تھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والے درآمدی ڈیزل پر انحصار میں نمایاں کمی ہو گی۔ پیداواری لاگت اور بجلی کے نرخ دونوں میں کمی آئے گی۔

23 مئی 2018 کو لی گئی اس تصویر میں صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے صحرا میں اسلام کوٹ اوپن پٹ کول مائننگ سائٹ دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی)

پاور ڈویژن نے بدھ کو بتایا کہ پاکستان میں تھر کے علاقے میں کوئلے کی کان کنی کے عمل کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے سالانہ ڈھائی سے تین کروڑ ڈالر کی بچت متوقع ہے اور بجلی پیدا کرنے کی لاگت بھی کم ہو جائے گی۔

یہ اصلاحات اس وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان عالمی سطح پر توانائی کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کے پیش نظر ایندھن کی درآمدی لاگت کو کم کرنے اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والے درآمدی ڈیزل پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جس سے پیداواری لاگت اور بجلی کے نرخ دونوں میں کمی آئے گی۔

پاور ڈویژن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس اقدام سے ڈیزل کی کھپت میں واضح کمی کی بدولت بھاری قومی بچت ہونے کی توقع ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں کٹوتی اور بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی۔‘

اس اصلاحی اقدام سے ڈیزل کی مد میں یومیہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے (89 ہزار ڈالر) کی بچت متوقع ہے، جب کہ کوئلے کی پیداواری لاگت میں تقریباً 0.7 ڈالر فی ٹن کمی آئے گی۔

پاور ڈویزن کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والے کان کنی کے آپریشنز، بشمول پانی نکالنے کے عمل میں، فی الحال روزانہ دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے، جس میں سے صرف واٹر مینیجمنٹ کے لیے تقریباً 35 ہزار لیٹر استعمال کیا جاتا ہے۔

منصوبے کے تحت، تھر بلاک ون اور بلاک ٹو میں کان کنی کے آپریشنز گرڈ کی بجلی سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے پر منتقل ہو جائیں گے، جس کے لیے ترسیل اور گرڈ سسٹمز میں تقریباً 5.3 ارب روپے (1.9 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے ڈیزل پر مبنی نظاموں کی جگہ نیشنل گریڈ سے کان کنی کے مقامات تک تقریباً 60 میگاواٹ بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

پاور ڈویژن کا کہنا کہ کان کنی کے آپریشنز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 33 سینٹ فی کلو واٹ آور سے کم ہو کر 13 سینٹ ہونے کی توقع ہے، جو 60 فیصد سے زائد کی کمی ہے۔

اس تبدیلی سے کاربن کے اخراج میں سالانہ تقریباً 80 ہزار ٹن کمی کی بھی توقع ہے، جس کے ساتھ ڈیزل سے چلنے والی کان کنی کی گاڑیوں کو الیکٹرک متبادل پر منتقل کرنے کے مزید منصوبے بھی شامل ہیں۔

حکومت نے کہا کہ اس اقدام سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو گا اور پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جب کہ بچت کے فوائد بجلی کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے صارفین تک پہنچائے جانے کی توقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت