کرک میں پولیس وین پر حملہ، پانچ اہلکار مارے گئے: پولیس 

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی پولیس نے بتایا کہ منگل کی صبح نامعلوم افراد نے پولیس وین پر حملہ کیا جس سے پانچ اموات ہوئیں۔

خیبرپختونخوا کے علاقے جنوبی وزیرستان میں 18 اکتوبر 2017 کو ایک فوجی اہلکار انگور اڈہ چیک پوسٹ پر موجود ہے (فائل فوٹو/ روئٹرز)

خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی کرک میں پولیس کے مطابق منگل کی صبح نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس موبائل سکواڈ کی گاڑی پر حملے کے نتیجے میں پانچ اہلکار جان سے گئے ہیں۔ 

کرک پولیس کے کنٹرول روم کے اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گرگری پولیس سٹیشن کی حدود میں دوران ڈیوٹی موبائل سکواڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ اہلکار جان سے چلے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع کرک میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی مذمت کی اور کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد ہی میں جاری ہونے والے ایک بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کرک واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ‎ سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملہ درندہ صفت عناصر کی کھلی بربریت ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ ’شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ریاست پوری قوت سے دہشت گردوں کو جواب دے گی۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی نے کرک میں پولیس وین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس موبائل پر حملہ  انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں سہیل افریدی نے کہا کہ ’ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان