پاکستانی وزیر اعظم کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات، غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا۔

پاکستان کی میزبانی میں چار ممالک کے وزارے خارجہ کے مشترکہ اجلاس کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اتوار کی شام وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

حکومت پاکستان کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے جاری بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

قریبی روابط کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، فریقین نے تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن اور خوشحالی میں کردار ادا کرنے کے لیے دو طرفہ اور کثیر جہتی سطحوں پر مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

قبل ازاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے خطے میں موجود کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرا خارجہ نے آج اتوار کو اسلام آباد میں ملاقات کی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ چار طرفہ اجلاس 'ابھرتی ہوئی علاقائی صورت حال کا جائزہ لینے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا۔‘

مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اس سے قبل اسی قسم کے ریاض میں اجلاس کا تسلسل قرار دے رہے ہیں تاکہ ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اتوار کو اسحاق ڈار نے حاقان فیدان اور ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا وزارت خارجہ میں علیحدہ علیحدہ استقبال کیا۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور ڈاکٹر بدر نے ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، دوطرفہ تعلقات پر مفید بات چیت کی اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، معاشی تعاون بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اسی طرح اسحاق ڈار اور حاقان فیدان کی ملاقات میں مضبوط باہمی تعلقات کی توثیق کی گئی، ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال اور امن و استحکام کے لیے مکالمے، کشیدگی میں کمی، سفارت کاری اور باہمی ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔

اس سے قبل دفتر خارجہ نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں بتایا تھا کہ دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت متعدد امور پر تفصیلی مشاورت ہو گی۔

بیان کے مطابق پاکستان ’سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے برادر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

’یہ دورہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

اسحاق ڈار نے بھی کل نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں اس اہم دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مہمان وزرائے خارجہ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

انہوں نے بتایا ’ہماری ملاقات ترکی میں طے تھی، تاہم مصروفیات کی وجہ سے میں نے بھائیوں کو اسلام آباد میں دعوت دی۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور ’ایمان داری، نیک نیتی سے تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے باعث میڈیا پر بات چیت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔‘

پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں بتایا تھا کہ اسلام آباد اس حوالے سے ’ایک پرخلوص اور فعال کردار ادا کر رہا ہے جس کا مقصد امت مسلمہ کی بہتری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں خود کئی بار ایران اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت سے بات کر چکا ہوں تاکہ امن کی راہ ہموار ہو اور برادر اسلامی ممالک کو نقصان سے بچایا جا سکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس حوالے سے ہفتے کو شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک گفتگو کی جس میں مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر کو کشیدگی ختم کرانے کے سلسلے میں سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا۔

ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس تفصیلی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیل سے بات چیت کی۔

بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے جاری سفارتی رابطوں کے بارے میں بتایا جن کا مقصد امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کو مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے متحرک کرنا ہے۔

ادھر ہفتے کی رات اسحٰق ڈار نے اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ ایران نے پاکستان کے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے یہ اہم خبر شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دو جہاز روزانہ اس آبنائے کو عبور کریں گے۔‘

اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطہ کر کےعلاقائی صورت حال اور تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’ پائیدار امن کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا