ہم سے کوئی بھی خوفزدہ نہیں

ہمیں خود اپنی جہالت سے خوفزدہ ہو کر علم و عمل اور شعور و آگہی کی طرف راغب ہونے کی ضرورت ہے کہ بقول ہمارے، یہی ہمارا ورثہ ہے۔     

 یہ خیال ہمارے لیے بھنگ، چرس، افیون اور ہیروئن کے نشے سے بھی بڑھ کر ہے کہ دنیا ہم سے خوفزدہ ہے (اے ایف پی)

دو پوڈری کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیروئن سے مستفید ہو رہے تھے۔ جب دونوں مکمل جہاز بن چکے تو ایک نے ترنگ میں آ کر اسی ڈھیر پر لیٹتے ہوتے ہوئے کہا، ’یار میں سوچ رہا ہوں کہ یہ دنیا خرید لوں۔‘

دوسرا اس سے بھی زیادہ بلندی پر محو پرواز تھا۔ وہ قہقہہ لگا کر بولا، ’ارے بے وقوف! جب میں نے بیچنی ہی نہیں تو تم خریدو گے کہاں سے؟‘

پوڈریوں کی بات یہیں پر ختم کرتے ہوئے کچھ سنجیدہ باتیں کرتے ہیں۔

فرمایا جاتا ہے، ’جب تک ایک بھی مسلمان دنیا میں موجود ہے، القدس اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بن سکتا،‘ ’کشمیر کے مسئلے پر بھارت سلامتی کونسل کے علاوہ دنیا بھر میں رسوا ہو چکا،‘ ’پوری امہ سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے،‘ ’دنیا بھر کے مسلمان اس عظیم ایٹمی طاقت کی قیادت میں متحد ہیں،‘ ’دنیا عالم اسلام کے اتحاد اور جذبۂ جہاد سے خوفزدہ ہے،‘ ’طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔‘

خوب! خود اپنے دل و دماغ کو زحمت نہیں دینی۔ اپنی ہر کوتاہی اور بے وقوفی کو امریکی سازش کی افیون سمجھ کے کھا لینا ہے اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادیوں کو یہود و ہنود کی ریشہ دوانیاں قرار دے کر یہ بھنگ پیتے جانا ہے۔

کشمیر جیسے مسئلے پر اپنی نااہلی اور کمزور خارجہ پالیسی کے طفیل دنیا میں تنہا ہوئے، حتیٰ کہ بھارتی وزیراعظم کو ’سیسہ پلائی دیوار‘ کی جانب سے چھ اعلیٰ سول ایوارڈ مل چکے تو ’ہم عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہیں‘ برانڈ ہیروئن کے کش لگا کر مطمئن ہو گئے۔

جلال میں آئے تو کشمیر کی آزادی کے لیے قیامت خیز گرمی میں اپنی ہی شاہراہیں بند کر کے ایمبولینسوں میں تڑپتے مریض دکھا کر بھارت کے منہ پر کالک مل دی اور جان لیوا حبس میں سکول وینوں میں بلکتے اپنے ہی بچوں کو سڑکوں پر محبوس کر کے نریندر مودی کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔

کبھی کسی نے ہم وطنوں پر مہنگائی کا بم گرا کر دشمن کے چھکے چھڑا دیے، کبھی کسی نے اپنی ہی بچیوں کے سکول جلا کر امریکہ کو سبق سکھا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی سرزمین پر کوئی نئی شورش برپا کر کے اسرائیل کے دانت کھٹے کر دیے، یا کسی نان ایشو پر اپنی توانائیاں ضائع کر کے طاغوت کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔

کسی نظریاتی مخالف کو کافر قرار دے کر کفار کی نیندیں حرام کر دیں، یا اسے غدار اور دشمن کا ایجنٹ بتا کر کے دہلی سے لال قلعے پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ فحاشی کے خلاف جلوس نکال کر یہود و ہنود کی جڑیں کھوکھلی کر دیں، یا دہشت گردوں کے حق میں بیان جاری فرما کر ملک کی نیک نامی میں اضافہ کر دیا۔

سپر پاورز کی جنگ میں کود کر اپنے دامن میں چنگاریاں بھر لیں، یا عوامی حقوق سے کھلواڑ کر کے خود کو مہذب دنیا میں لا کھڑا کیا۔ کبھی وطن عزیز کو خاک و خون میں نہلانے والے اپنے ناراض بھائی ٹھہرے، کبھی دہشت گرد۔ دنیا میں پہچان کشکول بردارکے نام سے ہے مگرایمان اوراعصاب کی مضبوطی کا یہ عالم کہ’ ہماری قیادت میں متحد امہ سے دنیائے کفار خوفزدہ ہے۔‘

عدمؔ نے کہا ہے ’ہنستا تو ہو گا آپ بھی یزداں کبھی کبھی۔‘

فرمایا جاتا ہے ’پاناما کی نہر سے لے کر فجی کے جزیروں تک، جہاں ایک بھی مسلمان موجود ہے، ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں‘ اور ’ہم نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے مسائل کو اپنے مسائل اور ان کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھا ہے‘۔ بجا مگر کیا ہمارے ساتھ بھی کوئی کھڑا ہے یا کبھی کسی نے ہمارے دشمن کو اپنا دشمن کہا ہے؟

ہے کوئی مردِ جری جو ہم کج اداؤں کو تصوراتی امہ اور اس کی خود ساختہ قیادت کے خواب سے جگا کر سمجھا سکے کہ سائیں لوگو، دنیا میں جذبات نہیں، مفادات کا سکہ چلتا ہے۔

خارجہ تعلقات مذہب کی بنیاد پر نہیں، تجارتی اور سیاسی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ دنیا میں باعزت مقام پانے کے لیے پہلے اپنے وطن کی معیشت اوراستحکام کی ترجیحات ہوتی ہیں اور پھر دوسروں کے معاملات کی۔

ہے کوئی باہمت، جو ہم پارساؤں کو جھنجھوڑ کر بتا سکے کہ اللہ والو، اس دنیا میں تم سے کوئی بھی خوفزدہ نہیں۔ کیا خلا میں بستیاں بسانے والے ہوائی قلعے تعمیر کرنے والوں سے خوفزدہ ہوں گے؟

کیا زمین اور کروڑوں نوری سال دور ستاروں کے درمیان فاصلوں کی پیمائش کرنے والے طولِ شب فراق ماپنے والوں سے ڈریں گے؟ گذشتہ پانچ سو سالوں میں کسی قابل ذکر ایجاد کا سہرا جن کے سر نہیں، کیا وہ نت نئے محیرالعقول سائنسی آلات ایجاد کرنے والوں سے خوف کھائیں گے؟

اختلاف، علم اور تحقیق جن کی لغت سے خارج ہیں، کیا وہ جدید سائنس، تعلیم اور ریسرچ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والوں کے لیے خطرہ ہیں؟

جس امہ کے دامن میں ایک بھی قابل ذکر تعلیمی ادارہ نہیں، کیا اس کی ہیبت سے دنیا کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیاں رکھنے والے کانپ رہے ہیں؟ جس سیسہ پلائی دیوار میں روز ایک نیا سوراخ ہوتا ہے، اس سے بھلا دشمنوں کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

جن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹاتے ہوئے زمین کی طنابین کھینچ کررکھ دی ہیں،کیا ان کے لیے گول دائرے میں سفرکرنے والے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں؟

کیا جدید علوم کے زور پر کائنات کے اسرار و رموز کھولنے والے طلاق و حلالہ کے فقہی مسائل میں غوطہ زن نیکوکاروں سے خوفزدہ ہوسکتے ہیں؟ کیا دیمک زدہ نظریات اجرام فلکی سر کرنے والوں کو شکست دیں گے؟ جن کا خلائی جہاز چار ارب 70 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پلوٹو کو چھو سکتا ہے، کیا ان پر ننگی آنکھ سےعید کا چاند ڈھونڈنے والے غلبہ پائیں گے؟

جن کے سائنس دان زمین جیسے 8.8 ارب سیاروں کا کھوج لگا سکتے ہیں، وہ ستاروں کی چالوں میں اپنی قسمت کا حال جاننے والوں سے خوف کھائیں گے؟ کیا مریخ کی دھول اڑانے والے سائنس کی بھد اڑانے والوں سے ڈریں گے؟ کیا سو فیصد شرح خواندگی رکھنے والے اپنے بچوں کی تعلیم پر جی ڈی پی کا دو فیصد خرچ کرنے والوں کے خلاف سازشیں کریں گے؟

اور کیا جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اگلی صدی تک تھری ڈی پرنٹڈ گھر، عمارتیں، فرنیچر اور پسندیدہ ڈشیں ڈاؤن لوڈ کرنے کا عزم رکھنے والے جہالت کی تلوار کے زور پر دنیا کو فتح کرنے کا عزم رکھنے والوں سے ہوشیار رہیں گے؟

محترم پارساؤ اور تہجد گزارو! 21ویں صدی میں طاقت اور ترقی کا راز جدید سائنس و ٹیکنالوجی، غور و فکر اور تحقیق و تخلیق میں پوشیدہ ہے۔

اگر ہم نے خود ہی یہ رستہ چھوڑ کر جہل کا انتخاب کر لیا ہے اور خود کو دشمن کے لیے تر نوالہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر اغیار کو الزام دینا چہ معنی دارد؟

گذشتہ کالم میں یورپ میں آ نے والے ایک انقلاب کا ذکر کیا تھا۔ تاریخ کف افسوس ملتی ہے کہ پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ کو تاریکیوں سے نکال کر علم و آگہی کے رستے پر گامزن کرنے والی تحریک کی روشنی مسلم ساحلوں تک نہ پہنچ سکی۔

امہ سیسہ پلائی دیوار ہی رہی اور اغیار خلاؤں کو مسخر کرتے اگلی دنیاؤں میں پہنچ گئے۔ کوئی ہمیں سیسہ پلائی دیوارسے اتارکر دانش کی فصیل کی سواری پر راضی کر سکا، نہ دنیا کو فتح کرنے کا ہمارا شوق ماند پڑا۔

پس یہ خیال ہمارے لیے بھنگ، چرس، افیون اور ہیروئن کے نشے سے بھی بڑھ کر ہے کہ دنیا ہم سے خوفزدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوراتی امہ اور اس کے خیالی قائد سے کوئی بھی خوفزدہ نہیں۔ ہمیں خود اپنی جہالت سے خوفزدہ ہو کر علم و عمل اور شعور و آگہی کی طرف راغب ہونے کی ضرورت ہے کہ بقول ہمارے، یہی ہمارا ورثہ ہے۔     

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ