حارث کی عمر 16 برس ہے اور وہ ہوم سکولنگ کر رہے ہیں، یعنی گھر ہی پر اپنی او لیول کی پڑھائی مکمل کر رہے ہیں، لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟
انہوں نے کچھ برس سکول میں بھی پڑھائی کی، لیکن ’سلو لرننگ یا کام کو پروسیس کرنے میں وقت درکار ہونے‘ کے باعث وہ اکثر ہم جماعتوں سے پیچھے رہ جاتے۔
ان کی والدہ کے بقول کبھی استاد ان کی مدد کرتے اور کبھی وہ مذاق بن جاتے۔ جو رویہ لوگوں کے لیے مذاق بنا، وہ حارث کے لیے دل شکنی کا عنصر بن کر انہیں سکول میں پریشان رکھتا۔
سکول کے بچے ان کے ’خاموش مزاج اور سلو لرنر‘ ہونے کے باعث ان پر دھونس جمانے (bullying) کی کوشش کرتے اور ان کے دن سکول میں مشکل سے گزرنے لگے تھے۔
یہی وجہ رہی ان کے ہوم سکولنگ کرنے کی، جہاں والدین ان کو اپنی توجہ اور شفقت کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔ لیکن حارث دوستوں اور کھیل کود کے بغیر جیسے ادھورا پن محسوس کرتے ہیں۔
آخر دھونس جمانے کا یہ مزاج یا عادت ہے کیا؟ مینٹل ہیلتھ تھیراپسٹ سنبل کاکا خیل نے انڈیپنڈنت اردو کو اس کی وضاحت کی: ’ہر سکول میں ایسے بچے ہوتے ہیں جو دوسروں سے برتر نظر آنے، ان پر رعب جمانے اور اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے بھی بچے ہوتے ہیں جو اس رویے پر احتجاج نہیں کر پاتے بلکہ سہم جاتے ہیں۔
’اسی کو بُلی ہونا اور بُلی کرنا یا دھونس جمانے کا میکنزم کہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہر دو رویوں میں گھر کا ماحول اجاگر ہو رہا ہوتا ہے۔
والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو دھونس میں آ جانے کی بجائے دفاعی طور پر مضبوط بنائیں تاکہ وہ دل برداشتہ ہوئے بغیر اپنا راستہ بنا سکیں، پڑھ سکیں اور سماجی طور پر سر بلند کر کے کھڑے ہوں۔
حارث کے کیس یا اس جیسے دیگر کیسز کا اعادہ کریں تو دھونس جمانا، طعنہ زنی کرنا، کسی کی چھیڑ بنا دینا اور مار پیٹ کرنا، یہ سبھی بچوں کے گھریلو ماحول کے عکاس ہوتے ہیں۔
یہاں سکول کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ سکول کے اساتذہ کا نہ صرف تدریس سے تعلق ہوتا ہے بلکہ بچوں کی سماجی تربیت میں ایک استاد اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی ابتدا ہوتی ہے کلاس روم میں اساتذہ کے مثبت، سلجھے ہوئے اور غیر تقابلی کردار سے۔
اسلام آباد کے ایک نامور سکول کے بزنس سٹڈیز کے سینیئر استاد جناب وسیم کا ماننا ہے کہ ’جب کسی بچے کو بار بار ایسے ناخوشگوار حالات سے گزرنا پڑتا ہے تو اس کی خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے، وہ چڑچڑا اور کم گو ہو جاتا ہے، اسے تنہائی اچھی لگنے لگتی ہے اور پڑھائی سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔
’اس کی سوچ منفی ہو جاتی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو دیتا ہے۔‘
بقول جناب وسیم ایسے میں سکول انتظامیہ اور استاد کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی اور کردار سازی میں گھر کے ماحول کے ساتھ سکول کا مثبت کردار بچے کی شخصیت کو سنوار یا بگاڑ سکتا ہے۔
سکول اکثر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام بھی رہتے ہیں۔ وہ اسے سماجی طور پر گھریلو خامیوں سے جوڑ کر ذمہ داری صرف والدین پر ڈال دیتے ہیں اور اکثر بچوں کو پر نم آنکھوں کے ساتھ سکول بدلنا پڑ جاتا ہے۔
مسئلہ ہے کہاں، گھر کے ماحول میں یا سکول میں؟ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے ملک کے ایک نامی گرامی سکول چین کی سابق ہیڈ مسٹریس مسز حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’بلینگ یا دھونس جمانے کی کوشش کرنا بچوں کے درمیان ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جو کبھی کبھی ایک بچے کو درپیش خود کو منوانے کی جبلت کے باعث جنم لیتا ہے۔
’کبھی دوستوں، والدین اور گھر والوں کا دباؤ بھی بلینگ کو اپنانے پر آمادہ کرتا ہے۔ یاد رہے ابتدائی ادوار میں ایک بچہ خود سماجی طور پر سکول میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔‘
ماحول میں اگر بڑی جماعتوں کے بچوں کی دادا گیری کا اثر ہو تو چھوٹی کلاسوں کے بچے بھی اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بلا جواز اپنے ساتھیوں سے بالاتر نظر آنے کی کوشش میں ان پر غیر اخلاقی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ایک ہی کلاس کے اگر چند بچے عموماً گروہ بندیاں کر لیتے ہیں تو ایسے ماحول میں اساتذہ کی بروقت رہنمائی اشد ضروری ہو جاتی ہے۔
کلاس میں بچوں کے درمیان تقابلی اعتبار سے تفریق ان کو سماجی برتری اور کمتری کی طرف دھکیل دیتی ہے، جو ’بلینگ‘ کو جنم دے سکتا ہے۔
سوشل میڈیا اور اے آئی کے اس دور میں گھروں کے ماحول پر والدین کو خاص توجہ دینی چاہیے۔
فیملی تھیراپسٹ امرت امجد نے اسی موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ہمیں آگاہ کیا ’والدین بچوں کی تربیت میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کریں، وہ بچوں کو جس رنگ میں ڈھلتا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ عملی طور پر ان کے سامنے خود کر کے ثابت کریں، صرف نصیحتیں کارآمد نہیں ہوتیں۔
’اگر کسی گھر کے ماحول میں تناؤ ہے تو اس گھر کے بچے بھی ذہنی الجھن کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں گے اور وہ الجھن ان کے مزاج میں نمایاں ہو گی۔‘
بچہ دھونس جمانا بھی اکثر گھر ہی سے سیکھ کر آتا ہے، جہاں گھر کے بزرگ یا والدین اس رویے کو مزاج میں ایسے گوندھتے ہیں جیسے آٹے میں نمک۔‘
سابق ہیڈ مسٹریس مسز حسین مانتی ہیں کہ سکولوں میں اس مسئلے کے حوالے سے قواعد واضح ہونے چاہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب بھی بے جا آپسی رعب جمانے کی کوئی بھی شکایت موصول ہو تو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ دونوں فریقین اور عینی شاہدین کو بلا کر علیحدگی میں سب کی بات سنی جانی چاہیے۔
اگر معاملہ زبانی اور جسمانی تشدد پر مبنی نہ ہو، تو بچوں کی سکول کی سطح پر رہنمائی یا کونسلنگ کی جانی چاہیے اور والدین کو رابطے میں رکھنا چاہیے۔
زبانی اور جسمانی تشدد کی صورت حال میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ والدین کی شمولیت ایسے کیسز میں اہم ہو جاتی ہے، والدین کو اپنی اور بچوں کی کمزوریوں کا مکمل علم ہوتا ہے۔ انہیں سچائی سے کام لیتے ہوئے سکول کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
سکول کی سطح پر لوگوں کی شناخت ظاہر کیے بغیر ان مسائل کا اخلاقی حل تلاش کرنے میں سکول کا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔
سکول میں ایک بچہ صرف درسی کتابوں کا بستہ لیے نہیں آتا بلکہ اپنی شخصیت کے وہ سب پہلو بھی ساتھ لاتا ہے جو اسے کتابی رہنمائی سے زیادہ اخلاقی مضبوطی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس ضمن میں سکولوں کی سطح پر صحت مند انداز میں مہم جوئی اور مانیٹرنگ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
بچوں اور ان سے جڑے سماج کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہمیشہ رہے گی کہ ’دھونس جمانا مزاج نہیں ایک عادت ہے۔‘
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔