شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا: ایوان وزیراعظم

شہباز شریف نے بدھ کو ٹیلفونک رابطے میں سعودی ولی عہد کو تمام فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی سے آگاہ کیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور شہباز شریف کے درمیان 28 اکتوبر 2025 کو ریاض میں ہوئی ملاقات کی تصویر (اے ایف پی/ ایس پی اے)

 وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بدھ کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ اسلام آباد ’اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ ،خلیجِ فارس میں جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اور بات چیت کے ذریعے کوششوں کے لیے بدستور پرعزم ہے۔‘

جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کی رضامندی سے مشروط، پاکستان جاری تنازع کے جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو اعزاز سمجھتا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ولی عہد محمد سلمان سے گفتگو میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور ایک بار پھر اس مشکل وقت میں مملکت اور اس کے عوام کے لیے پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی ولی عہد کو تمام فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی کے بارے میں آگاہ کیا جس میں کشیدگی کو کم کرنے اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔‘

 پاکستان کے وزیر اعظم دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے موجودہ بحران میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر مملکت کی قیادت کو سراہتے ہوئے ’سعودی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ مملکت اور سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا، اسی طرح جس طرح انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 وزیراعظم نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور حالات کو معمول پر لانے پر زور دیا تاکہ علاقائی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے امت کی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی پر زور دیا جس کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

 بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی ولی عہد نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

 امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جس کے بعد ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔

 جبکہ ایران نے خلیجی توانائی کے انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے اور اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

 اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اسلام آباد نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

 برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس کے بعد پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کی، جس میں انہوں نے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ’فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پس پردہ مذاکرات ’مثبت سمت‘ میں جاری ہیں لیکن تہران نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان