وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باعث ملک پر مرتب ہونے والے معاشی اور مالیاتی اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔
وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق خطے کی کشیدہ صورت حال کے تناظر میں ملک پر پڑنے والے مالیاتی اور معاشی اثرات کے جائزے کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ مرتب کردہ حکمت عملی معیشت کے تمام شعبوں کی پیداوار اور طلب و رسد کے توازن کو متاثر نہ کرے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے اور اس لڑائی کو رکوانے کے لیے پاکستان اور مشرق وسطی کے ممالک سرگرم ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنبائے ہرمز کی بندش سے پیٹرولیم مصنوعات کی رسد و ترسیل میں خلل پڑا ہے، جس کے اثرات سے بچنے کے لیے باعث وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل صورت حال کے باوجود پاکستان میں اشیائے ضرویہ کی طلب و رسد کے توازن کو قائم رکھنے پر اظہار تشکر بھی کیا۔
انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی حالیہ صورت حال کے مالیاتی اور معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون سے اٹھائے گؕئے اقدامات کو سراہتے ہوئے تعاون کو مزید موثر کرنے کی ہدایات بھی دی۔
انہوں نے یہ ہدایت بھی دی کہ حکمت عملی کو مرتب کرنے میں بیرونی اور اندرونی میکرو اکنامک اثرات کو بھی خصوصی طور پر جانچا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی کشیدہ صورت حال کے تناظر میں پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات اور ملکی مجموعی پیداوار پر اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت و صنعت کی پیداوار پر اثرات روکنے کے لیے دستیاب ذرائع اور مواقع کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔