے پر وہ صرف ایک شخص کو جانتا تھا - حکیم نامی ایک پرانا خاندانی دوست جو لندن میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا تھا۔

سمگلروں کی مدد سے، اسے اور اس کے ساتھ سفر کرنے والے دو دیگر نوجوانوں کو طیارے کی لینڈنگ سے پہلے اپنے افغان پاسپورٹ کو تباہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

انہوں نے انہیں بیت الخلا میں جلانے کی کوشش کی لیکن آگ کا الارم بج گیا۔ سبھی کو گرفتار کر لیا گیا اور لینڈنگ پر اسے نوجوانوں کی جیل ایچ ایم پی فیلتھم بھیج دیا گیا۔

کئی ہفتوں تک حراست میں رہنے کے بعد ایک جج نے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل پناہ گزین کا درجہ دے دیا۔

حکیم نے عدالت میں ان سے ملاقات کی اور انہیں لندن کے فلیٹ میں لے گئے جہاں وہ دوسرے پناہ گزینوں کے ساتھ رہتے تھے۔

اس کے بعد ڈھائی سال تک ان کی سیاسی پناہ کی درخواست پر کارروائی جاری تھی، وہ دن میں تین نوکریاں کرتے تھے – کلینر، باورچی خانے کی پورٹر اور سیلز – اور رات میں وہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پہلے اپنی انگریزی کو بہتر کرنے کے لیے اور پھر نائٹ سکول میں جہاں انہوں نے چھ اے ایس لیول اور پھر تین اے لیول (نفسیات، حیاتیات اور کیمسٹری) سب اے گریڈ میں حاصل کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ میں قدرتی گیس مہیا کرنے والی کمپنی برٹش گیس میں سیلز میں ملازم ایک نوجوان پاکستانی سے ملنے کے بعد، جو حال ہی میں کیمبرج سے فارغ التحصیل ہوئے تھے، انہیں بھی داخلے کی درخواست جمع کرانے کی ترغیب ملی جس کے حصول میں وہ کامیاب ہوگئے۔

ان کے گریڈ اور پرعزم رویے کی وجہ سے انہیں ٹرینیٹی ہال میں جگہ اور معاشی امداد کی پیش کش کی گئی۔

ایک خوشگوار اختتام؟ واقعی ایسا نہیں ہوا۔ وہ جس صدمے سے گزرے تھے ان کا باقاعدگی پیچھا کرتا رہا۔

’جب میں لندن میں سرخ بسوں کو دیکھ رہا تھا، تو وہ ٹینکوں میں تبدیل ہو جاتی تھیں۔ یہ ایک فلیش بیک تھا۔ آدھی رات کو مجھے راکٹ یاد آتے اور میں چھلانگ لگا دیتا۔ یہ پی ٹی ایس ڈی کی علامت ہے۔‘

ان کے کیمبرج کے سال بھی مشکل تھے۔ اپنی پڑھائی میں ان کی انگریزی روانی کے باوجود دوسروں کے معیار کے مطابق نہیں تھی اور انہوں نے تعلیم میں محنت کی۔

’میں اس دنیا میں فٹ نہیں تھا۔ میرا صدمہ تھا اور پھر سماجی پہلو بھی تھے۔ یہ دوسرے طالب علموں کی غلطی نہیں تھی۔ میرا بچپن ان سے بالکل مختلف تھا۔‘

2006 میں ڈاکٹر کے طور پر کوالیفائی کرنے کے بعد، انہوں نے 2008 میں ہارورڈ میڈیکل سکول میں ایک سال گزارا، پھر ریڈیولوجسٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے واپس آئے، پھر اے اینڈ ای میں، پہلے لندن میں، پھر لیورپول میں۔

2008 میں انہوں نے افغانستان میں اپنے اہل خانہ سے دوبارہ ملنے کے لیے پہلا دورہ کیا اور وہاں طبی اور انسانی ہمدردی کے منصوبے قائم کرنے میں مدد کی۔

2014 میں انہوں نے آریان ٹیلی ہیل نامی ایک امدادی تنظیم قائم کی۔ یہ ایک فون ریفرل نظام تھا جو جنوبی سوڈان، یوگینڈا اور یمن  جیسے جنگ زدہ علاقوں میں پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹروں کو علاج کے بارے میں ماہرانہ رہنمائی فراہم کرنے کے لیے فون کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک کے ماہرین تک فوری رسائی کے قابل بناتا ہے۔

ان کی اس تظیم کی کامیابی کی شرح 88 فیصد تھی جنہوں نے کم وسائل والے ہسپتالوں تک پہنچنے والے افراد کی جان بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہیں اقوام متحدہ اور عالمی ادارے صحت کے ساتھ کام کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے جو عالمی ہاٹ سپاٹ کے بارے میں ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی معلومات سے استعفادہ کرنا چاہتے تھے۔ آج وہ فعال طور پر امن کو فروغ دے رہے ہیں اور پورے مشرق وسطی میں بے گھر لوگوں کی آواز بن چکے ہیں۔

ایوارڈز، میڈلز اور دستاویزی فلمیں ان کے کام کا اعتراف ہیں لیکن وحید آریان کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگ پناہ گزینوں کو ایک مختلف نظریے سے دیکھیں جیسا کہ ہماری مشترکہ انسانیت کو پہچاننا۔ آج جیسے جیسے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں وہ پورے مشرق وسطیٰ میں بےگھر ہونے والے کی بھرپور وکالت کر رہے ہیں۔

ان کے بقول: ’میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہر کوئی جو خود کو پناہ گزین کہتا ہے، پناہ گزین نہیں ہے لیکن ہر معاملے کا جائزہ لینے اور ان کی کہانیوں کو سمجھنے کے لیے ایک منصفانہ نظام ہونا چاہیے۔

’میری کہانی بہت سے لوگوں میں سے ایک ہے۔ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ میں اپنی صلاحیت کے بل بوتے کیا کر سکتا ہوں لیکن میرے جیسے بہت سے دوسرے لوگ بھی ہیں۔‘

وہ جذباتی یقین رکھتے ہیں کہ پناہ گزینوں کو غیر انسانی حالات میں دھکیلنا بہت خطرناک ہے۔ آج وحید بہت سے پناہ گزینوں سے رابطے میں ہیں جن کا کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خیر مقدم کیا گیا تھا لیکن اب وہ ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔

ان کے بقول: ’ڈیڑھ سال سے چار یا پانچ لوگوں کو ایک ایک کمرے میں گھسایا گیا ہے جو خود اپنا کھانا بنانے سے بھی قاصر ہیں۔ انہیں تکلیف دہ تجربات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن یہاں جو ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ دوبارہ صدمہ پہنچانے والا ہے۔‘

وحید کا کہنا ہے کہ تمام ذہنی صدموں کا اسی طریقے سے علاج کیا جانا چاہیے جیسا کہ ہم کسی جسمانی چوٹ کا علاج کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’نیشنل ہیلتھ سروس میں کام کرنے والے اے اینڈ ای ڈاکٹر کے طور پر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ بار بار ہر طرح کے صدموں کے ساتھ آتے ہیں، جن میں خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے، منشیات اور الکوحل کی لت شامل ہے۔

’ہم ان کا علاج کرتے ہیں اور انہیں معاشرے میں واپس بھیج دیتے ہیں لیکن مسئلہ پھر بھی قائم ہے۔‘

صدمے کے دیرپا اثرات سے نمٹنے میں ناکامی، چاہے وہ پناہ گزینوں کے لیے ہو یا دوسروں کے لیے، ان کے نئے منصوبے آریان ویل بیئنگ کے قیام کا باعث بنی۔

مقامی حکام اور این ایچ ایس کے ساتھ شراکت کے ذریعے آن لائن اور ذاتی طور پر طبی ماہر نفسیات، رجسٹرڈ تھراپسٹ اور ذاتی ٹرینرز کے ذریعے یہ ان لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنی دکھی زندگی سے نکل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ان کی اپنی زندگی میں، فٹ رہنے اور باقاعدگی سے ورزش کرنے سے انہیں صدمے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور انہوں نے بطور ایک ڈاکٹر اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنے پیشے کو ہی ڈھال بنا لی جو انہیں دوبارہ مایوسی میں جانے سے روکنے میں مدد کرتیئ ہے لیکن یہ آسان نہیں ہے۔

وحید کی والدہ کا 2020 میں کینسر سے انتقال ہو گیا تھا لیکن ان کے والد تاج محمد اب بھی اپنے ایک بھائی اور بہن کے ساتھ کابل میں رہتے ہیں۔

یہ سب طالبان حکومت کی سختیوں کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے نزدیک گھر جانا ’کھٹا میٹھا‘ احساس ہے اور تکلیف دہ یادیں ہمیشہ دماغ میں تازہ رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خوراک اور ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے وہاں کی صورت حال خوف ناک ہے۔ ’دنیا نے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ آپ سیاسی تعلقات ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ چار کروڑ لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔‘

وہ پرعزم ہیں لیکن ان کا اصرار ہے کہ ’میری زندگی ہمدردی سے بدل گئی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’ہمیں تمام لوگوں کے ساتھ ان کے رنگ و نسل سے قطع نظر انسانیت کے ساتھ پیش آنے کی ضرورت ہے۔‘

معاشرے کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے طرز عمل سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی کہانی سناتے رہنے میں خوش رہتے ہیں اگرچہ اس کی قیمت بہت زیادہ تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی