ٹک ٹاک: لائیکس کی دنیا میں دکھ کا مول نہیں

پہلے موسیقی اداسی کو جھیلنے کا طریقہ تھی، اب یہ ذات پر فخر کا ڈھنڈورا ہے۔ جہاں پہلے درد ایک جمالیاتی تجربہ تھا، وہاں اب ٹریکٹر، اسلحہ اور ’تاؤ والی مونچھیں‘ کامیابی کا معیار ہیں۔ پنجاب کے دیہاتوں میں شہد جیسی میٹھی لوک موسیقی اب ٹک ٹاک کے ایلگوردم میں گم

19 اپریل، 2024 کو پیرس میں ایک شخص کے سمارٹ فون پر ٹک ٹاک کا لوگو نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

اسلام آباد بیٹھ کر آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ٹک ٹاک کی لت کیا ہے۔ کبھی گاؤں کی زندگی کھیت کھلیان کی زندگی تھی، فطرت سے جڑے ہوئے لوگ، سادہ، چھوٹی سی دنیا میں خوش رہنے والے۔ یہ سب کچھ بدل چکا ہے۔ فطرت کی جگہ ٹک ٹاک لے چکی، ایسا کریز کہ یقین نہیں آتا۔

درزی کپڑے سی رہے ہیں، ایک آنکھ موبائل کی سکرین پر ہے، دھوبی استری کرتے ہوئے سکرین پر انگلی پھیرنا نہیں بھولتا، موچی ایک جوتا رکھتا ہے، دو چار ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھ کر دوسرا جوتا پکڑے گا۔ چارہ کاٹتی درانتی رک رک کر چلتی ہے کہ ٹک ٹاک لا سپیڈ بریکر آڑے آتا ہے۔

آپ پیسے دیتے ہیں، وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اپنی نظریں برابر سکرین پر رکھتے ہیں۔ کسی کن ٹٹے کی بات کرتے ہوئے حساب کتاب کلئیر کرنے میں دس منٹ لگ جاتے ہیں۔

ٹک ٹاک دیکھتے ہوئے موبائل کی سکرین پر انگلی چلتی نہیں بہتی ہے، بیک گراؤنڈ میں شاعری یا میوزک ہوتا ہے۔ یہ وہ موسیقی نہیں جو گاؤں کے لوگوں کو اداس کرتی تھی، جس میں مونجھ تھی، درد اور بے پناہ محبت کا احساس تھا، خود سپردگی زیادہ مناسب لفظ ہے شاید۔

اب موسیقی تیز اور الفاظ نوکیلے ہوتے ہیں، مرہم کی جگہ دل چھلنی کرنے والے۔ میوزک سنبھالنے کے لیے نہیں، شریکاں نوں ساڑنے کے لیے ہوتا ہے۔

 ایک وقت تھا جب گانے ریڈیو یا کیسٹ کی حدود میں قید تھے اور سننے والا خود انتخاب کرتا تھا کہ کیا سننا ہے۔ مگر اب ڈیجیٹل دنیا نہ صرف ہماری پسند کو سمجھتی ہے بلکہ اسے بڑھاتی بھی ہے۔ اگر آپ نے ایک اداس گانا سنا، تو اگلا گانا بھی اسی فضا کا ہو گا، اور اس کے بعد والا بھی۔ یوں ایک غیر محسوس تسلسل بنتا ہے۔ یہ غیر محسوس تسلسل پنجاب کے دیہاتوں میں تفاخر ہے۔

پہلے ہمارے خطے کے لوگ اداس موسیقی اور اب مار دھاڑ والی موسیقی کو کیوں پسند کر رہے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اب بات صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہتی بلکہ نفسیات کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ لوگ اداس میوزک اس لیے سنتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے جذبات کو سمجھنے اور ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اداسی کو سننا بعض اوقات اسے برداشت کرنے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اداس گانا سن کر انسان خود کو تنہا نہیں بلکہ کسی وسیع انسانی تجربے کا حصہ محسوس کرتا ہے۔

پاکستانی تناظر میں اس رجحان کو سمجھنے کے لیے مقامی میوزک انڈسٹری کا جائزہ بھی ضروری ہے۔  آڈیو کیسٹ کے بادشاہ گلوکار اور ان سے جڑی تہذیب نے اداسی کو صرف ایک احساس کے طور پر نہیں بلکہ ایک جمالیاتی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں درد بھی خوبصورت لگتا ہے اور ٹوٹنا بھی ایک فن محسوس ہوتا ہے۔ رونے دھونے کا مطلب لوزر نہیں تھا۔

اداسی سے یہی قربت ایک اور رخ بھی رکھتی ہے، اور وہ ہے ’رومینیشن‘ یعنی ایک ہی خیال میں بار بار الجھ جانا۔ جو افراد پہلے ہی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، وہ اداس میوزک کو ایک طرح کے دائرے میں تبدیل کر سکتے ہیں جہاں ہر نیا گانا پچھلے زخم کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ اس کیفیت میں میوزک ایک ذریعہ نہیں رہتا بلکہ ایک عکس بن جاتا ہے جو بار بار وہی دکھ لوٹاتا ہے، اور انسان اس عکس سے نکل نہیں پاتا۔

ٹک ٹاک کے دور میں یہ عکس نسلی تفاخر ہے، کم از کم پنجاب میں ایسا ہی ہے۔ ٹک ٹاک  جیسے پلیٹ فارمز اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ یہاں جذبات کو مختصر اور تیز رفتار شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔

 ایک گانے کا صرف ایک ٹکڑا، چہرے کا ایک تاثر، اور ایک جملہ، یہ سب مل کر ایک فوری جذباتی اثر پیدا کرتے ہیں، مگر اس اثر کو سمجھنے یا اس سے نکلنے کا وقت نہیں دیتے۔ نتیجتاً، صارف اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتا ہے، مگر اس کا ذہن پچھلے احساس سے پوری طرح آزاد نہیں ہوتا۔ یوں ایک سلسلہ بنتا ہے جہاں تیر آر پار ہونے کے بجائے ہلکا سا چھو کر گزر جاتے ہیں۔

یہ رجحان ٹک ٹاک کے الگوردم سے بھی جڑا ہوا ہے، جو ایسی ویڈیوز کو زیادہ پھیلاتا ہے جن میں طاقت، رعب اور نمایاں شناخت کا اظہار ہو۔ جب کوئی نوجوان اپنی زمین، ٹریکٹر، یا اسلحہ کے ساتھ ویڈیو بناتا ہے اور اسے زیادہ ویوز ملتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں دلوں میں یہ حسرت انگڑائی لیتی ہے کہ ہم بھی ایسے ہوں، تاؤ والی مونچھیں، گاڑیاں، لش پش۔ ہزاروں نئے ٹک ٹاکر میدان میں آتے ہیں، اور آہستہ آہستہ ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں ذات پر فخر کرنا نہ صرف عام بلکہ مقبول بھی ہو جاتا ہے۔ متبادل یا تنقیدی آوازیں، پچاس ویوز پر منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں۔

انسٹاگرام، یوٹیوب یا فیس بک کی نسبت ٹک ٹاک ایسے افراد کے لیے استعمال کرنا بہت آسان ہے جو پڑھے لکھے نہیں، اس طرح پنجاب کے نوجوانوں کے لیے ٹک ٹاک ہاٹ فیورٹ ہے، جہاں وہ انجوائے کر سکتے ہیں، اپنی سماجی حیثیت اور طاقت کو دکھا سکتے ہیں۔

اکثر طاقت کا تعلق ذات سے جڑا دیا، ہوتا ہے۔ وہ برادریاں جو معاشی یا سماجی طور پر کمزور ہیں، اس ڈیجیٹل منظرنامے میں کم کم نظر آتی ہیں۔ یوں ایک غیر اعلانیہ درجہ بندی سامنے آتی ہے جس میں کچھ شناختیں زیادہ نمایاں اور کچھ تقریباً غائب ہو جاتی ہیں۔ اداس موسیقی بھی کم تر درجے کی چیز بن کر رہ گئی۔

اس طرح موسیقی کا پلیٹ فارم بدلنے سے اس کے رجحانات بھی تبدیل ہوئے۔ ڈیجیٹل عہد میں انسان شدید تنہا اور بوریت کا شکار ہے، لیکن زندگی ٹک ٹاک کی سپیڈ سے چلے جا رہی ہے۔

موسیقی، اداس موسیقی، شہد جیسی میٹھی لوک موسیقی ٹک ٹاک کے شور میں گم ہو رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ