محبت کا برگد اور نفرت کی زمین پر بچھی بیل

جان لو کہ اگر مالک محتاط رہے اور جاگتا رہے تو چور کبھی گھر میں نقب لگا نہیں پاتا۔ نفرت کی مثال اس نقب کی سی ہے جو تمہارے غافل ہونے کے وقت میں تمہارا وجود اپنے اندر لگوا لیتا ہے۔ اور جب تم جاگتے ہو تو سوائے چوری کے تمہیں کچھ نظر نہیں آتا۔

(پکسابے)

تم کسی سے نفرت کیسے کر سکتے ہو؟ تمہارے پاس کسی کے خلاف اپنے دل میں غصہ پالنے کے لیے ہے ہی کیا؟ چند ایسی باتیں جو تمہارے حق میں نہیں تھیں؟ کچھ ایسے خیال جو تمہارے مطابق ٹھیک ہو سکتے ہیں یا تھوڑی بہت ایسی یادیں جنہیں تم سینے سے لگائے بیٹھے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہ تمہارا کل اثاثہ ہیں؟

باغ میں جو گھاس آج لگی ہے وہ کل جلانے میں استعمال ہو گی۔ آگ مقدر نہ ہوئی تو بھی اس نے کٹ ہی جانا ہے، اور اس کی جگہ گھاس کا نچلا حصہ سنبھال لے گا۔ تمہارے وہ خیال، تمہارا غصہ، تمہاری یادیں وہ سب مانند اسی گھاس کے ہیں۔ گھاس نے بڑھنا ہی بڑھنا ہے اور اگر کوئی سنوارنے والا اسے نصیب ہے تو اس کی زیبائش اسی امر پہ ہے کہ وہ کاٹی جائے۔

میرے بچو، یاد رکھو، اپنے باغ کے مالی خود تم ہو، تمہی نے اسے سنوارنا ہے، ترتیب دینی ہے، جس طرح ایک باغ اور ایک جنگل میں فرق صرف ترتیب اور کٹائی کا ہوتا ہے عین اسی طرح ایک آدم اور نفرت کرنے والے انسان میں فرق محبت اور غصے کا ہوتا ہے۔ گھاس نے بڑھنا ہی بڑھنا ہے، نفرت کے دن پرانے ہوتے جانے ہیں، محبت نے سر پھر سے اٹھانا ہے۔ یہ تم پر ہے کہ تم اس گھاس کو ہلکا نہ کرو، اسے نہ کاٹو، اور محبت اور نفرت کو ساتھ ساتھ چلاتے رہو اور وزن اپنے وجود کا بڑھاتے جاؤ۔ 

اے عزیزو، جسم تمہارے چست رہیں اور تمہاری امیدوں کے چراغ یونہی جلتے رہیں، تم خود اپنے آپ کے سب سے بڑے دشمن ہو۔ تم اس گھاس کو بڑھنے دیتے ہو، اسے پانی دیتے ہو، اسے تیز دھوپ سے بچاتے ہو، اس کی فکر میں زار زار روتے ہو، اگر تم جان جاؤ کہ اس فالتو بڑھوتری سے چھٹکارے کے بعد تم کتنا ہلکا محسوس کرو گے تو شاید ہر روز تم اسے تراشو، اسے چھانٹو اور اسے اتنا مختصر رکھو کہ جس میں صرف محبت، صرف نئی نمو تمہیں تروتازہ رکھے اور گٹھڑی تمہاری وزنی نہ ہونے پائے۔ 

جان لو کہ اگر مالک محتاط رہے اور جاگتا رہے تو چور کبھی گھر میں نقب لگا نہیں پاتا۔ نفرت کی مثال اس نقب کی سی ہے جو تمہارے غافل ہونے کے وقت میں تمہارا وجود اپنے اندر لگوا لیتا ہے۔ اور جب تم جاگتے ہو تو سوائے چوری کے تمہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ تمیں لگتا ہے کہ تمہارا قیمتی وقت چرایا گیا، تم غصہ ضرور کرتے ہو لیکن تم سوچنے سے عاری ہو جاتے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ تم غور کرو کہ یہ نقب لگی ہی کیوں، کیا اس لیے کہ تم خود اپنے آپ سے پیار کرتے تھے؟  جس لمحے تم کسی دوسرے کو چاہنے کا دعوی کرتے ہو، کیا تم اس وقت خود اپنے آپ کی چاہت میں سرشار نہیں ہوتے؟ 

یاد رکھو، محبت برگد کے ایک بیج کی مانند ہے۔ کوئی پرندہ اڑتا ہوا آیا، کہیں کا بیج کہیں پہنچا کے اور کہیں اڑ گیا۔ اب اس کا پودا بنا، وہ پھر درخت میں تبدیل ہوا، پھر اس کی چھاؤں بھی گھنی ہوئی اور اس کی جڑوں نے بھی زمین کے اندر دور تک پھیل کر اپنی پیاس بجھائی۔ پھر اس پر پھل لگے اور وہ پھل پھر بہت سے پرندوں نے کھائے اور پھر بہت سے بیج گرے اور پھر بہت سے درخت پیدا ہوئے اور پھر دنیا برگدوں سے بھر گئی۔ اور اس کی گھنی چھاؤں سے ہر راہ چلتے نے گرمی میں سستا کر آرام لیا۔

برخلاف اس کے، نفرت کی مثال ایسے تربوز کی ہے کہ جس کے بیج سے فصل دوبارہ پیدا ہوئی بھی تو وہ زمین پہ رینگنے والی ہوئی۔ وہ تمہیں وقتی طور پہ بہت شیریں اور بہت پیاس بجھانے والا لگے گا اور تمہیں لگے گا کہ تم مطمئن ہو گئے جب تم نے غصہ کر لیا اور جب تم نے پیٹ بھر نفرت کر لی، مگر دو گھڑی بعد تم اپنا اندر دوبارہ خالی پاؤ گے۔ تمہیں ایک اور تربوز کھانا ہو گا، اور غم یاد کرنے ہوں گے، اور پریشانیاں ذہن میں لانی ہوں گی۔ لیکن بیج اس تربوز کے جو بیل بنائیں گے وہ زمین سے ہی لگی رہے گی۔ نہ اس کی چھاؤں میں کوئی بیٹھ سکے گا اور نہ وہ تمہاری پیاس بجھا سکتا ہے۔ ایک کے بعد اور، پھر اور، پھر اور، بس کھانے کے علاوہ اس کا اور کوئی کام نہیں ہو گا۔ انجام تھکن ہے، انجام فنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ہمراز، اس سے پہلے سوال پوچھا گیا تھا کہ جس لمحے تم کسی دوسرے کو چاہنے کا دعوی کرتے ہو، کیا تم اس وقت خود اپنے آپ کی چاہت میں سرشار نہیں ہوتے؟ یقینا جب تم کسی کو چاہتے ہو تو اس کو اپنے وجود کا حصہ دیکھتے ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ وہ تم ہے اور تم وہ ہو۔ تمہارا آرام، تمہارا سکون، تمہاری نیند سب کچھ اس ایک فرد سے جڑا ہوتا ہے۔ تم اس کے بغیر رہ نہیں سکتے اور اسے کھو کر تم خود کو ادھورا محسوس کرنے لگتے ہو۔ لیکن غور کرو تو اس ساری چاہت میں تم زیادہ نمایاں تھے یا وہ فرد کہ جسے چاہنے کے دعوے دار تم تھے؟ چاہتا کون تھا؟ تم! کس کے وجود کا حصہ کون لگتا تھا اور کسے؟ تمہیں! آرام کس کا تھا؟ تمہارا، سکون کس تھا؟ تمہارا! نیند کس کی تھی؟ تمہاری! کون نہیں رہ سکتا تھا؟ تم! ادھورا بھی کون پڑا؟ تم! 

تو جب ہر سراغ تم سے شروع ہو کے تم پر ختم ہوتا ہے تو اس سے نفرت کی وجہ کیا جس کی موجودگی اب نہیں ہے اور جس نے کبھی نہ کبھی ہونا بھی نہیں تھا؟ تمہارے وقت میں نقب نہیں لگی تمہارا وقت مانند خوشگوار تیز ہوا کے گزر گیا۔ تم سوچو تو یہ جان لو کہ وہ جسے تم چاہتے تھے وہ تم خود تھے اور وہ جس سے تم نفرت کرتے ہو وہ بھی تم خود ہو۔ 

میرے بچو، یہ گھاس کاٹ لو، اسے ایک وقت سے زیادہ بڑھنے مت دو۔ نفرت تمہارے سامان میں اضافہ کرتی ہے۔ سامان زیادہ ہو تو مسافر اسے گھسیٹنے میں لگا رہتا ہے۔ اور سفر بے شک کم سامان کے ساتھ افضل ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ