پیاسے تھر پر ہریالی کی مسکراہٹ

حالیہ مون سون بارشوں کے بعد تھر سے بھوک، پیاس اور افلاس کی شدت میں کمی کی نوید آرہی ہے۔

12

بارشوں کے بعد ونگو پتن سے مٹھی جانے والے راستے کا ایک منظر جہاں تاحد نگاہ قحط سالی کے دوران ویران نظر آنے والا علاقہ سبزے کی چادر اوڑھے نظر آتا ہے (تصویر امر گرڑو)

پچھلے کئی سالوں سے سندھ کے صحرائے تھر سے بھوک، پیاس، نوزائیدہ بچوں کی اموات اور افلاس سے تنگ نوجوان خواتین کی خودکشی کی خبریں قومی اور عالمی میڈیا میں چھپتی رہی ہیں، مگر حالیہ مون سون بارشوں کے بعد تھر سے بھوک، پیاس اور افلاس کم ہونے کی نوید آرہی ہے۔

سندھ کے مشرقی حصے میں بھارتی سرحد سے متصل اور بیس ہزار مربع کلومیٹر پر محیط صحرائےِ تھر دنیا کے دیگر صحراؤں سے یکسر منفرد ہے۔

قحط سالی کے دوران صحرائے تھر بنجر اور ویران نظر آتا ہے، میلوں تک پھیلے ریت کے ٹیلے اجڑے ہوئے اور سبزہ تو دور، صحرائی درخت بھی سوکھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اگر ایک اچھی بارش ہوجائے تو یہ منفرد صحرا اپنی صورت بدل لیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بارش کے بعد تھر ہریالی کی چادر اوڑھ لیتا ہے، چاروں طرف گھاس اُگ آتی ہے، سوکھے درختوں سے کونپلیں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں اور جگہ جگہ قدرتی تالاب جنھیں مقامی زباں میں ترائی کہا جاتا ہے، پانی سے بھر جاتے ہیں۔

بارش کے بعد مویشیوں کے لیے سبزہ بلکہ انسانوں کے لیے مقامی سبزیاں بشمول کھنبی، مریڑو، پپ، سبزی کے طور پر استعمال ہونے والے تربوزے، گوار بھی وافر مقدار میں اُگتے ہیں، جنھیں مقامی لوگ غذائیت سے بھرپور سبزیاں سمجھتے ہیں۔

شدید قحط سالی کے دوراں انسانوں کے لیے خوراک اور مویشیوں کے لیے چارہ ختم ہوجاتا ہے، ایسے میں مقامی لوگ اپنے مویشیوں کے ساتھ نقل مکانی کرکے سندھ کے ان اضلاع میں چلے جاتے ہیں جہاں دریائے سندھ کے پانی پر زراعت ہوتی ہے۔ بارش کے بعد وہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اس سال اچھی بارشوں کے بعد تھر یکسر تبدیل ہو گیا ہے اور مقامی لوگ امید کررہے ہیں رواں سال انھیں قحط سالی سے نجات ملے گی۔ بارش کے بعد ملک بھر سے سیاح تھر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی