انڈیا: آئی ٹی کمپنی میں جنسی استحصال کا سکینڈل بے نقاب

ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز میں خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی اور چھیڑ کے الزامات کے بعد کم ازکم سات افراد گرفتار

15 مارچ، 2022 کو بنگلور میں ایک سکول کے باہر پولیس اہلکار کھڑے ہیں (اے ایف پی)

انڈیا میں خفیہ خاتون پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ نے مبینہ جنسی استحصال اور مذہب کی تبدیلی کے سکینڈل کو بے نقاب کرنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی سروسز کمپنیوں میں سے ایک میں ملازمین کا روپ دھار لیا۔

مغربی انڈیا کے شہر ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے ایک دفتر میں جنسی ہراسانی، چھیڑ چھاڑ، پیچھا کرنے اور تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ کے اسی طرح کے الزامات کے ساتھ کئی خواتین کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے کم از کم سات افراد کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ہونے والوں میں چھ مرد اور ہیومن ریسورس کی ایک خاتون اہلکار شامل ہیں۔ تفتیش کاروں نے کہا کہ ملازمین پر مذہبی اثر و رسوخ ڈالنے کے الزام میں کسی وسیع تر منظم سازش یا بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

حکام نے ریاست مہاراشٹر میں ممبئی سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع شہر ناسک کے پولیس سٹیشنوں میں نو باقاعدہ شکایات درج کی ہیں، جن میں زیادہ تر شکایات خواتین کی طرف سے ہیں لیکن ان میں کم از کم ایک مرد بھی شامل ہے۔

یہ مبینہ واقعات فروری 2022 سے مارچ 2026 تک چار سال کے عرصے پر محیط ہیں۔

اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، دفتر میں ایک خاتون کو اسلامی روایات اپنانے پر قائل کیے جانے کی خفیہ اطلاع اور جنسی استحصال کے الزامات سامنے آنے کے بعد ناسک پولیس نے ایک خفیہ آپریشن شروع کیا۔

ملزموں کے رویے کی نگرانی کے لیے، چھ خاتون اہلکاروں نے دفتر کے اندر مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے وسط فروری سے تقریباً 40 دن تک خفیہ طور پر کام کیا۔

ایک افسر نے اخبار کو بتایا ’ہم نے وہاں ہونے والے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے اپنے کچھ کانسٹیبلز کو ہاؤس کیپنگ سٹاف کے طور پر بھرتی کرایا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن سے مزید کارروائی کے لیے کافی شواہد مل گئے۔

تفتیش کاروں نے بتایا کہ پہلا مقدمہ ایک خاتون کی جانب سے درج کرایا گیا تھا جس نے ایک شخص پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔ اس کا الزام تھا کہ اس سینیئر ملازم نے شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔

بعد میں کی گئی تحقیقت میں چھیڑ چھاڑ اور مذہبی عقائد پر اثر انداز ہونے کی مبینہ کوششوں سے متعلق مزید شکایات سامنے آئیں، اور 18 سے 25 سال کی ایک درجن سے زائد خواتین نے اسی طرح کی شکایات کے ساتھ رجوع کیا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزموں نے ان خواتین کو نشانہ بنایا جو کمزور دکھائی دیتی تھیں، جن میں وہ خواتین بھی شامل تھیں جنہیں ازدواجی یا جذباتی مشکلات کا سامنا تھا۔

 

پولیس کے مطابق مرد ملازمین کے براہ راست رابطہ کرنے سے پہلے مبینہ طور پر خاتون ساتھیوں کو رابطے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ متاثرین کو شامل کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے کے لیے کئی واٹس ایپ گروپس بنائے گئے۔

کچھ شکایت کنندگان نے کہا کہ ہراسانی بعض اوقات دفتر کے اندر کھلے عام ہوتی تھی، لیکن ایچ آر کو بار بار شکایات کے باوجود کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔

سندیپ مٹکے کی سربراہی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) ان نو مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا کمپنی نے انڈین قانون کے تحت ان لازمی شقوں کی پاسداری کی جو خواتین کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

پولیس کی جانب سے جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں ندا خان، 34 سالہ شفیع شیخ، 22 سالہ آصف انصاری، 36 سالہ توصیف عطار، 34 سالہ شاہ رخ قریشی، 35 سالہ رضا میمن، 34 سالہ دانش شیخ اور اشونی چینانی شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ندا خان اور توصیف عطار اس ہراسانی کیس کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ مفرور ہونے والی ندا خان مبینہ طور پر متاثرین کی توصیف عطار سے ملاقات کرواتی تھیں۔

سندیپ مٹکے نے کہا کہ یہ کوئی منظم گروہ یا سازش نہیں ہے اور وہ مذہب تبدیل کروانے کے لیے کسی گروہ سے نہیں جڑے تھے۔

’توصیف عطار دو سال قبل ایک مذہبی دورے کے بعد، مذہبی ہو گئے تھے اور انہوں نے دیگر ملزموں کو متاثر کیا، جنہوں نے پھر مزید لوگوں کو متاثر کیا۔ یہ ان کا اپنا مذہبی جوش تھا جس نے انہیں اپنے اردگرد کام کرنے والوں پر اثر انداز ہونے پر آمادہ کیا۔ ان کے پیچھے کوئی بیرونی محرک یا سازش نہیں تھی۔‘

چار ملزموں کی نمائندگی کرنے والے وکیل بابا سید نے ان دعوؤں کو 'کمزور الزامات' قرار دیا جو تفتیش کا سامنا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ’عید کے دوران، یہاں تک کہ میرے وہ غیر مسلم دوست بھی جو گھر آتے ہیں، شیروانی پہن کر آتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹی سی ایس، جس کے برطانیہ اور امریکہ سمیت 55 ممالک میں 500 سے زائد دفاتر ہیں، نے تمام سات ملزموں کو معطل کر دیا ہے۔

انڈیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی، ٹاٹا گروپ کی ملکیت اس کمپنی نے کہا ہے کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک داخلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکھرن نے کہا کہ ناسک برانچ سے سامنے آنے والی شکایات اور الزامات ’انتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ‘ ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ملزم ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کی جا چکی ہے، اور کمپنی جاری تفتیش میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔‘

’ادارہ اپنے ملازمین کی جانب سے کسی بھی قسم کی زبردستی یا بدتمیزی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھتا ہے۔ حقائق جاننے اور اس صورت حال کے ذمہ دار تمام افراد کی نشاندہی کے لیے ایک جامع تفتیش جاری ہے۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا