اسلام آباد: فارم ہاؤس میں ڈکیتی کے دوران کاروباری شخصیت عامر اعوان قتل

اس واردات کی ایف آئی آر کے مطابق اتوار کی رات پانچ سے چھ مسلح افراد فارم ہاؤس کے بیرونی حصے میں باڑ کاٹ کر اندر داخل ہوئے۔

ٹویوٹا اسلام آباد موٹرز کے فیس بک پیچ پر 20 فروری 2017 کی ویڈیو کا سکرین گریب جس میں عامر اعوان بطور چیف گیسٹ مارگلہ پولیس سٹیشن کی پرائز ڈسٹریبیوشن تقریب میں شرکت کر رہے ہیں (فیس بک/ سکرین گریب / ٹویوٹا اسلام آباد موٹرز)

اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع آرچرڈ سکیم کے ایک فارم ہاؤس میں مبینہ ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ٹیوٹا موٹرز سے وابستہ کاروباری شخصیت عامر اعوان کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترجمان پولیس نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور چھ سے سات ٹیمیں واقعے کا کھوج لگانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس واردات کی ایف آئی آر کے مطابق اتوار کی رات پانچ سے چھ مسلح افراد فارم ہاؤس کے بیرونی حصے میں باڑ کاٹ کر اندر داخل ہوئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزمان نے ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی گارڈ کو قابو کر کے ایک کمرے میں بند کر دیا اور بعد ازاں کمزور گرِل والی کھڑکی کاٹ کر رہائشی حصے میں داخل ہوئے۔

مزاحمت پر مسلح افراد کی فائرنگ سے عامر اعوان شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں ابتدائی طور پر پمز پہنچایا گیا جہاں سے بعد ازاں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ حکام کے مطابق ملزمان فارم ہاؤس سے نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا لے کر فرار ہو گئے۔

پولیس اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو اسلحہ سمیت فارم ہاؤس میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق کیا ہوا؟

پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 30 مارچ 2026 کو پیش آیا اور اطلاع آن لائن موصول ہونے پر مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پانچ سے چھ نامعلوم مسلح افراد فارم ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے باڑ کاٹ کر اندر جانے کا راستہ بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا لے کر فرار ہو گئے۔ مقدمے میں ڈکیتی کے دوران اسلحہ استعمال کرنے سے متعلق دفعات، جن میں دفعہ 397 بھی شامل ہے، درج کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے اور مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ  

 طلال چوہدری نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ سنگین نوعیت کا ہے اور مکمل تحقیقات کے بعد تفصیلات میڈیا کے سامنے لائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اسلام آباد میں مجموعی طور پر جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے اور اس کیس میں بھی ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔

شریف اللہ خان ترجمان ڈی آئی جی نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس اس پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی، انہیں میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے چھ سے سات پولیس ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ایک ٹیم فرانزک شواہد پر کام کر رہی ہے جبکہ دوسری ٹیمیں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ ڈکیتی کی کوشش معلوم ہوتا ہے اور بظاہر ذاتی دشمنی کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان