قصور واقعہ: گھر کی کھڑکی سے بیٹے کی قبر کا نظارہ

ریپ کے بعد قتل کیے گئے آٹھ سالہ فیضان کی ماں کو تسلی ہے کہ ان کا بیٹا ان کی نظروں کے سامنے ہے، مگر یہ تسلی ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔

ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے پیر جہانیاں چوک میں واقع جامعہ مسجد فضل الہیٰ بریلوی المعروف جنازگاہ والی مسجد کے بالائی حصے میں امام مسجد محمد رمضان کا گھر ہے۔ اس گھر کے ایک کمرے کی کھڑکی سے قبرستان نظر آتا ہے جس میں ایک تازہ قبر صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظارہ ہی اب آٹھ سالہ فیضان کی ماں کو تسلی دے رہا ہے کہ ان کا بیٹا ان کی نظروں کے سامنے ہے، مگر یہ تسلی ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔

فیضان 16 ستمبر کو اپنے چھوٹے بھائی رحمان کے ساتھ گھر سے چیز لینے نکلے مگر گھر صرف رحمان پہنچے، فیضان لاپتہ ہوچکے تھے۔

محمد رمضان نے فوری طور پر علاقہ پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد 17 ستمبر کو چونیاں بائی پاس کے قریب ریت کے ٹیلوں میں دبی ایک بچے کی لاش اور دو کی باقیات برآمد ہوئیں۔ یہ دو بچے سلمان اور علی حسنین تھے، جنہیں ان کے والدین نے کپڑوں سے پہچانا جبکہ فیضان کی لاش تازہ تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جماعت کے طالب علم فیضان کے والد رمضان انڈپینڈنٹ اردو سےگفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: ’مجھے چین اُس وقت ملے گا، جب ہمیں انصاف ملے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ جس نے بھی ہمارے بچے کو ہم سے چھینا ہے، انہیں چوک میں لٹکا کر پھانسی دی جائے۔‘

رمضان کا کہنا تھا کہ کیس کے تفتیشی افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ’انہیں افسروں سے کام کروانا چاہیے تھا۔ یہ تبادلے ہمارے کام کے نہیں ہیں۔‘

فیضان کی والدہ کے لیے بات کرنا مشکل تھا مگر پھر بھی ہمت جمع کرکے آنسوؤں کو بمشکل پیتے ہوئے بولیں: ’فیضان تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا۔ اس کے لیے آٹھ برس دعا کی تب جا کر خدا نے ہمیں دیا۔ آٹھ برس اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر پالا اور ظالم نے اس کی جان لے لی۔‘

مقتول فیضان کی والدہ نے مزید کہا کہ جب تک پولیس قاتل کو نہیں پکڑتی، ان کے لیے ہر شخص مشتبہ ہے۔‘

بچوں سے ہونے والی جنسی زیادتی کے لیے کام کرنے والے ادارے ساحل کے جنوری 2019 سے جون 2019 تک کے اعدادو شمار کے مطابق قصور شہر میں 40 بچے جنسی جرائم سمیت مختلف واقعات کا شکار ہوئے جن میں 11 لڑکے اور 29 بچیاں شامل ہیں۔ ان میں سے 24 بچے اور بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ۔ جن کی عمریں چھ سے 15 سال کے درمیان ہیں۔

ریجنل پولیس افسر (آر پی او) قصور ذوالفقار حمید نے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فیضان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا جبکہ باقی دو بچوں کی باقیات کی فرانزک جانچ پڑتال جاری ہے۔

ذوالفقار حمید کے مطابق: ’چونکہ تینوں بچوں کی لاشیں ایک ہی جگہ سے ملی ہیں اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایک ہی سیریل ریپسٹ کا کام ہے جبکہ دو بچے ابھی بھی لاپتہ ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہم نے نو افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے اور ان کے ڈی این اے کے نمونے فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔ ایسے کیسز کو حل کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے وقت درکار ہے۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس جرائم کی روک تھام کر سکتی ہے مگر ایسے ذہنی بیمار لوگوں کا علاج نہیں کر سکتی۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے عناصر سے محتاط رہنے کی تربیت دیں جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلع میں مینٹل ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز کا قیام عمل میں لائے۔‘

آر پی او کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے حکومت کو سفارشات بھیجی ہیں کہ تمام اضلاع میں 70 سے زائد کرائم سائیکاٹرسٹس کو تعینات کیا جائے۔اطلاع ملی ہے کی حکومت نے اس کی آدھی تعداد کی منظوری دے دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک کرائم سائیکاٹرسٹ تعینات کیا جائے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان