لمبے قد والوں کو دنیا میں کامیابی زیادہ ملتی ہے، نہیں؟

طے ہے کہ درمیانے یا چھوٹے قد کے لوگوں کو عام زندگی میں لمبے قد والوں سے کئی گنا زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ جیسے ایک دلکش چہرہ جلدی ماڈل بن سکتا ہے ویسے ہی ایک لمبا قد جلدی کہیں بھی اینٹری مار کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ کبھی آپ نے چھوٹے قد کا شیر جوان دیکھا ہے؟

(سوشل میڈیا)

دنیا لمبے قد والوں کی ہے۔ نہ مانیں، آپ کی مرضی۔
آج کل کی دنیا میں سب سے طاقتور انسان آپ کسے سمجھتے ہیں؟ امریکی صدر کی بات کر لیں۔ ٹرمپ کا پتہ ہے کتنا قد ہے؟ چھ فٹ تین انچ۔ جو بائیڈن - چھ فٹ، باراک اوباما - چھ فٹ ایک انچ، کلنٹن - چھ فٹ دو انچ، بڑے بش صاحب چھ ایک، رونالڈ ریگن چھ فٹ۔ ہن آرام اے؟ نئیں؟ اچھا، ابراہم لنکن چھ فٹ چار انچ، تھامس جیفرسن چھ دو، جارج واشنگٹن چھ دو، روزویلٹ چھ دو، کینیڈی چھ ایک، نکسن پورا چھ! چوالیس میں سے چونتیس صدر پانچ فٹ نو انچ سے لمبے تھے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ لمبا قد طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ووٹ آپ بہرحال طاقتور کو دینا پسند کرتے ہیں۔
ادھر پاکستان آ جائیں۔قائد اعظم، بھٹو صاحب، ایوب خان، عمران خان، زرداری، نوازشریف، بلاول کوئی پانچ آٹھ سے کم نہیں ہے۔ بے نظیر خواتین کے حساب سے اچھے قد کی تھیں، پانچ پانچ! بلکہ موجودہ قیادت میں تو سبھی جو عمران خان کے دائیں بائیں ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی شاید چھ فٹ سے کم ہو۔ باقی آپ خود ڈھونڈ لیں، بھائی کالم شروع کرتا ہے۔
ہم لوگ جس دور میں پیدا ہوئے ہیں وہ خوش قسمتی سے ایسا ہے جس میں کسی بھی جسمانی کمتری یا برتری کو نگیٹ کرتے ہوئے دماغی صلاحیتوں پہ زور دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ حق ہے، انسانی تہذیب نے اتنے ہزار برسوں میں یہی سیکھا ہے تو ٹھیک ہو گا لیکن کیا آنکھیں بند کرنے سے بلی بھاگ جائے گی؟ ہم اس حقیقت کو جھٹلا کیسے سکتے ہیں جو تاریخ کے ہر موڑ پہ دروازے بجاتی ہے۔ کسی بھی روحانی ہستی کا ذکر سن لیجیے، ان کے بارے میں بنائی گئی پینٹنگز دیکھ لیں، داستانیں سن لیں، بت دیکھ لیں، قد آپ کو لمبا ہی ملے گا۔ یہاں تک کہ اگر ہسٹری میں آپ کو ثبوت بھی ملتا ہو گا کہ فلاں چھوٹے قد کا تھا تو مشہور قصوں میں بہرحال وہ لمبا ہی نظر آئے گا۔
آپ نے ماڈل بننا ہے، اداکار بننا ہے، مشہور کھلاڑی ہونا ہے، فوج میں کمیشن لینا ہے، سی ایس ایس کے بعد پولیس میں جانا ہے، جہاں پبلک ڈیلنگ، لوگوں سے انٹریکشن یا مقابلے کی بات آئے گی ادھر قد لمبا ہونا مانگتا ہے۔ سب چھوڑیں سیلز کی فیلڈ میں آ جائیں۔ دیکھ لیں اپنے آس پاس، آپ کو زیادہ مینیجر کس قد کے ملتے ہیں، ڈھونڈ لیں۔
دیکھیے فکس پیرامیٹر کوئی نہیں ہے لیکن یہ طے ہے کہ درمیانے یا چھوٹے قد کے لوگوں کو عام زندگی میں لمبے قد والوں سے کئی گنا زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ جیسے ایک دلکش چہرہ جلدی ماڈل بن سکتا ہے ویسے ہی ایک لمبا قد جلدی کہیں بھی اینٹری مار کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ کبھی آپ نے چھوٹے قد کا شیر جوان دیکھا ہے؟ یا کوئی گھبرو جو پانچ فٹ کا ہو؟ کوئی ماہی چھیل چھبیلا چھ فٹ سے کم کا؟ داستانوں میں پایا جانے والا کوئی چاکلیٹ ہیرو جو ایوریج سے کم لمبائی رکھتا ہو؟ ابے نہیں ہوتا بھائی ایسے نہیں ہوتا!
بالکل عام زندگی میں آ جائیں۔ سکول میں، کالج میں، یونیورسٹی میں کبھی کہیں کوئی لمبے قد والا لڑکا یا لڑکی آپ کو اکیلے بیٹھا نظر آیا؟ ایسا کم ہوتا ہے۔ لوگ غیر محسوس طریقے سے ان کے اردگرد اکٹھے ہوتے ہیں اگر انہیں تھوڑی سی بھی تمیز ہے تو۔ کبھی لمبے قد والے کو فرسٹ ائیر فول نہیں بنایا جائے گا، بنائیں گے بھی تو ہتھ ہولا ہو گا، اس سے چھیڑ چھاڑ بھی کم ہی کی جائے گی، وہ لڑکیوں لڑکوں میں برابر مشہور ہو گا۔ ڈیجیٹل دوڑ میں دیکھ لیں، ڈیٹنگ ایپس کے اعدادوشمار چیک کریں، لمبا قد مساوی لمبی موج۔ اسے بھی چھوڑیں، دنیا میں مطمئن اور خوش لوگوں کے سٹیٹس دیکھ لیں، آپ جتنے لمبے ہیں، اتنا ہی زیادہ آپ زندگی میں خوش، مطمئن اور کامیاب رہتے ہیں۔ قد مساوی مواقع مساوی ترجیحات مساوی کامیابی مساوی خوشی، پھڑ لئو سدھا فارمولہ!
تو اب کیا کریں؟ مجھ سمیت چھوٹے یا درمیانے قد والے مر جائیں؟ ڈی موٹیویٹ ہو جائیں؟ کریں کیا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیکھیے اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ خوراک پہ توجہ رکھیے۔ جب تک پیٹ اندر ہے پرسنیلٹی بہتر ہی لگتی ہے۔ دوسرا علاج یہ ہے کہ ڈریسنگ بھلے سادی ہو لیکن اس میں بنیادی چیزوں کا خیال رکھیں، یہ باقاعدہ علم ہے اور انٹرنیٹ پہ دستیاب ہے، اسے حاصل کریں۔ تیسرا یہ ہے کہ جہاں کوئی مثال کامیابی کی آپ کے سامنے ہو، سب سے پہلے اس کا قد چیک کر لیں، اگر آپ ویسے نہیں ہیں تو تیس نمبر کاٹ لیں اور سمجھ لیں کہ وہاں تک پہنچنے میں تیس فیصد زیادہ کھپنا پڑے گا آپ کو۔ یہ ایک رف اندازہ ہے لیکن کم از کم اتنا تو ہے ہی ہے۔ چوتھے یہ کہ ایسی فیلڈ میں گھسنے کی کوشش کریں جہاں قد زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ویسے تو کوئی میدان ایسا نہیں ہے لیکن ایک ماہر ڈاکٹر، انجینئیر، صحافی، ادیب، کاریگر لوگ عام طور پہ کسی بھی قد کے ہو سکتے ہیں۔ اس سب کے باوجود آپ سرچ کریں تو سامنے آئے گا کہ ترقی یافتہ ممالک میں لمبے قد کا مطلب سیدھا سیدھا یہ ہے، ایک انچ اضافی قد برابر ہے ایک ہزار ڈالر سالانہ اضافی تنخواہ!
بس بس دل برا نئیں کرتے، ارسطو، گاندھی جی، چرچل، پکاسو، چنگیز خان، سکندر اعظم، نپولین، مارٹن لوتھر کنگ، بروس لی، یوری گاگرین، باب مارلے، چارلی چپلن، ٹام کروز، رالف لارین اور نیوٹن سمیت شمالی کوریا کے صدر بھی اپنے جیسے ہی ہیں، درمیانے قد، چھوٹے قد پھر بھی کامیاب، لاجواب، ہاں؟
دیکھیے اس تحریر کا مقصد آپ کے دماغ کی بینڈ بجانا نہیں تھا، صرف یہ بات سمجھانی تھی کہ اگر آپ لمبے نہیں ہیں تو آپ کو ویسے چانس نہیں مل سکتے جیسے ان کو ملتے ہیں۔ تو جو کچھ بھی کرنا ہے اس میں پیٹرول تھوڑا زیادہ بھرنا پڑے گا۔ زندگی کی دوڑ بہت لمبی ہوتی ہے، بہت ہی لمبی، اس میں نظریات کے سہارے چلا نہیں جا سکتا، کتابی باتوں کی انگلی پکڑ کے بڑھا نہیں جا سکتا، تراشے ہوئے بتوں کی پوجا نہیں کی جا سکتی اور دست قدرت سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں جو بچتا ہے وہ اپنا مغز ہے۔ اسے کھپائیں، جمع تفریق کریں، ٹھیک وقت پہ ٹھیک فیصلے کریں اور پھر بھی کامیابی قدم نہ چومے تو چادر اوڑھ کے آرام سے سو جائیں۔ بہرحال آپ لمبے قد کے نہیں ہیں۔
 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ