فلم فیئر ایوارڈز کی تاریخ کے پانچ بڑے گھپلے

  اگرچہ آسکرز سمیت کسی بھی ایوارڈ شو کی تاریخ تنازعات سے خالی نہیں مگر جب فنکار خود ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کریں کہ ہاں انہوں نے فلم فیئر ایوارڈ پیسوں کے ذریعے ’خریدا‘ تو کیا اعتبار باقی رہ جاتا ہے۔

بالی وڈ کی تاریخ کی دو عظیم فلمیں ’پاکیزہ‘ (دائیں) اور ’مغل اعظم‘ فلم فیئر ایوارڈ سے محروم رہیں (محل پروڈکشنز، سٹرلنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن)

شاہ رخ خان کے پرستار آج کل خفا ہیں کہ مشکل وقت میں بالی وڈ کو بچایا کنگ خان نے لیکن بہترین اداکار کی فلم فیئر ٹرافی فلم ’اینیمل‘ کے لیے رنبیر کپور لے اڑے۔ انہیں شکوہ ہے کہ 2023 میں 25 سو کروڑ سے زیادہ کمائی کرنے والے بادشاہ کو سب سے بڑے ایوارڈ شو میں لفٹ نہیں کروائی گئی۔

اتوار کی شب گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں سجنے والا یہ میلہ ’12 فیل‘ اور ’اینیمل‘ کے نام رہا جبکہ سال 2023 میں ریکارڈ توڑ بزنس کرنے والی شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ بہترین ہدایت کاری جبکہ ’ڈنکی‘ اور ’جوان‘ بہترین اداکاری کی ریس میں شامل ہونے کے باوجود ہار گئیں۔

ودو ونود چوپڑا 12 فیل کی وجہ سے 34 برس بعد بہترین ہدایت کار کے امتحان میں پاس ہو گئے۔ یہ 1990 میں ’پرندہ‘ کے بعد ان کی دوسری کامیابی ہے۔

شاہ رخ کے پرستاروں کے پاس کوئی دلیل نہیں لیکن وہ اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ بظاہر اس میں جانبداری کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا لیکن سوشل میڈیا کی ٹرول بریگیڈ فلم فیئر کی تاریخ سے چن چن کر ایسی مثالیں سامنے لا رہی ہے جس سے پوری دال کالی نظر آئے۔

اگرچہ آسکرز سمیت کسی بھی ایوارڈ شو کی تاریخ تنازعات سے خالی نہیں مگر جب فنکار خود ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کریں کہ ہاں انہوں نے فلم فیئر ایوارڈ پیسوں کے ذریعے ’خریدا‘ تو کیا اعتبار باقی رہ جاتا ہے۔

کپور فیملی سے تعلق رکھنے والے ماضی کے مشہور رومانوی ہیرو رشی کپور ’بوبی‘ (1973) سے راتوں رات سٹار بنے تھے۔ 2017 میں سامنے آنی والے ان کی آپ بیتی ’کھلم کھلا‘ میں اس بات کا برملا اعتراف موجو ہے کہ انہوں نے ’ایک فلم ایوارڈ‘ 30 ہزار روپے کے عوض خریدا تھا۔ جاننے والے فوراً جان گئے کہ یہ 1974 میں انہیں ملنے والے فلم فیئر بیسٹ ایکٹر ایوارڈ کی بات ہو رہی ہے۔

1954 میں شروع ہونے والا یہ ایوارڈ آئندہ کئی متنازع فیصلوں اور کھلے گھپلوں کا شکار ہوا۔ ہم ان میں سے پانچ گھپلوں کا ہم تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

  

1۔ ’پاکیزہ‘ کے بد قسمت موسیقار غلام محمد

طوائف پر بننے والی کسی بھی فلم میں عمدہ موسیقی کی بہت گنجائش ہوتی ہے لیکن جو معیار ’پاکیزہ‘ میں غلام محمد نے سیٹ کیا اس کی گرد بھی کوئی نہ چھو سکا۔ ’امراؤ جان ادا‘ (1981) میں خیام نے انتہائی خوبصورت غزلیں کمپوز کیں مگر ’پاکیزہ‘ کے ردھم کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔

موسیقار بننے سے پہلے غلام محمد تقریباً 12 سال تک انل بسواس اور نوشاد کے اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر رہے۔ ان کی پہلی بڑی کامیابی ’مرزا غالب‘ (1954) تھی جس میں انہوں نے طلعت محمود، رفیع اور ثریا کی آوازیں استعمال کرتے ہوئے گیت کے انداز میں غزلیں ریکارڈ کیں۔ اس پر انہیں بہترین موسیقار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا لیکن کامیابی باقاعدہ سلسلے کی شکل اختیار نہ کر سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلام محمد بنیادی طور پر ڈھولک اور طبلہ نواز تھے۔ اپنی مہارت کا نہایت خوبصورت استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ’پاکیزہ‘ کی بیشتر دھنوں میں بنیادی ساز طبلہ ہی رکھا۔ انہیں خود بھی پاکیزہ کی موسیقی سے بہت امید تھی لیکن افسوس کہ مینا کماری اور کمال امروہوی کے گھریلو جھگڑوں کے سبب فلم تاخیر کا شکار ہوتی گئی۔ جب 1972 میں ’پاکیزہ‘ سینما گھروں کی زینت بنی تب غلام محمد کو مٹی کا رزق ہوئے چار سال بیت چکے تھے۔

’پاکیزہ‘ موسیقی کے علاوہ بھی شاندار فلم تھی، بلکہ اس کا شمار آنکھیں بند کر کے بالی وڈ میں بننے والی اعلیٰ ترین فلموں میں  کیا جا سکتا ہے، مگر 1972 کے فلم فئیر ایوارڈ کے منچ پر بری طرح پٹ گئی۔

یہ فلم پانچ ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اداکارہ، بہترین سینیماٹوگرافی، بہترین آرٹ ڈائریکشن۔ ان میں سے صرف ایک نسبتاً کم وقعت رکھنے والا آرٹ ڈائریکشن کا ایوارڈ پاکیزہ کو ملا، جب کہ بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ تاریخ کی گرد میں کھو جانے والی ایک فلم ’بےایمان‘ نے ہتھیا لیے۔

یہ دونوں فیصلے انتہائی بودے تھے مگر جب بہترین موسیقار کا ایوارڈ بھی ’بےایمان‘ کے شنکر جیکشن کی جھولی میں ڈال دیا گیا تو بےایمانی کی انتہا ہو گئی۔

بےایمان کے لیے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ جیتنے والے مشہور ولن پران نے احتجاجاً اپنا ایوارڈ واپس کر دیا کہ یہ موسیقی کی توہین ہے۔

2۔ ’مغل اعظم‘ کے لیے کے آصف کو بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ نہ ملنا

کسی بھی پیمانے سے ہندی سینما کی بہترین فلمیں شمار کر لیجیے ’مغل اعظم‘ اس میں ضرور شامل ہو گی۔ جہاں تک تاریخی فلموں کی بات ہے تو ماڈرن ٹیکنالوجی اور بے انتہا سہولتوں کے باوجود کوئی دوسرا ڈائریکٹر ویسا شکوہ پیدا نہ کر سکا جیسا آصف نے 64 برس پہلے کر دکھایا۔ بات محض سیٹ لگانے کی نہیں ویژن اور لگن کی ہے اور ان دونوں چیزوں میں کے آصف کا جواب نہیں۔

بالعموم 50 کی دہائی میں فلمیں دو سے تین ماہ کے اندر مکمل ہو جایا کرتی تھیں لیکن مغل اعظم کی محض شوٹنگ پر ڈیڑھ برس سے زائد وقت لگ گیا۔ کے آصف ایک ایک سین پر اتنی محنت کر رہے تھے جتنی ڈائریکٹر پوری فلم پر نہیں کرتے۔ جب فلم سینما گھروں کی زینت بنی تو پتہ چلا کہ ماسٹر پیس کیا ہوتا ہے۔

پرتھوی راج کپور، نوشاد، مدھو بالا اور دلیپ کمار کے بغیر مغل اعظم بن سکتی تھی لیکن کے آصف کے بغیر ایسے کسی شاہکار کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیسی حیرت کی بات ہے کہ آصف کو بہترین ہدایت کار کا فلم فیئر ایوارڈ نہ مل سکا۔

کے آصف ایک درویش منش انسان تھے جنہوں نے اپنے لیے کوئی احتجاج نہ کیا۔ لیکن فلم کے موسیقار نوشاد صاحب فلم فیئر کے دفتر جا پہنچے۔ انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ شنکر جیکشن کو ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ پر بہترین موسیقار کا ایوارڈ کیسے مل گیا۔

3۔ ’گائیڈ‘ کے لیے ایس ڈی برمن کو بہترین موسیقار کا ایوارڈ نہ دینا

آپ موسیقی کا ذوق رکھنے والے کسی بھی شخص سے ایس ڈی برمن کا ماسٹر پیس پوچھیں تو زیادہ امکان یہی ہے ’گائیڈ‘ کا نام سننے کو ملے گا، لیکن اگر آپ اس سے پوچھیں کہ ’گائیڈ‘ کا سب سے عمدہ گیت کونسا ہے تو وہ گڑا بڑا جائے گا۔ مصیبت یہ کہ سب گیت کیفیت سے اتنے بھرپور ہیں کہ آپ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ پسند کی فہرست میں کس گیت کو کہاں رکھیں۔

 زندگی کے کئی رنگ اپنی بھرپور کیفیت کے ساتھ کسی فلم کی موسیقی میں بہت کم آ پاتے ہیں۔ آج پھر جینے کی تمنا ہے (شوخ و شنگ)، کیا سے کیا ہو گیا اور دن ڈھل جائے (اداس)، گاتا رہے میرا دل اور تیرے میرے سپنے (رومان پرور)، پیا تو سے نینا لاگے رہے اور سیاں بے ایمان (نیم کلاسیکی)، وہاں کون ہے تیرا اور اللہ میگھ دے پانی دے (فوک انگ)، ہائے رام ہمارا (کورس)۔

یہ نہ صرف ممکنہ طور پر ایس ڈی برمن کا ماسٹر پیس ہے بلکہ بالی وڈ کی تاریخ کے بہترین البمز میں سے ایک ہے۔ لیکن فلم فیئر والوں کی آنکھیں ’سورج‘ (1966) سے چندھیا گئی۔

1967 میں ’گائیڈ‘ نے سات فلم فیئر ایوارڈ جیتے لیکن بہترین موسیقار کا اعزاز ایس ڈی برمن کے بجائے شنکر جیکشن کو دے دیا گیا۔ ان کی فلم سورج کا ایک گیت ’بہارو پھول برساؤ‘ بلاشبہ بہت عمدہ ہے باقی ایوریج سے بھی کم ہیں۔

اس فلم کے لیے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتنے والی وحیدہ رحمان اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہے کہ میں نے ایس ڈی برمن سے کہا، ’دادا بہت افسوس ہوا آپ کو اتنے سندر میوزک پر ایوارڈ نہیں ملا۔‘ جواب میں ایس ڈی برمن نے کہا ’کوئی بات نہیں‘ اور فوراً منہ میں پان رکھ لیا تاکہ بات نہ کرنا پڑے۔ وحیدہ رحمان کے بقول ’دادا کی بات میں کہیں بھی غم یا افسوس کا تاثر نہیں تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘

1970 میں جب ایس ڈی برمن کو آراھنا کے گیت ’سپھل ہو گی تیری آرادھنا‘ پر بہترین پلے بیک سنگر کا نیشنل ایوارڈ ملا تو ’سورج‘ والے شنکر (جیکشن) نے انہیں فون کر کے کہا، ’سنا ہے دادا آپ کو ایوارڈ ملا، بہت بہت بدھائی ہو۔‘

ایس ڈی برمن نے کہا ’ہاں! لیکن میں نے خریدا نہیں۔‘ یہ کہہ کر انہوں نے فون رکھ دیا اور پان کھانے لگے۔

4۔ جب مدن موہن کے ساتھ ہاتھ ہو گیا

سال 1965 میں موسیقی کے شعبے میں شنکر جیکش کی ’سنگم،‘ ’مدن موہن‘ کی ’وہ کون تھی؟‘ اور ’لکشمی کانت پیارے لال کی ’دوستی‘ آمنے سامنے تھیں۔ تب شنکر جیکشن نوشاد اور اوپی نیر صف اول کے موسیقار شمار ہوتے تھے۔ اس کے برعکس تقریباً 15 برس فلم لائن میں گزارنے کے باوجود مدن موہن کے نام سے بڑی کمرشل کامیابیاں نہیں جڑی تھیں۔

لکشمی کانت پیارے لال نے بطور موسیقار بالی وڈ میں تازہ تازہ قدم رکھا تھا۔ ’دوستی‘ ان کی ہندی میں ریلیز ہونے والی محض تیسری فلم تھی۔

مدن موہن کو پوری امید تھی کہ اس بار وہ فلم فیئر جیت کر ایک بڑی جست لگائیں گے۔ بظاہر ہوا کا رخ بھی ان کے حق میں تھا مگر لکشمی کانت پیارے لال کچھ اور منصوبہ بندی کر چکے تھے۔

فلم فیئر میگزین کے شماروں میں موجود کوپن کے ذریعے عوام کو سہولت حاصل تھی کہ مختلف شعبوں میں اپنی پسند کے نام بھیج سکیں۔ اگرچہ حتمی فیصلے کا اختیار کمیٹی کا ہوتا لیکن عوامی رائے کو بہرحال اہمیت دی جاتی، بالخصوص جب مقابلہ سخت ہو۔

اس فلم کے لیے لکشمی کانت پیارے لال نے محض دس ہزار کے عوض موسیقی ترتیب دی تھی۔ لیکن انہوں نے کسی سے 65 ہزار روپیہ قرض پکڑا اور مال کے ذریعے چمتکار کر دکھایا۔ سب سے پہلے فلم فیئر کے تقریباً 25 ہزار شمارے خریدے اور خود ہی کوپن بھر کے بھیجے۔

بعد میں کوپن کے بغیر وہ شمارے جوہو کے ساحل پر پڑے دیکھے گئے۔ کئی سال بعد اپنے فراڈ کو تسلیم کرتے ہوئے پیارے لال نے کہا تھا، ’یہ بزنس ہے، ایسا تو کرنا پڑتا ہے۔‘

اگرچہ ’دوستی‘ اور ’سنگم‘ کی موسیقی خوبصورت تھی لیکن ’وہ کون تھی؟‘ اپنے سٹائل میں انتہائی منفرد اور تاثیر میں ان دونوں سے کہیں آگے تھی۔ فلم میں کل چھ گیت تھے جن میں سے تین ’لگ جا گلے کہ پھر یہ ملاقات ہو نہ ہو،‘ نینا برسے رم جھم رم جھم‘ اور ’آپ کیوں روئے‘ آج بھی ٹی وی اور سٹیج شوز کی جان سمجھے جاتے ہیں۔

اتنے خوبصورت بول لکھنے کے باوجود بہترین نغمہ نگار کے طور پر راجہ مہدی علی خان کی نامزدگی تک نہ ہونا بھی حیران کن ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں لتا بتاتی ہیں کہ مدن موہن یہ فلم ایوارڈ نہ ملنے پر بہت دکھی تھے۔ میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا ’مدن بھیا بہت دکھ ہوا۔‘ مدن موہن نے کہا ’دیدی آپ کو دکھ ہوا میرے لیے اس سے بڑا ایوارڈ کیا ہو گا۔‘

مدن موہن ساری زندگی اس بات سے ناخوش رہے کہ ان کا حق مارا گیا۔ انہیں بالعموم ڈرائنگ روم کمپوزر کہا جاتا ہے یعنی ایسا موسیقار جس کی دھنیں انتہائی خوبصورت، لیکن پیچیدگی کے سبب عام آدمی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پاتیں۔ ’غزل کے شہزادے‘ کا خیال تھا کہ اگر ’وہ کون تھی؟‘ پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ مل جاتا تو یہ لیبل خود بخود اتر جاتا۔

1970 میں مدن موہن کو ’دستک‘ کے لیے بہترین موسیقار کا نیشنل ایوارڈ ملا مگر ان کو خوشی نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے جانے کو تیار نہ تھے۔ اسی فلم کے لیے سنجیو کمار کو بھی بہترین ادکار کا نیشنل ایوارڈ ملا تھا۔ انہوں نے بمشکل مدن موہن کو ساتھ چلنے پر راضی کیا۔

5. ’کیسری‘ فلم کو موسیقی اور نغمہ نگاری کے ایوارڈ سے محروم رکھنا

2020 میں جیسے ہی فلم فیئر ایوارڈز جینے والے فائنل نام سامنے آئے BoycottFilmfareAwards# ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ غصے کا اظہار کرنے والوں میں پرستار ہی نہیں فنکار بھی شامل تھے جن میں سب سے نمایاں احتجاج نغمہ نگار منوج منتشر نے کیا۔

2020 میں فلم فیئر کی نامزدگیوں میں زویا اختر کی فلم ’گلی بوائے‘ ٹاپ پر تھی۔ حتمی مقابلے میں 13 ایوارڈ جیتنے کے بعد یہ فلم فیئر کی تاریخ میں کسی ایک برس سب سے زیادہ اعزازات اپنے نام کرنے والی موی بن گئی۔ ان میں سے بیشتر فیصلے شدید تنقید کی زد میں آئے اور سوشل میڈیا پر عوام نے گلی بوائے اور فلم فیئر دونوں کی خوب چھترول کی۔

 اس برس موسیقی کے شعبے میں ’گلی بوائے‘ اور ’کبیر سنگھ‘ کو مشترکہ ایوارڈ ملا جو نہایت بھونڈا فیصلہ تھا۔ ایسا لگتا ہے فلم فیئر کے کرتا دھرتا تہیہ کر چکے تھے کہ گلی بوائے کو ایوارڈ دینا ہی ہے دینا ہے، ساتھ میں انہوں نے کبیر سنگھ کو بھی ٹانک دیا کہ سوشل میڈیا کی ساری گالیاں ’گلی بوائے‘ کو ہی نہ پڑتی رہیں۔ اگرچہ کبیر سنگھ میں ’تجھے کتنا چاہنے لگے ہم‘ کی دھن میتھون نے بہت خوبصورت ترتیب دی تھی مگر باقی گانے کچھ خاص نہ تھے۔

 کبیر سنگھ اور گلی بوائے سے کہیں زیادہ خوبصورت میوزک ’کیسری‘ کا تھا۔ خاص طور پر ارجیت سنگھ کی آواز میں ’ماہی وے‘ اور بی پراک کا ’تیری مٹی۔‘ اس برس ارجیت سنگھ کو بہترین مرد گلوکار کا ایوارڈ بھی ملا مگر جس گانے پر ملا اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر یہی ایوارڈ انہیں ’ماہی وے‘ پر ملتا تو بات سمجھ میں بھی آتی۔

لیکن ہمارے خیال میں بی پراک ’تیری مٹی‘ کی وجہ سے کسی بھی دوسرے گلوکار کی نسبت بیسٹ پلے بیک سنگر کے زیادہ حق دار تھے۔

لیکن بی پراک سے بھی زیادہ ایوارڈ کے حق دار اس گیت کے خوبصورت بول لکھنے والے منوج منتشر تھے۔ جیسے ہی بیسٹ لیرکس کا ایوارڈ گلے بوائے کے ’تو ننگا ہی تو آیا تھا کیا گھنٹہ لے کر جائے گا‘ کو ملنے کا اعلان ہوا منوج منتشر نے ٹوئٹر پر پوسٹ کر دی۔ احتجاج کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ساری زندگی اس سے زیادہ اچھی سطریں نہیں لکھ سکتا۔ ایک گیت جس نے ہزاروں آنکھوں کو اشکبار کیا اگر وہ حقدار نہیں تو آئندہ میں کسی ایوارڈ شو میں شریک نہ ہوں گا۔   

 دھرتی کے لیے بیٹوں کی قربانی اور ماؤں کا کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار بالی وڈ کے کئی گیتوں کا موضوع بنا۔ دل کو چھو لینے والی سادگی اور خوبصورت تشبیہات ’تیری مٹی‘ کو ایسے لازوال گیتوں کی اولین فہرست میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ ماں کو بیٹے سے محبت، چاند کا استعارہ اور جذباتی کیفیت منوج منتشر کے الفاظ میں بہت عمدگی سے سمٹ آئی ہے۔

او مائی میری، کیا فکر تجھے
کیوں آنکھ سے دریا بہتا ہے
تو کہتی تھی تیرا چاند ہوں میں
اور چاند ہمیشہ رہتا ہے
تیری مٹی میں مل جاواں
گل بن کے میں کھل جاواں
اتنی سی ہے آرزو
تیری ندیوں میں بہہ جاواں
تیری فصلوں میں لہرواں
اتنی سی ہے دل کی آرزو

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ