سعودی ولی عہد کشمیر پر نریندر مودی سے بات کریں گے: زلفی بخاری

وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری نے عمران خان کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے کے بعد نیو یارک میں انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ سعودی ولی عہد نے یقین دلایا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارت سے بات کریں گے۔

پاکستان چاہتا ہے سعودی ایران تنازع مذاکرات سے حل ہو: زلفی بخاری (اے ایف پی)

وزارت برائے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی مشیر زلفی بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان کے دورۂ سعودی عرب کا مقصد ولی عہد محمد بن سلمان کو مسئلہِ کشمیر کی حساسیت سے آگاہ کرنا تھا۔

زلفی بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کریں گے۔

جب زلفی بخاری سے سوال کیا گیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر اُمہ کا مسئلہ نہیں، تو اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد سے کیا بات کی؟ 

اس پر زلفی بخاری نے کہا اُمہ والا بیان عرب امارات نے دیا تھا، سعودی عرب نے نہیں۔ ’سعودی ولی عہد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اکتوبر میں اسلامی اتحاد تنظیم کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ کشمیر کے مسئلے کو مزید اجاگر کیا جاسکے۔‘

نیو یارک میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے زلفی بخاری نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر سے چند روز پہلے امریکہ اس لیے آئے ہیں تاکہ خطے کی موجودہ صورت حال پر امریکی سینیٹروں اور تھنک ٹینکس سے ملاقات کر سکیں اور اپنے موقف کو واضح کر سکیں۔ 

انہوں نے حالیہ سعودی ایران تنازع میں پاکستانی موقف کے حوالے سے سوال پر کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں کسی کی حمایت نہیں کر رہا اور نہ کسی کو منتخب کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پاکستان صرف امن کو منتخب کرتا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے یہی بات محمد بن سلمان سے کہی کہ پاکستان سعودی عرب اور خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر ہر قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی ایران تنازع مذاکرات سے حل ہو کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

جب خصوصی مشیر سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات چاہتا ہے تو کیا وزیراعظم ایران کا بھی دورہ کریں گے؟

اس پر انہوں نے کہا ایران کا فوری دورہ نہ بھی ہوا تو پاکستان سعودی ایران تنازع پر سفارتی سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کو کوشش کرے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات نہایت سود مند رہی، جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان کمرشل فلائٹ کے ذریعے امریکہ روانہ ہو رہے تھے لیکن سعودی ولی عہد نے انہیں اپنے خصوصی طیارے میں امریکہ جانے کی پیشکش کی جسے قبول کر لیا گیا۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد چونکہ امریکہ اور بھارت کے قریب ہیں اور دنیا کی طاقتور شخصیات میں اُن کا شمار ہوتا ہے لہذا عمران خان کا اُن سے ملنا اور کشمیر کے معاملے پر درخواست کرنا ایک اچھا قدم ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے بھارت کے بھی سعودی عرب سے مفاد جُڑے ہیں اس لیے کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب چاہے تو کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کا سفارتی میل ملاپ کافی بڑھا گیا تھا۔ دونوں عرب ممالک کے وزراء خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ لیکن کشمیر پر کوئی بڑا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا