بلوچستان میں تھیٹر کی جگہ مختصر دورانیے کی فلموں نے لے لی

تھیٹر کے فن سے وابستہ ایک سینئر ادا کار ریاض ساگر سمجھتے ہیں کہ کوئٹہ میں تھیٹر کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس فن میں اداکاری کے بجائے ناچ گانے اور فحاشی کا عنصر شامل ہوا۔ 

صوبے میں اب ایسی فلمیں بنانے والے ایک درجن سے زائد ہیں جو نہ صرف فلم بنا کر اپنے معاشرتی مسائل کو اجاگرکر رہے ہیں بلکہ وہ نئے آنے والے اداکاروں کو بھی مواقع فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔(اے ایف پی)

بلوچستان میں 90 کی دہائی میں تھیٹر اپنے عروج پر تھا جب لوگ روز شام کو کوئٹہ کے جناح روڈ پر ادارہ ثقافت کا رخ کرتے تھے۔ اسی فن سے بلوچستان سے بڑے نام نکلے جنہوں نے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ 

 سینما کے بعد تھیٹر ہی لوگوں کی تفریح کا مرکز تھا مگر آہستہ آہستہ بلوچستان میں یہ فن دم توڑتا گیا۔ 

تھیٹر کے فن سے وابستہ ایک سینئر ادا کار ریاض ساگر سمجھتے ہیں کہ کوئٹہ میں تھیٹر کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس فن میں اداکاری کے بجائے ناچ گانے اور فحاشی کا عنصر شامل ہوا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ریاض ساگر نے کہ آج وہ پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر میں بطور سینئر اداکار اور ڈرامہ نگار کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ 

 ان کے بقول ’تھیٹر ہی کی بدولت وہ اور ان جیسے دوسرے کئی فن کار ڈراموں اور فلموں میں اپنا فن دکھا رہے ہیں اگر تھیٹر نہ ہو تو اداکار، اداکار نہیں رہتا۔‘

 ریاض ساگر کے مطابق فن کاری کے شعبے میں آنے والے نئے فن کاروں کے لیے سیکھنے کے مواقع زیادہ موجود نہیں ہیں جس کی وجہ تھیٹر کا نہ ہونا ہے مگر اب تھیٹر کی جگہ مختصر دورانیے کی فلموں نے لے لی ہے۔ 

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نوجوان کراچی اور لاہور میں فلم بنانے اور اداکاری کی تربیت لے کر کوئٹہ میں مختصر دورانیے کی فلمیں بنا رہے ہیں۔ 

انہی میں سے ایک نصیر رند بھی ہیں جنہوں نے کراچی میں باقاعدہ فلم بنانے کی تربیت لی اور اب کوئٹہ میں ایک پروڈکشن ہاوس چلارہے ہیں۔ 

نصیر رند نے بتایا ’بلوچستان میں اب تھیٹر نہیں رہا ا س کی جگہ شارٹ فلمز یعنی مختصر دورانیے کی فلموں نے لے لی ہے۔ 

صوبے میں اب ایسی فلمیں بنانے والے ایک درجن سے زائد ہیں جو نہ صرف فلم بنا کر اپنے معاشرتی مسائل کو اجاگرکر رہے ہیں بلکہ وہ نئے آنے والے اداکاروں کو بھی مواقع فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

نصیر رند کے مطابق ’اب تک ان کی فلموں میں نئے آنے والے 20 سے زائد اداکاروں کو کام کرنے کا موقع ملا ہے اگر یہ فلمیں نہ بنیں تو یہ مقامی ادا کار اپنا فن د کھانے سے محروم رہ جائیں گے۔‘ 

ایسے ہی ایک اداکار 34 سالہ لالہ انور بلوچ بھی ہیں جو بنیادی طور پر اسٹیج اور ڈراموں میں اداکاری کرتے تھے لیکن انہیں مختصر دورانیہ کی فلموں میں کام سے نئے تجربات کا موقع ملا ہے۔   

انور بلوچ کے خیال میں یہ نوجوان اداکار خوش نصیب ہیں جنہیں مختصر دورانیے کی فلموں اور دیگر اس طرح کے شعبوں میں کام کا موقع مل رہا ہے۔ ’مختصر دورانیے کی فلم میں کام کے دوران آپ کو سب کچھ سمجھا دیا جاتا ہے اور آپ کے چہرے کے تاثرات اور دیگر حرکات و سکنات بھی بتا دی جاتی ہیں۔ اس سے اداکار بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ادارہ ثقافت بلوچستان نے میر نوری نصیر خان کلچرل کمپلیس قائم تو کر دیا ہے مگر اس میں بکنگ کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ تھیٹر کے فن کاروں کے لیے یہ ہال بک کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ 

تھیٹر کے سینئر فن کاروں کا کہنا ہے کہ گو بلوچستان میں تھیٹر کی جگہ مختصر دورانیے کی فلمیں لینے لگی ہیں مگر بدقسمتی سے ان فلم سازوں کے پاس زیادہ تجربہ اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تخلیقی کام سامنے نہیں آرہا۔ اس کے باوجود وہ بلوچستان میں اس شعبے کے مستقبل کو روشن دیکھے ہیں۔ ان کے خیال میں وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کا حصول مزید آسان ہو گا اور اس میدان میں بہت بہتری لائی جا سکے گی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم