سعودی آئل فیلڈ پر حملے نے دنیا میں جنگی حکمت عملی بدل کر رکھ دی

یہ وضاحتیں ان فوجی کمانڈرز اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو فخریہ انداز سے اپنے سامانِ حرب اور دفاعی نظام کی افادیت بیان کرتے نہیں تھکتے تھے۔

ڈرون حملے میں تباہ سعودی آئل ریفائنری کے ایک حصے کا منظر (اے ایف پی)

سعودی عرب کے آئل فیلڈ پر ہونے والے حالیہ تباہ کن حملے میں ڈرونز اور میزائلوں کے استعمال سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کا توازن متاثر ہوا ہے بلکہ یہ حملہ عالمی سطح پر جنگ کی نوعیت میں تبدیلی کی علامت ثابت ہوا ہے۔

14 ستمبر کی صبح آرامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات پر حملے میں جو 18 ڈرونز اور سات کروز میزائل استعمال ہوئے تھے وہ موجودہ دور کے جدید سامان حرب کے مقابلے میں نہایت سستے اور غیر معیاری تھے۔

اس حملے سے سعودی عرب کی تیل کی پیداوار نصب رہ گئی ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔    

یہ ایک طرح سے سعودی عرب کی ناکامی ہے جس کا گذشتہ برس کا دفاعی بجٹ 67 ارب ڈالر سے زیادہ تھا اور جو جدید ترین امریکی طیارے اور فضائی دفاعی نظام رکھنے کے باوجود ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

 دوسری جانب خلیج میں موجود ریاض کے اتحادی ملک امریکہ کا سالانہ دفاعی بجٹ 750 ارب ڈالر ہے جو انٹیلیجنس پر اضافی 85 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے لیکن اتنا زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کو بھی اس حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی جو اس کی انٹیلیجنس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

 اس ناکامی کے لیے جو بہانے تراشے جا رہے ہیں ان میں ڈرونز کی نہایت نچلی پرواز اور اس سمت سے حملہ جہاں سے امید بھی نہیں کی جا سکتی تھی، جیسے عذر شامل ہیں۔

یہ وضاحتیں ان فوجی کمانڈرز اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو فخریہ انداز سے اپنے سامانِ حرب اور دفاعی نظام کی افادیت بیان کرتے نہیں تھکتے تھے۔

اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا یا تہران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا، جس کا جواب شاید یہ ہو کہ یہ دونوں کا گٹھ جوڑ تھا۔ لیکن شاید ایران اس آپریشن کو انجام دے رہا تھا جس نے اس حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز اور میزائلز سمیت دیگر ساز و سامان مہیا کیا ہو گا۔   

تاہم ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹہرانے سے ہماری توجہ کئی گنا زیادہ اہم اس حقیقت سے ہٹ گئی ہے کہ درمیانی فوجی طاقت رکھنے والا ایران جو اقتصادی پابندیوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، کیسے محدود وسائل اور قابلیت سے اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور سعودی عرب پر ایسی کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہو گیا جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت رکھنے والا ملک امریکہ بھی اس کی پشت پر کھڑا تھا۔

سعودی عرب اور امریکہ اب بھی ایران کے خلاف جوابی کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ دونوں ملکوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ انہیں ممکنہ جوابی حملے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

جو پہلے ہوا یا جو آئندہ ہو سکتا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ایران کو کچھ اور نہیں تو ایک ’ڈرون سپر پاور‘ ضرور کہا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات اور تازہ پانی فراہم کرنے والے پلانٹس ایران کے ڈرون اور میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔

دوسرے لفظوں میں مستقبل کی جنگیں جدید ترین سامانِ حرب رکھنے والے ملک اور کمزور ملک کے درمیان برابری کی سطح پر لڑی جائیں گی۔

ٹرمپ کارڈ کے طور پر امریکہ، نیٹو ممالک اور اسرائیل کی فضائی طاقت ان کے کسی بھی ممکنہ دشمن کے مقابلے میں برتر رہی ہے لیکن حساب کتاب کا یہ پیمانہ اچانک بے معنی ہوگیا ہے کیوں کہ اب فضائی طاقت کی دوڑ میں کوئی بھی کھلاڑی سبقت لے سکتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم ’سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز‘ کے عسکری ماہر انتھونی کارڈسمین نے اس تبدیلی کی اہمیت کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھا: ’سعودی عرب پر حملہ ایک انتباہ ہے جس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ خلیج میں امریکی فضائی بالادستی اور کسی بھی حدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت پر امریکی اجارہ داری تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔‘

 انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ’ایران ڈرونز، کروز میزائلوں اور ٹھیک نشانے تک پہنچنے والے بیلسٹک میزائلوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے اور تہران انہیں یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ تک پھیلا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوجی تاریخ میں بھی اسی طرح کے اہم موڑ آئے تھے جب عام اسلحے نے اچانک پیچیدہ ہتھیاروں کو مات دے دی تھی۔

اس کی ایک عمدہ مثال 11 نومبر 1940 کو ٹارانٹو نیول بیس پر لنگر انداز اٹلی کے پانچ جنگی جہازوں کی تباہی تھی جن کو ٹارپیڈوز سے لیس اور برطانوی طیارہ بردار بحری جہاز سے لانچ کیے گئے ہلکے طیاروں نے نشانہ بنایا تھا۔

اس حملے میں سمندروں پر راج کرنے والے تین اطالوی جہاز غرق ہو گئے اور دو کو بری طرح نقصان پہنچا تھا جب کہ صرف دو برطانوی طیارے لاپتہ ہو گئے تھے۔ اتنی کم قیمت پر حاصل کی گئی فتح نے بحری جنگ کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور طیارہ بردار بحری جہازوں کی برتری کا آغاز ہوا۔ یہ وہ سبق تھا جسے جاپانی بحریہ نے سیکھا اور صرف ایک سال بعد پرل ہاربر پر اسی انداز میں حملہ کیا۔   

سعودی حکام نے رواں ہفتے سفارت کاروں اور صحافیوں کو ڈرون اور میزائلوں کے ٹکڑے دکھائے تاکہ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ اس فضائی حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا۔

 لیکن ان تباہ شدہ ڈرونز اور میزائلوں کے ٹکڑوں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان ہتھیاروں، جنہوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کی قیمت کچھ زیادہ نہیں ہوگی۔

 اس کے برعکس سعودی دفاعی نظام میں شامل ایک امریکی ساختہ پیٹریاٹ اینٹی ائیرکرافٹ میزائل کی قیمت 30 لاکھ ڈالر ہے جو گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کو روکنے میں بری طرح ناکام رہے۔

ان ڈرونز کی کم لاگت اور عام تکنیک اس لیے اہم ہے کہ ایران، حوثی باغی، حزب اللہ اور تقریبا کوئی بھی ملک ان ڈرونز اور میزائلوں کو اتنی بڑی تعداد میں تیار کرسکتے ہیں کہ وہ ان سے اپنے دشمنوں کو کبھی بھی اور کہیں بھی کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔

اس ڈرون کی قیمت کا موازنہ F-35 لڑاکا طیارے کی قیمت  سے کریں تو یہ اس سے لاکھوں ڈالر سستے ہیں۔ ایک F-35  لڑاکا طیارے کی قیمت 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور جیسے کوئی بھی امیر ملک صرف محدود تعداد میں خرید سکتا ہے۔

جب سعودی تیل تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تو پوری دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنی فضائیہ کے سربراہان سے یہ پوچھیں کہ جب اتنے سستے اور موثر متبادل دستیاب ہیں تو انہیں اتنا پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

لیکن فضائیہ کے سربراہان اور اسلحہ ساز کمپنیاں حقیقی جنگ میں مشکوک افادیت کے حامل ان ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اپنی آخری سانسوں تک جدوجہد کریں گے۔

سعودی عرب پر حملہ جنگ کے اس رجحان کو تقویت دیتا ہے جس سے سستے اور آسانی سے دستیاب اسلحہ کی اہمیت سب سے زیادہ بڑھ کر سامنے آتی ہے۔  

آئی ای ڈی بم کے ٹریک ریکارڈ پر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ عام طور پر آسانی سے دستیاب کھاد سے بنایا جا سکتا ہے جسے ایک تار سے اڑایا جا سکتا ہے اور کسی سڑک میں یا اس کے آس پاس نصب کیا جاتا ہے۔

ان بموں کا تباہ کن استعمال جنوبی آرماگ میں آئرش ریپبلکن آرمی نے بھرپور انداز میں کیا تھا جس نے برطانوی فوج کو سڑکوں کی بجائے ہیلی کاپٹروں کے استعمال پر مجبور کر دیا تھا۔

آئی ای ڈیز کا استعمال عراق اور افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کے خلاف بڑے پیمانے پر کیا گیا۔

 امریکی فوج نے سستے اور آسانی سے دستیاب اس مہلک آلے کا انسداد تلاش کرنے کے لیے بے پناہ مالی وسائل خرچ کیے تھے جس میں ایم آر اے پیز نامی بھاری بکتر بند گاڑیوں پر 40 ارب ڈالر خرچ کرنا بھی شامل ہے۔

امریکی فوج کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم آر اے پیز پر حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بالکل اتنی ہی تھی جتنی عام گاڑیوں پر حملوں میں ہوا کرتی تھی۔

یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ امریکی، برطانوی یا سعودی فوجی سربراہ یہ قبول کریں گے کہ ان کے مہنگے اور تکنیکی طور پر جدید ترین سامان حرب ایک فرسودہ اور متروک اسلحے سے مات کھا گئے ہیں۔  

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے ہتھیاروں سے لیس ہیں جو وسائل کو نچوڑ لیتے ہیں لیکن عملی طور پر ناکارہ ثابت ہوتے ہیں۔  

جاپانیوں نے پرل ہاربر پر امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کرنے کے فوری بعد ہی دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ’یاماتو‘ تیار کیا جسے 1945 میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز سے اڑنے والے بمبار طیاروں نے تباہ کر دیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا