پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو کہا ہے کہ علاقائی ثالثی کی کوششیں بلا تعطل جاری ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا کہ اس نے کبھی بھی اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا اور وہ تنازع کے حتمی اور دیرپا حل کا خواہاں ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں غلط ہیں کہ ایران کے وفد بھیجنے سے انکار کے باعث ثالثی کی کوششیں رک گئی ہیں۔
انہوں نے ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ علاقائی حمایت یافتہ اس اقدام میں تعطل پیدا ہو گیا ہے، اور کہا کہ امن کی کوششیں درست سمت میں جاری ہیں۔
اس دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج شب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات کی۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke tonight with Foreign Minister Abbas Araghchi @Araghchi.
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 4, 2026
They exchanged views on the evolving regional situation.
DPM/FM reiterated Pakistan’s support for all efforts aimed at de-escalation… pic.twitter.com/PvLp2tpDM0
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی ان تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا جو کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔
موجودہ حالات کے پیشِ نظر دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تہران نے ’کبھی بھی اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ تنازع کے حتمی اور دیرپا‘ خاتمے کا خواہاں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عراقچی نے مزید لکھا: ’ہم پاکستان کی کوششوں کے بے حد مشکور ہیں اور ہم نے کبھی بھی اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: “ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ہم پر مسلط کی گئی اس غیر قانونی جنگ کا حتمی اور دیرپا خاتمہ کن شرائط پر ممکن ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عراقچی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وضاحت کو سراہتے ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان، علاقائی شراکت داروں کی حمایت سے، اب بھی واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، مجوزہ مذاکرات کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ بات چیت براہِ راست ہوگی یا بالواسطہ۔