امریکہ: 24 برس قبل لاپتہ ہونے والی خاتون کا سراغ کیسے ملا؟

 کرسمس کی خریداری کے دوران غائب ہونے والی شمالی کیرولائنا کی تین بچوں کی ماں نے حکام کو بتایا کہ انہوں نے ’مسلسل گھریلو مسائل‘ کی وجہ سے خاندان کو چھوڑا۔

دسمبر 2001 میں کرسمس کی خریداری کے لیے جانے کے بعد مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی (ایف بی آئی)

24 سال قبل کرسمس کی خریداری کے دوران غائب ہونے والی شمالی کیرولائنا کی تین بچوں کی ماں نے حکام کو بتایا کہ انہوں نے ’مسلسل گھریلو مسائل‘ کی وجہ سے اپنے خاندان کو چھوڑا تھا۔

اُس وقت 38 سال کی مشیل لِن ہنڈلی سمتھ دسمبر 2001 میں کرسمس کی خریداری کے لیے ورجینیا کی سرحد کے بالکل جنوب میں واقع قصبے ایڈن سے اپنے گھر سے نکلی تھیں، لیکن کبھی واپس نہیں آئیں۔

تاہم حکام نے جمعے کو اعلان کیا کہ اب 62 سالہ مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کو ’زندہ اور بخیریت‘ تلاش کر لیا گیا ہے۔

راکنگھم کاؤنٹی کے شیرف سیم پیج نے پیپل میگزین کو بتایا کہ ’ان کی صحت اچھی ہے۔‘

پیج نے کہا کہ ’میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے جانے کے حوالے سے کسی مجرمانہ کارروائی کا کوئی الزام نہیں تھا۔ لیکن مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت مسلسل گھریلو مسائل کی وجہ سے چلی گئی تھیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ خاتون نے ’اس پر مزید تفصیل نہیں بتائی۔‘ اور کہا کہ شیرف کے دفتر میں ان کے غائب ہونے سے پہلے کسی گھریلو مسئلے کی رپورٹ کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

 شیرف سیم پیج نے سراغ رسانوں کی ’بہترین کارکردگی‘ پر ان کی تعریف کی اور کہا کہ گمشدہ افراد کے زیادہ تر مقدمات اس طرح حل نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے جا کر اس خاتون کو ڈھونڈ نکالا جو کئی سال سے، 20 سے زیادہ برسوں سے غائب تھیں، اور ہم گمشدہ افراد کے ایسے بہت کم مقدمات دیکھتے ہیں۔ لیکن اب کم از کم خاندان کو تسلی ہو گئی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔‘

دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کی گمشدگی نے مقامی حکام کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد برسوں پر محیط تلاش شروع ہوئی جس میں ایف بی آئی سمیت کئی ایجنسیاں شامل تھیں۔ ان کی گمشدگی کے وقت، حکام نے انہیں ’خطرے سے دوچار بالغ‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ’اپنی مرضی سے اپنے بچوں کو نہیں چھوڑنے والی۔‘

راکنگھم کاؤنٹی کے شیرف کے دفتر نے جمعہ کو کہا کہ سراغ رسانوں کو تقریباً 25 سال قبل ان کی گمشدگی کے حالات کے بارے میں ’نئی معلومات‘ ملنے کے بعد انہوں نے مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کو ڈھونڈ نکالا۔

اطلاع ملنے کے بعد تفتیش کاروں نے شمالی کیرولائنا میں ایک نامعلوم مقام پر مشیل لِن ہنڈلی سمتھ  کے ساتھ رابطہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ ان کا موجودہ ٹھکانہ نہیں بتایا گیا ہے، لیکن ان کے خاندان کو ان کی صورت حال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

گمشدہ خاتون کے ملنے کے بعد، سراغ رسانوں نے یہ مقدمہ مقامی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کو بھیج دیا۔

شیرف راکنگھم کاؤنٹی کے سیم پیج نے نشریاتی ادارے کو بتایا: ’یقیناً سوال یہ تھا کہ جب وہ گئی تھیں تو ان کے تین بچے تھے، جو اپنے والد کے ساتھ تھے۔ ہمارے سراغ رساں ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر سے رابطے میں ہیں، کہ آیا بچوں کو چھوڑ کر جانے یا اس جیسی کسی اور چیز پر کوئی الزام عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘

بدھ تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ اتوار کو خاتون کے ایک حیران بچے نے مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کو تلاش کرنے کے لیے بنائے گئے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس دریافت نے ’جذبات کا طوفان‘ برپا کر دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ’جہاں تک میری ماں کے بارے میں میری آرا اور احساسات کا تعلق ہے، میں بے حد خوش ہوں، میں غصے میں ہوں۔ میرا دل ٹوٹا ہوا ہے اور میں انتہائی الجھن کا شکار ہوں۔‘

’کیا میرا اپنی ماں کے ساتھ دوبارہ کوئی رشتہ بن پائے گا؟ سچ کہوں تو میں اس کا جواب نہیں دے سکتی کیوں کہ مجھے خود بھی نہیں معلوم۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوسٹ میں مزید کہا گیا: ’میرا ابتدائی ردعمل ہاں ہوگا، بالکل، لیکن پھر میں اس تمام تکلیف کے بارے میں سوچتی ہوں. لیکن اس کے باوجود، میری ماں صرف ایک انسان ہے، بالکل ہم سب کی طرح۔‘

اگرچہ مذکورہ خاتون کی بیٹی نے تسلیم کیا کہ ان کی ماں نے ایک نئی زندگی کا ’انتخاب‘ کیا لیکن انہوں نے پھر بھی ان کے ساتھ جڑی اپنی خوبصورت یادیں شیئر کیں۔

انہوں نے لکھا، ’جب میری ماں میری روزمرہ کی زندگی کا حصہ تھیں، تو انہوں نے مجھے وہ پیار دیا اور ایسا رشتہ قائم کیا جسے کبھی بھی نہیں بھلایا جا سکے گا۔ یقیناً ماں بیٹی کی بحث بھی ہوتی تھی، لیکن اس وقت مجھے صرف وہ مسکراہٹیں یاد آ رہی ہیں جو ہم نے بانٹیں، وہ وقت جو خوشگوار تھا، اور وہ پیار جو میں نے محسوس کیا۔‘

انہوں نے انٹرنیٹ پر قیاس آرائیاں کرنے والے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں شک تھا کہ خاتون کی گمشدگی میں ان کے والد کا کوئی ہاتھ ہے۔

مشیل لِن ہنڈلی سمتھ کی بیٹی نے لکھا، ’میرے والد نے بہت کچھ سہا ہے اور میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اگرچہ ان کی شادی میں مسائل تھے (جیسا کہ بہت سی شادیوں میں ہوتے ہیں) لیکن میری ماں محض ایک بری شادی کی وجہ سے نہیں گئی تھیں۔ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے لیکن براہ کرم یاد رکھیں کہ میرے والد بے گناہ ثابت ہو چکے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی گھر