اچھے خاندان میں رشتہ کرنے کی بات بزرگ کیوں کرتے تھے؟

جس وقت میں بڑا ہو رہا تھا ایشیا کی سرخی ڈھلک کر میرے استادوں کے چہرے پہ آ چکی تھی، حقیقی برابری سے ہٹ کے بات بس یہاں پہ ٹھہری ہوئی تھی کہ سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔

رشتہ خاندان دیکھ کے کرنا چاہیے، ایک اور بات بزرگوں کی سائنسی طور پہ ثابت ہو گئی۔

کیا ہے بھائی یہ، مجھے لگتا ہے ہم لوگ بڑے ہی اس لیے ہوتے ہیں کہ ہر اس چیز پہ ایمان لا سکیں جو بزرگ ہمارے کانوں میں فیڈ کر دیا کرتے تھے۔

جس وقت میں بڑا ہو رہا تھا ایشیا کی سرخی ڈھلک کر میرے استادوں کے چہرے پہ آ چکی تھی، حقیقی برابری سے ہٹ کے بات بس یہاں پہ ٹھہری ہوئی تھی کہ سب انسانوں کو برابر سمجھا جائے۔

اس وقت جب آس پاس لوگوں کے رشتے ہوتے تھے، پی ٹی وی کے ڈراموں میں امیر غریب کی شادی پر کہانیاں بنتی تھیں۔

 فلمیں دکھاتی تھیں کہ ایک رئیس زادی کس طرح ڈرائیور پہ فدا ہو کے اس سے شادی کر لیتی ہے تو فقیر کو لگتا تھا کہ واقعی یہ خاندان وغیرہ کچھ نہیں ہوتا اور لوگ جو فلاں ابن فلاں ابن فلاں کے پلندے اٹھائے پھرتے ہیں یہ سب کاغذی باتیں ہیں، آدمی شجرے سے بالاتر ہے، باقی گلاں ای بنیاں نیں۔

پھر جب اخبار پڑھنا شروع کیا تو اس میں ایک دن اشتہار دیکھا کہ جرمن شیفرڈ برائے فروخت، ساتھ اس کے آباؤاجداد کی مکمل فہرست، بلڈ لائن کی تفصیل ۔۔۔ وہ چیز کلک ہوئی لیکن کمزور ترین درجے کی، ایویں میں نے سر جھٹکا اور کام پہ لگ گیا۔

اس کے بعد نیٹ آ گیا، کوئی فلم دیکھی جس میں گھوڑوں کی ریس کا قصہ تھا، اب اس میں ایک سے ایک نجیب الطرفین گھوڑا، صرف چیمپئین گھوڑے کی نسل مخصوص بندوں کے ہاتھ میں رکھنے کے لیے وہ جنگ پڑی کہ الامان۔

اب سر جھٹکنا مشکل ہوتا گیا۔ اب میرے سامنے یہ سوال تھا کہ بھئی جب کتے اور گھوڑے تک پیڈیگریڈ ہیں، مرغے اصیل ہیں تو انسانوں میں بھی کوئی نہ کوئی تو رولا ہو گا جس کی وجہ سے خاندانوں میں بزرگ کیدو بن کے بیٹھے ہوتے تھے۔

ارتقا کی سائنس دیکھی تو وہ بھی سیلیکٹو بریڈنگ کی طرف اشارے دے رہی تھی۔ وہ کہتی ہے کہ شادی مذہبی یا سماجی رسم کی بجائے ایسا سسٹم ہے جو انسانوں میں نسل بڑھانے اور ان کے جینیاتی تسلسل کو باقاعدہ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

اب بیچ میں جینز آ گئیں، پھر نیچرل سلیکشن کی اینٹری ہو گئی مطلب دو انسانوں کی شادی کے بعد وہ خصوصیات آگے بڑھتی ہیں جو ان کے نسلی بقا اور ریپروڈکشن کے لیے فائدہ مند ہوں۔

پھر سیکشوئل سلیکشن کا نظریہ بھی لے آئی ایولوشنری سائنس، جو کہتا ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کا انتخاب فطری طور پر صحت، ذہانت، سماجی حیثیت یا وسائل وغیرہ دیکھتے ہوئے کرتا ہے اور یہ انتخاب اس کی اگلی نسل کی جینیاتی خصوصیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اب مجھے بتائیں کہ اگر ڈارون یہ کہتا ہے کہ والدین سے اولاد میں وراثتی خوبیاں منتقل ہو رہی ہیں تو کیا وہ ’خاندان‘ دیکھنے کی بات نہیں کر رہا؟

ایک چیز کلیئر کر دوں، اس پوری کہانی میں یہ نہیں کہا میں نے کہ آپ ’اپنے خاندان‘ میں شادی کریں، اس کی مخالفت تو ہر طرح کی سائنس کرتی ہے، جو میں کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بزرگ رشتہ دیکھتے ہوئے پرائے خاندان کی پچھ پرتیت کیوں کرتے تھے۔

تو خیر، ڈارون تک فقیر پہنچ گیا تھا، تقریباً درمیانے درجے کی دراڑ آ چکی تھی برابری کے ساری خیالوں میں، ایشیا میرا سبز ہوتا جا رہا تھا، پھر خدا نے صحیح والی مدد کر دی اور میں نتیجے پر پہنچ گیا۔

جسے آج کل آپ پوڈکاسٹ کہتے ہیں وہ پرانے زمانوں میں انٹرویو ہوا کرتا تھا۔ تو ایک ایسی ہی انفارمل گپ شپ کے دوران بریک ہوا اور قرۃ العین قریشی آ گئیں۔

اس عالیشان سٹوڈیو کا پورا سیٹ اپ وہی دیکھتی ہیں، ان سے بات چل رہی تھی کہ اس دوران انہوں نے بتایا وہ لمز میں ہیں، پی ایچ ڈی بھی ہیں، پوچھا کس موضوع پہ، بتایا ایپی جینیٹکس پہ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اللہ اکبر، میں خاصا مرعوب ہوا، پوچھا یہ ہے کیا، تو انہوں نے سمجھایا کہ سادے ترین الفاظ میں ایک انسان کے جینز پر کس طرح اس کا ماحول، اس کی اپنی عادتیں، اس کے خاندان کا رہن سہن اور اس کا شہر یا گاؤں اثرانداز ہوتے ہیں اور پھر یہ سب چیزیں کیسے اس کے جینز میوٹیٹ کر دیتے ہیں۔

نہ ہوا ممتاز مفتی کہ اس جواب پر کوئی قلندرانہ برکت دکھاتا، نہ کوئی صاحب حال ہوں کہ چیخ مارتا اور چادر تان کے مر جاتا، بس اتنا ہوا کہ ان سے تفصیل پوچھی، واپس آ کے شاہ جی سے حَکم لیا اور یہ کہانی لکھنے بیٹھ گیا۔

ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ آپ کا رہن سہن سیدھا سیدھا آپ کے اندر پہلے سے موجود اچھے یا برے جینز کو سوئچ آن اور سوئچ آف کرتا رہتا ہے۔

آپ کا ڈی این اے نہیں بدلے گا، لیکن پوتڑوں کے رئیس کی جین میوٹیشن الگ ہو گی اور مجھ جیسے نوکری پیشہ حال مست کے عموماً غیر صحت مند جین والے بٹن آن ہوتے جائیں گے، اور یہ سب پھر میرے بچوں میں بھی جائیں گے۔

یعنی جو لائنیج کی، یا شجرے کی، یا خاندان کی بات ہوتی ہے وہ اس لیے کہ ایک ہائی کوالٹی ماحول ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کے لیے مینٹین ہوتا رہے اور ہر بچے کو بیسٹ ایپی جینیٹک تبدیلیاں ملیں۔

باقی ایپی جینیٹکس یہ بھی کہتی ہے کہ بگڑا اب بھی کچھ نہیں، پولیوشن سے دور رہنا، غذائیت والے پھل سبزی کھانا، ورزش کرنا، سٹریس سے دور رہنا، اچھے لوگوں سے میل جول رکھنا۔

 یوگا یا مراقبہ کرنا اور ایسی ہر صحتمند چیز آپ کے ان اچھے والے جینز کو دوبارہ سوئچ آن بھی کر سکتی ہے جو غریب اس وقت دھوئیں اور چرغوں کی چکنائی میں کہیں دبے پڑے ہوں گے۔

اور ایک آخری بات ایپی جینیٹکس یہ بتاتی ہے کہ اچھے خاندان سے بھی اگر کوئی سپوت ہے اور اس میں غلط عادتیں پڑ گئیں تو بس پھر کیڑے اور امرود والا معاملہ ہو گا، وہ قسمت کی بات ہے، کسی کی پوری ریڑھی ٹھیک نکل جاتی ہے کسی کا اکلوتا امرود کیڑے والا ہوتا ہے!

نوٹ یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ