جب لتا کے انکار سے راج کپور کا دل کھٹا ہو گیا

لتا میرا نام جوکر کے گیت گانے کی لیے آئی تو راج لتا کے بیچ تال میل پہلے جیسا نہ تھا۔ پہلا گیت تھا انگ لگ جا بالما۔ شیلندر کے لکھے ان الفاظ پہ لتا نے اعتراض کرتے ہوئے گانے سے انکار کردیا۔

فلم آوارہ کا گیت آوارہ ہوں سرحدیں پھلانگتا ہوا چین، مڈل ایسٹ اور روس میں پہنچا تو اس کا چہرہ نیلی آنکھوں والا 26 سالہ نوجوان راج کپور تھا۔

1954 میں راج کپور سویت یونین میں ایک مقبول سٹار کے روپ میں سٹیج پر یہ گیت اس انداز میں گاتا ہے کہ زبان سے ناواقف سامعین کے دل اس کے ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں۔ اگلی بار راج کے ساتھ مکیش کا جانا ہوا تو لوگوں کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ گیت گانے والا راج کپور نہیں کوئی اور ہے۔

راج نے تعارف کرواتے ہوئے کہا ’میں جسم ہوں، مکیش میری آتما ہے۔ میں چہرہ ہوں اور یہ آواز ہے۔‘

راج کپور کی آتما تو مکیش تھا لیکن اس کی بنائی فلموں میں آر کے فلمز کی آتما صرف ایک تھی اور وہ تھی لتا مینگیشکر۔ راج کپور کی فلمیں مکیش، شیلندر اور شنکر جے کشن کے بغیر تو کامیاب ہوسکتی تھیں لیکن بغیر لتا کے ایسا ممکن نہیں تھا۔

1948 میں آر کے بینرز کی پہلی فلم آگ میں شمشاد بیگم اور مینا کپور نے گیت گائے۔ انداز فلم میں کام کرتے ہوئے راج کپور نے دیکھا کہ نوشاد مکیش کے ساتھ نرگس کے لیے ایک لڑکی سے بہت عمدہ کام لے رہا ہے۔ برسات میں بھی راج کے مدمقابل نرگس تھی تو راج کیوں کسی محاز پہ نوشاد اور دلیپ سے پیچھے رہتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نے نہ صرف لتا کو بلایا بلکہ شنکرجے کشن سے یہ بھی کہا کہ نوشاد نے تین گیت راگ بھیرویں میں بنائے، تم بھی تین گیت بھیرویں میں بناؤ۔

فلم برسات سے لتا ہندی فلم میں پہلے نمبر پہ جا پہنچی اور کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ چہرے بدلے، موسیقار بدلے، فلم سازی کا رجحان بدلا لیکن یہ بدلیاں لتا کا سورج نہ گہنا سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برسات سے لے کر سنگم فلم تک سوائے بوٹ پالش کے، مرد گلوکار مکیش ہو یا مناڈے، ہیروئن نرگس ہو پدمنی یا وجنتی مالا، موسیقار شنکرجے کشن ہو یا سلل دا، آر کے فلمز کے جسم میں روح بن کے گونجنے والی آواز لتا کی ہی تھی۔

 سنگم راج کپور کی پہلی رنگین فلم تھی۔ اس کی کامیابی کے ساتھ راج کا اعتماد آسمان کی بلندی پہ تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب راج نے اپنا دیرینہ سپنا سچ کرنے کی ٹھانی۔ ان دنوں لتا ہرگیت میں بطور گلوکارہ ڈھائی فیصد رائیلٹی کی جنگ لڑ رہی تھی۔

راج کپور سمیت کوئی پروڈیوسر ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ لتا میرا نام جوکر کے گیت گانے کی لیے آئی تو راج لتا کے بیچ تال میل پہلے جیسا نہ تھا۔ پہلا گیت تھا انگ لگ جا بالما۔ شیلندر کے لکھے ان الفاظ پہ لتا نے اعتراض کرتے ہوئے گانے سے انکار کردیا۔ راج نے الفاظ بدلنے پہ آواز بدلنے کو ترجیح دی اور اس طرح آشا کے لیے راج کا دروازہ کھلا۔

آشا نے ماہرین موسیقی سے خوب داد سمیٹی لیکن سامعین کے دل نہ جیت سکی۔ مکیش اور مناڈے کا رنگ بھی نہ جم سکا۔ دراصل لتا کے انکار سے راج کا دل ہی کھٹا پڑ گیا۔ اس نے گیت کی ریکاڈنگز میں پہلے کی طرح دلچسپی نہ لی۔ چھ سال کی محنت اور چھپن لاکھ کی بھاری رقم سے تیار کردہ یہ خوابوں کا گھروندا دھڑام سے آ گرا اور آر کے بینرز اس کے بوجھ تلے سسکنے لگا۔

مزید غضب یہ ہوا کہ 1971 میں ریلز ہوئی کل آج اور کل بھی کوئی چمتکار نہ دکھا سکی۔ بمبئی کی فلم نگری میں صدائیں گونجنے لگیں کہ راج کپور اپنا جادوئی لمس کھو چکا۔ ناکامیوں کی گرد بیٹھی تو راج کپور نے وجوہات تلاش کیں۔ سب کچھ موجود تھا لیکن روح غائب تھی۔ آتما کے بغیر بےجان جسم کیسے سامعین کے دلوں میں دھڑکتا۔ میرا نام جوکر کی ڈوبتی کشتی میں امید کی کرن اگر تھی تو چینٹو کی زبردست پرفارمنس تھی۔ چینٹو کو متعارف کروانے اور مالی نقصان کی تلافی کے لیے راج نے بوبی کا آغاز کیا۔

 آتما کی تلاش میں نو سال ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد راج کپور لتا کے دروازے پہ تھا۔ سولہ سالہ ڈمپل کپاڈیہ کے جسم میں بجلیاں بھری تھیں۔ شائقین فلم کے چودہ طبق روشن کرنے کے لیے لتا کی آواز درکار تھی۔ لتا نے ایک پرانی اور ایک نئی شرط پیش کردی۔ ’ڈھائی فیصد رائیلٹی‘ اور شنکر کی جگہ ’لکشمی کانت۔‘

بغیر ایک لمحے کی تاخیر راج نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اس طرح آر کے فلمز کو اس کی روح واپس ملی۔ بوبی کی کھڑکیاں توڑ کامیابی کے ساتھ راج کی مالی پوزیشن بہتر ہوگئی۔ حالات بہتر ہوتے ہی راج کپور خواب نگر جا پہنچا اور ایک پرانے سپنے سے گرد صاف کرنے لگا۔ دراصل 1958 سے راج کپور اپنی آتما لتا کو جسم سمیت فلم میں کاسٹ کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت فلم کا نام تھا صورت اور سیرت۔ راج نے کئی بار اقرار کیا کہ اس فلم کی انسپائریشن لتا تھی۔ نہایت مدھر آواز لیکن واجبی صورت۔ جسمانی و روحانی حسن کا فرق۔ اٹھارہ سال پہلے کا سپنا اب بھی اپنی روح میں وہی تھا لیکن اس بار جسم کے لیے نئے چہرہ کی تلاش تھی۔ آخر زینت امان اس فلم کی زینت بنی، سکرپٹ میں کچھ تبدیلی کے ساتھ راج کپور نے ستیم شیوم سندرم شروع کی۔

1976 میں اس فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوا۔ یہ ملٹی سٹارر فلموں کادور تھا۔1977 میں ایک دن راج کپور نے من موہن ڈیسائی کی تین فلمیں دھرم ویر، چاچا بھتیجا اور امر اکبر انتھونی کے پرنٹ منگوا کر آر کے سٹوڈیو میں دیکھے اور اسے اپنی فلم کی ناکامی کا خوف ستانے لگی۔ ستیم شیوم سندرم تو محض دوکرداروں کی کہانی تھی۔ شوق خوف کو روندتا ہوا راج کپور کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔ راج کے ہاں دل کا راج تھا دماغ کا نہیں۔

لتا کی خواہش تھی اس کا بھائی بطور موسیقار کام کرے لیکن راج لکشمی کانت پیارے لال سے معاہدہ کرچکا تھا۔ لکشمی کانت پیارے لال کے کہنے پہ لتا گانے کو تیار ہوگئی مگر اس شرط پہ کہ راج کپور ریکارڈنگ کے وقت سٹوڈیو موجود نہ ہو۔

ستیم شیوم سندرم کا آخری گیت ابھی ریکارڈ ہونا باقی تھا۔ پوری ٹیم تیار ہو کے لتا کی منتظر تھی۔ لتا آئی اور راج کو دیکھتے ہی وہاں سے بغیر کچھ کہے سنے اپنی گاڑی کی طرف واپس مڑی۔ راج کپور نے ہاتھ جوڑ کے درخواست کی۔ لتا نے ڈرائیور سے کہا گاڑی چلاؤ اور راج کی آنکھوں کے سامنے گرد اڑنے لگی۔ بالی وڈ کے شومین نے کبھی خود کو اتنا حقیر محسوس نہیں کیا۔ بالی وڈ ہی کیا روس تک میں لوگوں نے راج کے نام پہ بچوں کے نام رکھے تھے۔   

 اس سب کے باوجود لتا کی آواز سے راج کی وابستگی پہ رتی برابر فرق نہ پڑا۔ پورے بالی وڈ پہ راج کرنے والے راج کپور کی راجدھانی میں لتا کا راج تھا۔ اس کے بعد آنے والی فلم پریم روگ ہو یا راج کی آخری فلم حنا، لتا آر کے فلمز میں زندگی کی حدت بھرتی رہی۔

لتا نے کہا تھا موسیقار جو بھی ہو آر کے فلمز میں میوزک راج کپور کا ہوتا ہے۔ آر کے فلمز میں چہرہ کوئی بھی ہو آواز لتا کی چلتی ہے۔ جسم کسی کا بھی ہو آتما لتا کی ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم