عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کی بولی جیت لی

نجکاری کے مرحلہ وار عمل کے دوران عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے بڑی پیشکش دے کر قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔

23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے (پاکستان ٹی وی/سکرین گریب)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی منگل کو نجکاری کے مرحلہ وار عمل میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی دے کر پاکستان کی قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔ 

دوسرے نمبر پر لکی سمنٹ کنسورشیم رہا جس نے زیادہ سے زیادہ 134 ارب روپے کی بولی دی جب کہ ایئر بلیو گروپ نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور تیسرے مرحلے سے باہر ہو گیا۔

نجکاری کا عمل آج (منگل کو) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہوا، جہاں پی آئی اے کے حصص خریدنے کی خواہش مند کمپنیوں نے اہنی اپنی بولیاں جمع کروائیں۔

یہ بولیاں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے لگائی گئی تھیں جبکہ بقایا 25 فیصد وفاقی اپنے پاس رکھے گی۔

حکومت پاکستان نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ریفرنس پرائس 100 ارب روپے رکھی تھی۔

جمع کی گئی بولیاں آج ہی شام کو کھول دی گئیں اور عارف حبیب کنسورشیم نے تیسرے مرحلے میں سب سے بڑی پیشکش دی۔

ایئر لائن کی بولی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے نجکاری عمل کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

ایکس پر جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا: ’یہ پاکستان کے عوام سے ہمارا پختہ عزم تھا کہ معیشت پر بوجھ بننے والے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے تیز اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے شفاف اور انتہائی مسابقتی بولی کے عمل کی کامیاب تکمیل اس عزم کی تکمیل میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک کے بڑے کاروباری گروپس اور پاکستان کے تجربہ کار اور معتبر سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت ہماری معیشت اور اس کے مستقبل پر ایک مضبوط اعتماد کا اظہار ہے۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نجکاری کا یہ عمل جاری ہے اور آنے والے دنوں میں ’ہم اپنی قوم کے لیے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے مزید عزم، محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘

 پی آئی اے کی بولی دوسری مرتبہ لگ رہی ہے۔ 

حکومت پاکستان اور نجکاری کمیشن کے زیر اہتمام پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں منعقد کردہ بولی ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔ 

1955 میں قائم کی گئی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیا کی جدید ایئر لائن سمجھی جاتی تھی۔ تاہم 1990 کے بعد سے ناصرف اسے مسلسل خسارے کا سامنا ہے بلکہ اس کی عالمی پروازوں میں بھی واضح کمی آئی ہے۔

گذشتہ روز جاری کیے گئے اعلامیہ میں نجکاری کمیشن نے کہا ہے کہ بولی دہندگان کی طرف سے سیل کی گئی بولیاں صبح ساڑھے 10 بجے جمع کروائی جائیں گی۔ جبکہ ساڑھے تین بجے بولی دہندگان کی موجودگی میں بولیاں کھولی جائیں گی۔

پی آئی اے سی ایل کی بولی کے حوالے سے قیمت صرف پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور کیبنٹ کمیٹی برائے نجکاری بولی موصول ہونے کے بعد منظور کرے گی۔

تین بولی دہندگان

لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، اور میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم

کنسورشیم جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی سکولز (پرائیویٹ)  لمیٹڈ، اور لیک سٹی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔

3۔ 

ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ

 

پاکستان اپنی خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن کے 51 سے 100 فیصد حصص/شئیرز فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فنڈز اکٹھے کیے جا سکیں اور ان سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جا سکیں جو ملکی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ 

یہ اقدام سات ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی ائیرلائن کی نجکاری تقریباً دو دہائیوں میں ملک کی پہلی بڑی نجکاری تھی۔

بولی میں پری کوالیفائی ہونے والے کنسورشمز میں لکی سیمنٹ کنسورشیم، ایئر بلیو اور عارف حبیب کنسورشیم شامل تھیں جب کہ فوجی فرٹیلائزر اس بولی میں حصہ نہیں لیا۔

جہاں ایک جانب یہ نجکاری وزیر اعظم شہباز شریف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت کی گئی وہیں دوسری جانب اس کے خلاف آئے روز احتجاج بھی ہو رہے ہیں۔ 

پی آئی اے سی بی اے یونین کے مرکزی صدر ہدایت اللہ نے اس ضمن میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جو کمپنیاں پہلے نجکاری کے عمل سے گزری ہیں، ان کے ملازمین کو اب تک ان کے بقایاجات نہیں مل سکے۔

ان کے مطابق، ’یہی وجہ ہے کہ ہمیں ابھی تک کسی نے ان بورڈ نہیں لیا کہ آگے کیا اقدامات کیے جائیں گے، ریٹائرڈ ملازمین کا کیا ہو گا، حاضر سروس ملازمین کے ساتھ کیا ہو گا اور اس طریقے سے ہمارے تمام اثاثے کیسے متاثر ہوں گے۔‘

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ قومی ایئرلائن خریدنے والے کو اب نئے جہاز خریدنے پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہو گا اور بولی دہندگان کو چند ضمانتیں بھی دی گئی ہیں۔

محمد علی کے مطابق بکنے والی چیزوں میں سرفہرست پی آئی اے کے جہاز، روٹس اور جہاز کے انجن شامل ہیں۔

مشیر نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین سے متعلق کہا کہ ’ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ کنٹریکٹ کی تمام ارینجمنٹس پورے کیے گئے، جن میں ان کی پینشن، میڈیکل، سبسیڈیز، ٹکٹس تمام چیزیں ادا کی جائیں گی۔ جبکہ موجودہ ملازمین کی بھی پینشن اور تمام کمیٹمنٹس آنر ہوں گے اور تمام ملازمین کو 12 ماہ تک نیا بڈر نوکری سے نکال نہیں سکے گا۔‘

حکومت پاکستان نے گذشتہ سال نومبر میں پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی جو بری طرح ناکام رہی۔

نجکاری کمیشن نے قومی فضائی کمپنی کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی لیکن بولی میں شریک واحد بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے انتہائی کم 10 ارب روپے کی پیش کش کی، جس کے بعد نجکاری موخر کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت