|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 26واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
رات 11 بج کر 55 منٹ
ایران کے حملے علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں: سعودی وزارت خارجہ
سعودی عرب نے کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن سمیت بدھ کو مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے حالیہ حملے ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
#بيان | تجدد كل من المملكة العربية السعودية، ودولة الكويت، ودولة الإمارات العربية المتحدة، ومملكة البحرين، ودولة قطر، والمملكة الأردنية الهاشمية، إدانتها بأشد العبارات للاعتداءات الإيرانية السافرة، التي تعد انتهاكاً صارخاً لسيادتها وسلامة أراضيها وللقانون الدولي والقانون الدولي… pic.twitter.com/DmS4vYHd68
— وزارة الخارجية (@KSAMOFA) March 25, 2026
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں، چاہے یہ حملے براہِ راست کیے گئے ہوں یا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے۔
تمام ممالک نے خاص طور پر عراق سے ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک، تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی، جنہیں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کی بھی خلاف ورزی ہیں، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر ہمسایہ ممالک کے خلاف ہر قسم کی جارحیت یا دھمکی، بشمول پراکسیز کے استعمال، بند کرے۔
ان ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
رات 10 بج کر 41 منٹ
روس کا ایرانی جوہری پلانٹ پر حملے کی اطلاع پر 'شدید غم و غصے' کا اظہار
روس نے بدھ کے روز بوشہر جوہری بجلی گھر کی حدود میں ہونے والے مبینہ حملے پر ’شدید غم و غصے‘ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ‘ اقدام قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بوشہر پلانٹ کی تعمیر اور اس کے انتظامی امور میں روس کا کلیدی کردار رہا ہے، جس کی وجہ سے ماسکو اس صورتحال پر گہری تشویش میں مبتلا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی (AFP) کے مطابق، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم نے کہا ہے کہ منگل کی رات پلانٹ کے احاطے میں ایک پراجیکٹائل گرا، جس کے لیے امریکہ اور اسرائیل ذمہ دار ہیں۔ ایران نے اس حملے کو اپنی خود مختاری اور عالمی جوہری حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری نے جوہری تنصیبات کو جنگی نشانہ بنانے کے خطرات پر انتباہ جاری کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔
رات 8 بج کر 41 منٹ
اقوام متحدہ کے سربراہ کی امریکہ، اسرائیل اور ایران سے جنگ بندی کی اپیل: 'اب بہت ہو چکا'
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کریں، جبکہ تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے بند کرے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ جنگ ’بہت آگے بڑھ چکی ہے‘ اور انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔
گوتریس نے خبردار کیا کہ عالمی برادری ایک ایسی وسیع علاقائی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور امن پر پڑ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق، یو این چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے امریکی بحری بیڑے پر میزائل حملوں اور اسرائیل کی تہران میں بمباری کے باعث کشیدگی عروج پر ہے۔
انہوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کی اپیل کی تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ نے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں لاکھوں بے گھر افراد کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
شام 8 بج کر 15 منٹ
پاکستانی وزیراعظم کا قطری امیر سے فون پر رابطہ
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد ال ثانی کو ایران جنگ کے خاتمے کی بابت پاکستان کی سفارتی رسائی اور کوششوں سے آگاہ کیا۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے گفتگو کے دوران قطر اور دیگر برادر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا اور ان حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق انہوں نے امیر قطر اور قطر کی عوام کو اس مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا۔
Spoke with my dear brother His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani this evening. We exchanged warm Eid-ul-Fitr greetings and prayers for peace, stability, and prosperity for our peoples and the Ummah.
I reiterated Pakistan’s strong condemnation of the recent attacks…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 25, 2026
موجودہ صورتحال کے تناظر میں قطر کے غیر معمولی تحمل کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کی سفارتی رسائی اور امن کی کوششوں سے امیر قطر کو آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کرنے پر زور دیا۔
قطر کے امیر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
شام 7 بج کر 15 منٹ
امریکی تجاویز مسترد، ایران کی جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط
سینیئر سکیورٹی اہلکار نے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پریس ٹی وہ کو بدھ کو بتایا کہ تہران نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک امریکی تجویز پر منفی ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ سیز فائر صرف تہران کی شرائط اور ٹائم لائن پر ہو گی۔
اس تجویز کی تفصیلات سے واقف اہلکار نے پریس ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
’ایران جنگ کو اس وقت ختم کرے گا جب وہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرے گا اور جب اس کی اپنی شرائط پوری ہو جائیں گی۔‘
اہلکار نے تہران کے اپنے دفاع کو جاری رکھنے اور اس کے مطالبات پورے ہونے تک دشمن پر ’زبردست وار‘ کرنے کے عزم پر زور دیا۔
اہلکار کے مطابق، تہران امریکی شرائط کو ’ضرورت سے زیادہ‘ سمجھتا ہے۔
اہلکار نے پانچ مخصوص شرائط کا خاکہ پیش کیا جن کے تحت ایران جنگ ختم کرنے پر رضامند ہو گا۔
دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتل و غارت گری‘ کو مکمل روکنا۔
اسلامی جمہوریہ پر دوبارہ جنگ مسلط نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس میکانزم کا قیام۔،
جنگی نقصانات اور معاوضے کی ضمانت اور واضح طور پر بیان کردہ ادائیگی۔
تمام محاذوں اور پورے خطے میں شامل تمام مزاحمتی گروہوں کے لیے جنگ کا اختتام۔
آبنائے ہرمز پر اختیار استعمال کرنے کے ایران کے خود مختار حق سے متعلق بین الاقوامی تسلیم اور ضمانتیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرائط 2025 میں جنیوا میں پیش کی گئی شرائط کے علوہ ہیں۔
شام 6 بج کر 30 منٹ
بیک چینل ڈپلومیسی کے درمیان ایران کا امریکی بحری بیڑے پر میزائل حملہ
تہران کی جانب سے بدھ کے روز امریکی بحری بیڑے 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' پر کروز میزائل داغنے کا کہا گیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری چار ہفتوں سے طویل جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد امریکی بیڑے کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنی پڑی۔ دوسری جانب اسرائیل نے تہران اور اصفہان میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی (AFP) کے مطابق، میدانِ جنگ میں تناؤ کے باوجود پس پردہ سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک 15 نکاتی امن منصوبے اور مذاکرات کی موجودگی کا اشارہ دیا ہے، تاہم ایران نے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس جنگ کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں؛ آبنائے ہرمز کی جزوی بندش سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث ویتنام سے سری لنکا تک ایندھن کی قیمتیں بڑھنے اور توانائی کے بحران کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ عالمی توانائی ایجنسی نے صورتحال بگڑنے کی صورت میں ہنگامی تیل کے ذخائر مارکیٹ میں لانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
شام 6 بجے
ایران کو امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی تجاویز موصول: پاکستانی حکام
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق دو پاکستانی حکام نے اسے بدھ کو بتایا کہ ایران کو جنگ بندی کے لیے امریکہ کی 15 نکاتی تجویز موصول ہو گئی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں مجموعی طور پر جن امور پر بات کی گئی ہے، ان میں پابندیوں میں نرمی، سول نیوکلیئر تعاون، ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی، میزائل حدود اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی شامل ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر یہ منصوبہ ایران کو اس وقت پیش کیا ہے جب امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے حالانکہ دوسی جانب مزید امریکی فوجیں مشرقِ وسطیٰ بھیجی جا رہی ہیں۔
ایک ایسے شخص نے، جو اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ تھا مگر سرعام بات کرنے کا مجاز نہیں تھا، اے پی کو بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستانی حکومت کے ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیش کیا گیا، جنہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
شام 5 بج کر 22 منٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوران سنگین ہیومینیٹیرین بحران، امریکی امداد میں کٹوتیاں
امریکہ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں بھاری کٹوتیوں کے باعث انسانی ہمدردی کی تنظیمیں شدید مشکلات کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے متاثرہ لاکھوں بے گھر افراد کی مدد کے لیے فنڈز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'یو ایس ایڈ' (USAID) کے خاتمے کے فیصلے نے عالمی سطح پر امدادی کارروائیوں کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین کو فارغ اور زندگی بچانے والے پروگرام بند کرنے پڑے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایران اور لبنان میں اب تک 42 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ یو این ایچ سی آر (UNHCR) کو صرف لبنان میں 6 لاکھ افراد کی امداد کے لیے فوری طور پر 61 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق، ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں تو مزید 45 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف انسانی حقوق کے گروپ فنڈز کی کمی کا کہہ رہے ہیں، وہیں پینٹاگون جنگ کے لیے اضافی 200 بلین ڈالر کا تقاضا کر رہا ہے۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے صرف پہلے ہفتے کے اخراجات 11.3 بلین ڈالر رہے، جو بائیڈن دور کے پورے سال کے عالمی امدادی بجٹ کے برابر ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا موقف ہے کہ ایران جیسے خطرات کا خاتمہ ہی اصل انسانی ہمدردی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق ان پالیسیوں سے دنیا کے غریب ترین طبقے بشمول بچوں اور مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔
شام 5 بج کر 17 منٹ
فرانس میں توانائی کی صورت حال یگر یورپی ممالک کی طرح سنگین نہیں: وزیر خزانہ فرانس
فرانسیسی وزیر خزانہ رولینڈ لیسکیور کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی سپلائی میں بڑے پیمانے پر کمی کے باوجود فرانس میں توانائی کی صورتحال دیگر یورپی ممالک کی طرح سنگین نہیں ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرانس اپنے یورپی پڑوسیوں کے مقابلے میں بہتر طور پر تیار ہے اور اسے خطرات کا سامنا کم ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی، کھاد اور پیٹرو کیمیکلز کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا کو روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی کمی کا سامنا ہے، جو کہ عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ شیل کے سی ای او وائل ساوان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگلے ماہ تک پورے یورپ کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شام 5 بج کر 15 منٹ
ہزاروں ایلیٹ امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے پر غور
شام 5 بج کر 10 منٹ
پاکستان نے جنگ بندی کی امریکی تجویز ایران کو پہنچا دی: روئٹرز
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے بدھ کو برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے امریکہ کی طرف سے ایران کو ایک تجویز پیش کر دی ہے اور خلیج میں جنگ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات پاکستان یا ترکی میں سے کسی ایک میں منعقد ہو سکتے ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار کی طرف سے یہ تبصرے، ان چند نشانیوں میں شامل تھے کہ تہران سفارتی تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار تھا، باوجود اس کے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
ایرانی ذریعے نے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، یا یہ 15 نکاتی امریکی تجویز جیسی تھی جس کی خبر روئٹرز سمیت خبر رساں اداروں نے دی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ ترکی نے بھی ’جنگ ختم کرنے میں مدد کی تھی اور اس طرح کے مذاکرات کے لیے ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر غور کیا جا رہا تھا۔‘
بدھ کے روز تیل کی قیمتیں گر گئیں اور حصص کی قیمتیں اس وقت بحال ہوئیں جب ان اطلاعات کے بعد کہ امریکہ نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیجا ہے، سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ وہ تقریباً چار ہفتوں کی جنگ کے خاتمے کی امید کر رہے ہیں جس سے ہزاروں افراد مارے گئے ہیں اور عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔
اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے منگل کو روئٹرز کو تصدیق کی تھی کہ یہ منصوبہ ایران کو بھیجا گیا ہے۔
ترکی پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران کا پڑوسی پاکستان پہلے ہی مذاکرات کی میزبانی کرنے کی پیشکش کر چکا ہے جس میں اس ہفتے جلد ہی سینیئر امریکی حکام شرکت کریں گے۔
ترکی میں حکمراں جماعت کے ایک سینیئر عہدیدار ہارون ارماگان نے بدھ کے روز روئٹرز کو بتایا کہ انقرہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’پیغام پہنچانے کا کردار ادا کر رہا ہے۔‘
لیکن اب تک ایران کی طرف سے عوامی سطح پر یہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے بات چیت کے لیے تیار ہے، جبکہ اس کے یہ دعوے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا، تیزی سے کاسٹک ہوتا جا رہا ہے۔
شام 4 بج کر 45 منٹ
اسحٰق ڈار کی ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے بدھ کو ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کی حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
شام 4 بجے
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی کوشش قابل تحسین ہے: ملائیشین وزیراعظم
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کی بروقت اور تعمیری پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ملائیشیا پاکستان کو متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعلقات اور مسلم دنیا میں ایک قابل اعتماد آواز کے طور پر کھڑا ہونے اور بامعنی مذاکرات کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں رکھتا ہے۔
پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ’میں عمان اور دیگر دوست ممالک کی قیادت کی پہلے کی قابل ستائش کوششوں کے بعد شدید علاقائی خطرے کے لمحے میں آگے بڑھنے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر دوست ممالک کے رہنماؤں کی تعریف کرتا ہوں۔
’ملائیشیا اس اقدام کی حمایت کرتا ہے اور خاص طور پر امریکہ اور ایران کو اس جذبے کے ساتھ جواب دینے کی ترغیب دیتا ہے جس میں اس کی پیشکش کی گئی تھی۔ میں محتاط امید کے ساتھ نوٹ کرتا ہوں کہ اشارے چاہے نامکمل کیوں نہ ہوں، جو تجویز کرتے ہیں کہ سفارت کاری کے لیے کچھ جگہ اب بھی موجود ہو سکتی ہے۔ اس جگہ کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ سلوک کیا جانا چاہئے جس کا وہ مستحق ہے۔‘
I welcome Pakistan’s timely and constructive offer to host dialogue between the United States and Iran. I commend Prime Minister Shehbaz Sharif and the leaders of other friendly nations for stepping forward at a moment of acute regional danger, following the earlier commendable… pic.twitter.com/ObtNuey9OS
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) March 25, 2026
دن 3 بج کر 30 منٹ
امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی: پاکستان میں ایرانی سفیر
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بدھ کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا اشارہ دینے کے بعد واشنگٹن یا تہران کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
اے ایف پی کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے میڈیا کے ذریعے بھی ایسی تفصیلات سنی ہیں، لیکن میری معلومات کے مطابق اور ٹرمپ کے دعووں کے برعکس، اب تک دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’یہ فطری ہے کہ دوست ممالک ہمیشہ اس ناجائز جارحیت کو ختم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ مشاورت میں مصروف رہتے ہیں۔‘
دن 3 بج کر 15 منٹ
امریکہ ایران کے عزم کا مزید امتحان نہ لے: سپیکر ایرانی پارلیمان
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی بھیجنے کے تناظر میں بدھ کو واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اسلامی جمہوریہ کے عزم کا امتحان نہ لے۔
غالباف نے انگریزی میں ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم خطے میں تمام امریکی نقل و حرکت، خاص طور پر فوجیوں کی تعیناتی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جو کچھ جرنیلوں نے توڑا ہے، فوجی اسے ٹھیک نہیں کر سکتے۔ اس کے بجائے، وہ (اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین) نتن یاہو کے فریب کا شکار ہو جائیں گے۔‘
We are closely monitoring all US movements in the region, especially troop deployments.What the generals have broke, the soldiers can't fix; instead, they will fall victim to Netanyahu's delusions.Do not test our resolve to defend our land.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) March 25, 2026
سہ پہر 3 بجے
جمعے کو ایرانی سکول پر حملے پر بحث ہو گی: اقوام متحدہ کی حقوق کونسل
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اس ہفتے مشرق وسطیٰ کی جنگ سے منسلک دوسری فوری بحث کے لیے تیار ہے، جس میں ایک ایرانی سکول پر مہلک حملے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
کونسل کے صدر سدھارتو رضا سوریودی پورو نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ انسانی حقوق کے ادارے کو بتایا کہ کونسل بیورو نے 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن (ایران کے) جنوبی شہر مناب میں ایک سکول پر فضائی حملے کے سلسلے میں ایران، چین اور کیوبا کی جانب سے فوری بحث کی درخواست کا جائزہ لیا اور ’یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جمعے کو فوری بحث کی جا سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ کونسل سے بدھ کے بعد فیصلے کی توثیق کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
دن ایک بج کر 30 منٹ
مشرق وسطیٰ تنازع: ’سفارتکاری کو رازداری کی ضرورت، نتائج کے لیے سرکاری اعلان کا انتظار کریں‘
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو ذرائع ابلاغ کے اداروں سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں جاری تنازع میں پاکستان سے متعلق ’جھوٹی خبروں اور افواہوں‘ سے دور رہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو ایک مختصر بیان میں کہا کہ ’ذرائع ابلاغ کے بہت سے ادارے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں جاری تنازع میں پاکستان سے متعلق قیاس آرائیوں، افواہوں اور جھوٹی معلومات چلا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مجھے ایسی نام نہاد پیش رفت پر تصدیق یا ردعمل کے لیے بہت سے کالز موصول ہو رہی ہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں انتہائی احترام سے اپنے گذشتہ روز کے پیغام کو دہراتا ہوں کہ سفارت کاری اور مذاکرات (فریقین کی) صوابدید (ہوتے ہیں) اور انہیں رازداری کی ضرورت ہوتی ہے۔
’لہذا میڈیا سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ قیاس آرائیوں سے دور رہے اور نتائج یا فیصلوں کے لیے سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔‘
دن 12 بج کر 55 منٹ
اسرائیل کا ایرانی بحری کروز میزائل بنانے والی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے تہران میں دو بحری کروز میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائیہ نے آئی ڈی ایف انٹیلیجنس کی بنیاد پر تہران میں دو اہم بحری کروز میزائل تیار کرنے والے مقامات پر حملے کیے۔‘
اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنصیبات ’طویل فاصلے تک مار کرنے والے بحری کروز میزائلوں کی تیاری اور پیداوار کے لیے استعمال ہوتی تھیں، جو سمندر اور خشکی دونوں پر اہداف کو تیزی سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
صبح 10 بج کر 50 منٹ
جانی نقصانات کی اب تک کی تفصیل
جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تو جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل گئی، اور خطے کے کئی ممالک میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔
خبر رساں ادارہ اے ایف پی ان تمام اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ یہ تعداد متاثرہ ممالک کی حکومتوں، فوجیوں، صحت کے حکام اور امدادی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
ایران
ایران کی حکومت نے حالیہ دنوں میں مجموعی جانی نقصان کے تازہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ تاہم امریکہ میں قائم Human Rights Activists News Agency نے 23 مارچ کو بتایا کہ کم از کم 3,268 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 1,443 شہری، جن میں کم از کم 217 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1,167 فوجی اہلکار جان کھو بیٹھے ہیں جبکہ 658 افراد کی حیثیت کی درجہ بندی نہیں کی گئی۔
لبنان
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ کو لڑائی شروع ہونے کے بعد سے 24 مارچ تک 1,072 افراد مارے گئے اور 2,966 زخمی ہوئے، جن میں 121 بچے شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق مرنے ہونے والوں میں 42 طبی کارکن بھی شامل ہیں۔
حزب اللہ نے اپنے نقصانات کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیل
اسرائیلی ہنگامی سروس اور حکام کے مطابق اب تک 16 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
خلیجی ممالک
خلیجی ریاستوں کے حکام اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 36 افراد مارے گئے ہیں جن میں 17 شہری اور ایک سویلین فوجی ٹھیکیدار شامل ہے۔
کویت کی فوج اور وزارتِ صحت نے 6 اموات کی اطلاع دی ہے: 2 فوجی، 2 سرحدی محافظ اور 2 شہری، جن میں ایک 11 سالہ لڑکی شامل ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق 8 افراد مارے گئے: 6 شہری اور 2 فوجی اہلکار جو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے، جس کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی۔
سعودی عرب کی شہری دفاع ایجنسی نے دو شہریوں کی موت کی اطلاع دی۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی دو شہریوں کی موت کی تصدیق کی، جبکہ امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ بحرین میں ایرانی حملے کے بعد اماراتی فوج کے لیے کام کرنے والا ایک مراکشی ٹھیکیدار مارا گیا۔
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی مرکز نے سمندر میں ایک ملاح کی موت اور صنعتی علاقے پر ڈرون حملے میں دو مزید افراد کے مرنے کی اطلاع دی۔
قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق قطر کے چار فوجی اہلکار اور 3 ترک شہری — جن میں ایک فوجی اور 2 عام شہری شامل ہیں — قطر کے علاقائی پانیوں میں ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے۔
سینٹ کام نے کویت میں 6 اور سعودی عرب میں ایک امریکی فوجی اہلکار کی موت کی تصدیق کی ہے۔
اردن
اردن میں سکیورٹی حکام کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کے ملبے کے گرنے سے ملک کے مختلف علاقوں میں 29 افراد زخمی ہوئے۔
شام
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے گرنے والے ملبے کے باعث 8 افراد زخمی ہوئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی نقصانات
خلیج میں سینٹٹ کام کے مطابق سات امریکی اہلکاروں اور عراق میں چھ ہلاکتوں کے علاوہ، امریکہ نے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کے 7 ممالک میں اس کے تقریباً 200 فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے 10 کو شدید زخمی قرار دیا گیا ہے۔
صبح 9 بج کر 15 منٹ
اسرائیل کے تہران میں حملے
اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی دارالحکومت تہران پر فضائی حملے کیے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ٹیلی گرام پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ابتدائی رپورٹ۔۔ آئی ڈی ایف نے تہران بھر میں ایرانی ٹیرر رجیم کے انفراسٹرکچر پر متعدد حملوں کا آغاز کیا ہے۔‘
صبح 8 بج کر 30 منٹ
ایران کے اسرائیل کے ساتھ ساتھ کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے
ایران کے پاسدارن انقلاب نے بدھ کی صبح کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ کویت، اردن اور بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مقبوضہ علاقوں کے قلب میں موجود اہداف‘ یعنی اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ’درست انداز میں مائع اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائل سسٹمز اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘
صبح 7 بج کر 30 منٹ
امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے: امریکی میڈیا
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو پاکستان کے ذریعے 15 نکات پر مشتمل ایک امن منصوبہ بھیجا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ ایران میں ’صحیح لوگوں‘ سے بات کر رہا ہے، اور یہ بھی کہا کہ ایرانی اس معاہدے کے لیے ’بے حد بے تاب‘ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت مذاکرات کر رہے ہیں۔‘ تاہم تہران نے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکات پر مشتمل منصوبہ بھیجا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ 15 نکاتی پلان پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔
تاہم امریکی اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے اس منصوبے کو ایرانی حکام میں کس حد تک شیئر کیا گیا ہے اور آیا ایران اسے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرے گا یا نہیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اسرائیل، جو امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر بمباری کر رہا ہے، اس تجویز سے متفق ہے یا نہیں۔
پاکستان کی جانب سے تاحال جس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے چینل 12 نے بھی تین ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اس منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی کا خواہاں ہے۔
معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے روئٹرز کو بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے ایران کو منصوبہ بھیجا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
صبح 7 بج کر 12 منٹ
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرونز سے حملہ
سول ایوی ایشن نے بدھ کی صبح بتایا کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک فیول ٹینک کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
کویت نیوز کے مطابق حملہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق متعلقہ حکام اور فائرفائٹرز آگ بھجانے میں مصروف ہیں۔