عالمی کپ اور بدشُگونی

ورلڈ کپ ہارنے کے غم سے ابھی تک لوگ نڈھال ہیں مگر کرکٹ کی بدولت نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا نریندر مودی کا داؤ پیچ شاید صحیح نہیں بیٹھا۔

آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز 19 نومبر، 2023 کو احمد آباد میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹرافی وصول کر رہے ہیں (اے ایف پی/ سجاد حسین)

ون ڈے کرکٹ کے عالمی کپ کا آخری میچ ہارنے کا غم ابھی کم نہیں ہوا تھا کہ انڈین ٹی وی چینلز کی سکرینز پر ایک طرف مودی کو کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم میں انہیں دلاسہ دیتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب راہل گاندھی مودی کو ’پنوتی‘ کا خطاب دے رہے ہیں۔

بظاہر لگتا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کو سیاسی لبادے میں اوڑھنے کی بھرپور تیاری کی گئی تھی، مگر افسوس کرکٹ کپ کا خواب نہ صرف چور چور ہوگیا بلکہ قومی اور انتخابی سیاست میں ایک سوال بھی کھڑا ہو گیا۔ 

اس سیاسی اکھاڑے میں 10 میچوں میں انڈین ٹیم کی بہتر کارکردگی کسی کو یاد نہیں، کل تک کوہلی اور شامی ہیرو تھے لیکن فائنل میچ کیا ہارے سوشل میڈیا نے زیرو بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہ تحریر آپ کالم نگار کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 جب سوشل میڈیا پر ’پنوتی‘ (یعنی سبز قدم) ٹرینڈ بن گیا تو یہ کروڑوں کرکٹ مداحوں کے لیے مسکرانے کی وجہ بنی جو میچ ہارنے کے بعد ابھی تک شدید صدمے میں تھے۔

برصغیر کے ڈی این اے میں کرکٹ کا جین بہت مضبوط ہے۔ مزا تب آتا ہے کہ جب انڈیا اور پاکستان میچ کھیل رہے ہوں۔ 

اس بار پاکستان پہلے ہی خارج ہو گیا، مگر انڈیا نے لگاتار میچ جیتنے کے بعد اپنی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی کو عالمی کپ جیتنے کی امید دلائی تھی۔

احمد آباد میں سجاوٹ، پٹاخے اور ڈھول باجے تیار رکھے گئے تھے۔ اس کا سہرا سب نریندر مودی کے سر جانے والا تھا جنہوں نے آخری میچ کے لیے گجرات کا انتخاب کروایا تھا۔

انڈیا کے سب سے بڑے سٹیڈیم میں جہاں تقریباً ڈیڑھ لاکھ شائقین کرکٹ موجود تھے، ایسے وقت میں اس سے بڑا پلیٹ فارم کہاں ممکن تھا جب پانچ ریاستیں ووٹنگ کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔

بقول صحافی ستیندر جین ’بی سی سی آئی کے سربراہ جے شاہ نے مودی کے لیے پچ، سٹیڈیم، پی آر، میڈیا، سب کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی مگر شومئی قسمت، جب کپ کسی اور کے کھاتے میں چلا گیا تو سٹیڈیم کی زمین پیروں کے نیچے سے کھسکتی گئی۔‘

کیا ورلڈ کپ کے پہلے اور آخری میچ کو وزیراعظم کے نام پر بننے والے اس سٹیڈیم میں کھیلنے پر آئی سی سی پر کوئی دباو ڈالا گیا تھا؟ اپوزیشن کے بعض سیاسی کارکنوں نے یہ سوال اٹھایا۔

 آئی سی سی یا بی سی سی آئی سے کوئی جواب نہیں ملا۔ چند رپورٹوں میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ میچ جیتنے سے بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا تھا جس کے لیے ہزاروں شائقین کے علاوہ بی جے پی کے کارکنوں کو سٹیڈیم بلایا گیا بلکہ کسی نے یہاں تک کہہ دیا کہ انڈین ٹیم کی وردی بھی کارکنوں کو پہننے کے لیے فراہم کی گئی تھی۔ بی جے پی نے اس پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔

واقعی میچ جیتنے کا مزا کچھ اور ہوتا لیکن میچ ہارنے کے سبب نہ صرف کرکٹ کے انڈین مداح آسٹریلیا کا اعزاز حاصل کرنے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئے بلکہ کارکنان چپکے سے پچھلی گلیوں سے نکل گئے جس کو عالمی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

وزیراعظم مودی کی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہونے والی تصویریں مین سٹریم میڈیا پر بدستور دکھائی جا رہی تھیں مگر اس ہنسی میں وہ جان نظر نہیں آ رہی تھی جو میچ جیتنے پر نظر آتی۔

اتنا ہی نہیں بلکہ احمدآباد کے ایک صحافی کے بقول ’گجرات پہنچنے کے فوراً بعد مودی کو جب انڈیا کی تین وکٹیں گرنے کی خبر پہنچائی گئی تو انہوں نے آدھے گھنٹے کا سفر تین گھنٹے میں طے کرنے کو ترجیح دی۔‘

صحافی کہتے ہیں کہ ’مودی مخمصے میں تھے کہ سٹیڈیم جانا چاہیے یا نہیں پھر یہ کسی کو گمان نہیں تھا کہ صدمے سے دوچار بعض مداح اور سیاست دان یہ بات ظاہر کریں گے کہ کرکٹ کے میدان میں مودی کا آنا بدشُگونی تھا۔‘

کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ان سے نہ آنے کی استدعا کی گئی تھی۔ راہل گاندھی نے تو حد کردی جب انہوں نے مودی کے لیے پنوتی یا بدشگونی کا لفظ دہرایا۔

ان حالات میں یہ کون طے کرے گا کہ ٹیم کی ناقص کارکردگی کی بجائے مودی کو پنوتی کہنا موزوں ہے؟ کیا مذہبی جنونیت اب اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ مودی کو ہی بدشگونی بتایا جا رہا ہے؟

بیشتر ہندو شُگن یا اپ شُگن یا پنوتی کو مانتے ہیں، اسی لیے کسی بھی تقریب، شادی بیاہ سے پہلے یہ نجومی یا جوتشی یا سادھووں سے صحیح وقت کا تعین کرواتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 مودی پر پنوتی کا خطاب شاید کافی نہیں تھا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اعتراض اٹھایا کہ مودی کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم میں کیسے چلے گئے جس کی کرکٹ قوانین کے تحت اجازت نہیں ہوتی۔

اگر وہ دلاسہ دینے گئے تھے تو فوٹوگرافر کو ساتھ لینے کی کیا ضرورت تھی؟

ترینمول کانگریس کے رہنما اور سابق کرکٹر کیرتی آزاد نے کہا کہ ’کیا مودی کو آئی سی سی نے ڈریسنگ روم میں جا کر کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے کی اجازت دی تھی یہ بات واضح ہونی چاہیے۔

’اس طرح غلط روایات کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے اور کل کو سیاست دانوں کو ہمارے بیڈ رومز میں آنے کی اجازت ہوگی۔‘

یاد رہے پنوتی کا لقب وزیراعظم کو چندریان مشن ون کی ناکامی کے بعد بھی ملا تھا۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے انتخابی مہم کے دوران ایک بڑے ہجوم سے جب یہ کہا کہ ہمارے لڑکے اچھا بھلا کرکٹ کھیل رہے تھے تو لوگوں نے زور سے پنوتی پنوتی پکار کر یہ اشارہ دیا کہ مودی کے آنے سے وہ میچ ہار گئے، پھر راہل نے مودی کو پنوتی بتایا، مجمعے میں لوگوں کے نعرے، شور اور قہقہے زور سے سُنے گئے۔

بی جے پی نے فوراً اس کا سخت نوٹس لے کر اپنی سوشل میڈیا ٹیم اور مین سٹریم میڈیا کو متحرک کیا، اس کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنے کی صلاح دی اور وزیراعظم کی تضحیک کو اچھالنے کی بھرپور کوشش کی، شاید پانچ ریاستی انتخابات کے عمل پر اس کا مثبت اثر پڑسکے۔

سوشل میڈیا پر جہاں آسٹریلوی کپتان کے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی وہیں عالمی چمپیئن کو کپ دیتے وقت مودی کے جلدی سے چلے جانے والے کلپ کو اتنا وائرل کردیا گیا کہ پارٹی کو بعد میں اپنی پوری فوٹیج کو سوشل میڈیا پر چلانا پڑا۔

اپوزیشن کی کئی جماعتوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ ملک کے تمام اداروں کو جانب دار بنانے کے بعد اب صرف کرکٹ کا ادارہ بچا تھا، جیت کی صورت میں اس پر بھی بی جے پی کا ٹھپہ لگنے والا تھا کیونکہ مودی ہمیشہ جیت کو اپنی کارکردگی گردانتے ہیں اور ہار سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔

کرکٹ کپ ہارنے کے غم سے ابھی تک لوگ نڈھال ہیں مگر کرکٹ کی بدولت نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا یہ داؤ پیچ شاید صحیح نہیں بیٹھا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ