حکومت نے پرانے ’نیٹ میٹرنگ‘ سسٹم کو ختم کر کے ’نیٹ بلنگ‘ سسٹم متعارف کر دیا ہے۔
نیٹ میٹرنگ میں سولر صارفین اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی گرڈ میں بیچ کر اسے اپنے استعمال والی بجلی سے ایک سے ایک برابر کر سکتے تھے۔ نیٹ بلنگ میں سولر صارفین گرڈ کو بیچی گئی بجلی کا کم معاوضہ (تقریباً 11 روپے) حاصل کریں گے، جبکہ گرڈ سے لی گئی بجلی پر مکمل ٹیرف ادا کرنا ہو گا۔ حکومتی اتحادیوں کے اعتراضات کے بعد اس پالیسی میں کچھ ردو بدل ہو سکتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ بدلے ہیں، مگر سوال وہی پرانا ہے کہ اس ملک کا عام آدمی آخر کب سکھ کا سانس لے گا؟ جن لوگوں کے پاس نیٹ میٹرنگ کی سہولت نہیں ہے ان پر کیا معاشی اثرات ہوں گے؟
اس وقت ملک بھر میں تقریباً تین کروڑ 45 لاکھ بجلی صارفین ہیں، جن میں سے صرف چار لاکھ 66 ہزار کے قریب صارفین نیٹ میٹرنگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 1.35 فیصد سے 1.4 فیصد صارفین ہی نیٹ میٹرنگ استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی تقریباً 98.6 فیصد صارفین نیٹ میٹرنگ استعمال نہیں کرتے۔ زیادہ تر لوگ (تقریباً 99 فیصد) نیٹ میٹرنگ صارف نہیں ہیں، اس لیے نیٹ میٹرنگ سے براہ راست مالی فائدہ یا نقصان ان پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ لیکن نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے نظامی اثرات (جیسے ٹیرف، سبسڈیز، بجلی کی لاگت) تمام صارفین کو بالواسطہ متاثر کر سکتے ہیں، چاہے ان کے پاس سولر نہ ہو۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے کے فیصلے کا اثر زیادہ تر امیر اور بڑے صارفین پر پڑے گا، کم آمدنی والے گھرانے متاثر نہیں ہوں گے۔ بظاہر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے لیکن معاشیات کا اصول یہ کہتا ہے کہ توانائی کے نظام میں کوئی بھی تبدیلی آخر کار قیمتوں کے ذریعے پورے معاشرے میں منتقل ہوتی ہے۔
بظاہر لگتا ہے کہ اکثریت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن سچ یہ ہے کہ توانائی کا نظام ایک زنجیر کی طرح ہوتا ہے، ایک کڑی ہلے تو پوری زنجیر کانپتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر حکومت بجلی کے شعبے کے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ بجلی کے بنیادی نرخ مستحکم رہیں گے؟ اگر نہیں، تو عام صارف بھی بالواسطہ متاثر ہو گا۔
حکومت نیٹ میٹرنگ صارفین کی وجہ سے گرڈ پر پڑنے والے نقصان یا صنعتی ریلیف کی قیمت سب صارفین پر منتقل کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے گھریلو صارفین پر فی یونٹ اضافی رقم یا فکسڈ چارج لگایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حکومت نے ایکسپورٹرز کے لیے بجلی کی قیمت میں تقریباً چار روپے فی یونٹ کمی کی ہے اور گھریلو صارفین کے لیے فکسڈ چارجز دو سو سے چھ سو روپے تک بڑھا دیے ہیں۔ مستقبل میں اس طرح کے مزید بوجھ عوام پر ڈالے جا سکتے ہیں۔
اگر حکومت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کر دیتی ہے تو اس سے آئی پی پیز کو ادا کیے جانے والے کیپسٹی چارجز کم ہو سکتے ہیں۔ نیٹ بلنگ سے سولر صارفین کی بجلی کم ریٹ پر خریدی جا سکتی ہے اور زیادہ قیمت پر بیچی جا سکتی ہے۔ اس سے گرڈ کی آمدن بڑھے گی اور صارفین پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سولر کے استعمال کا رجحان کم ہو سکتا ہے جس کے باعث آئی پی پیز کی پیدا کی گئی بجلی کا استعمال بڑھ سکتا ہے اور کیپسٹی چارجز میں کمی آ سکتی ہے۔ اس وقت کیپسٹی چارجز کا بوجھ تمام صارفین پر پڑ رہا ہے چاہے وہ نیٹ میٹرنگ استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن زیادہ بوجھ نیٹ میٹرنگ کی سہولت استعمال نہ کرنے والوں پر پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنا بوجھ حکومت کو بجلی بیچ کر کم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ عام بجلی صارف کے لیے نیٹ میٹرنگ کے نقصانات زیادہ ہیں۔
تقریباً سات ہزار میگاواٹ تک کی بجلی اس نظام کے تحت گرڈ کو فراہم ہو رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں سولر کی کل انسٹالیشن میں سے صرف ایک حصہ گرڈ سے منسلک ہے۔ زیادہ تر سسٹمز آف گرڈ یا خود استعمال کے لیے ہیں، جو گرڈ کو بجلی فراہم نہیں کر رہے۔ ان میں سے اکثر سسٹم زرعی رقبوں پر کھیتی باڑی کے لیے لگائے گئے ہیں، جو صرف دن کے وقت استعمال ہوتے ہیں اور رات کو بند رہتے ہیں۔ ایسے صارفین پر نیٹ میٹرنگ ہونے یا نہ ہونے کا براہ راست فرق نہیں پڑے گا۔ گرڈ کی مجموعی بجلی کی طلب میں نیٹ میٹرنگ کا حصہ محدود ہے، لیکن اس کے باوجود یہ توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں قدم ضرور ہے۔
حکومتی سطح پر سولر کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے باعث مارکیٹ میں سولر سسٹم کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے جس کے باعث کم آمدن والے گھرانے نیٹ میٹرنگ کے بغیر سولر پلیٹیں خرید سکتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کا زیادہ استعمال گرمیوں میں ہوتا ہے اور گرمیوں میں دھوپ بھی تیز ہوتی ہے جس کے باعث دن کے وقت سولر کا استعمال گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کا بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کے مہنگے ہونے کی وجہ نیٹ میٹرنگ نہیں ہے، بلکہ بجلی چوری، لائن لاسز اور مہنگے معاہدے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ ہو یا نیٹ بلنگ، بجلی کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کم ہیں۔ عام آدمی کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ نیٹ میٹرنگ ختم ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا بجلی کا بل کم ہو گا؟ کیا لوڈ شیڈنگ کم ہو گی؟ کیا گرمیوں میں پنکھا چلانے سے پہلے وہ میٹر کی سوئی کو گھورتا نہیں رہے گا؟
اگر نئی پالیسی بجلی کے شعبے کا مالی خسارہ کم کر کے مستقبل میں نرخ مستحکم رکھتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہو گا۔ لیکن اگر اس کے باوجود نرخ بڑھتے رہے تو متوسط طبقہ، جو پہلے ہی ٹیکسوں اور مہنگائی کے دباؤ میں ہے، مزید پس جائے گا۔