سعودی، ایران تنازع: کیا پاکستان ثالثی کی پوزیشن میں ہے؟

ایران کو پاکستان کی نیت پر بالکل شک نہیں ہے لیکن اگر وہ امریکہ کی ہدایات اور سعودی عرب کی فرمائشوں کو نظر انداز کرکے خود بات کرے گا تو معاملہ بہتر طور پر حل ہو سکتا ہے، ایرانی تجزیہ کار

22 اپریل 2019 کو  جاری کی  گئی اس تصویر میں وزیراعظم عمران خان اور ایران  کے صدر حسن روحانی  تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ۔ (اے ایف پی)

وزیراعظم عمران خان اتوار کو سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع کو کم کرنے کے لیے پہلے ایران اور پھر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورے سے قبل ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینیٹ جنرل فیض حمید نے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کرکے وزیراعظم کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کو ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

بعدازاں نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا تو امریکی صدر نے بھی وزیراعظم عمران خان سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے کی درخواست کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی پاکستان کی ثالثی کی کوشش کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب اور ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے پہلی بار ثالثی کی پیشکش نہیں کی۔ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ برس اگست میں پریس بریفنگ میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’اگر پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کا کہا گیا تو ضرور یہ کردار ادا کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل جنوری 2016 میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف بھی ثالثی کی غرض سے سعودی عرب اور ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ 1997 میں اسلام آباد میں ہونے والے او آئی سی اجلاس میں بھی ایران سعودی عرب تنازع کو حل کرنے کی بات کی گئی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے سفارتی امور پر نظر رکھنے والے مختلف ممالک کے تجزیہ کاروں سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا پاکستان ثالثی کی پوزیشن میں ہے؟ اور ان کے خیال میں پاکستان کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی؟

ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والے امریکی کانگریس کے سابق رکن نِک لیپمسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی میں وزیراعظم عمران خان کی ثالثی اہم کردار ادا کرے گی کیونکہ پاکستان خود بھی کسی بھی جنگ کا حامی نہیں ہے اس لیے اسلام آباد کی پوری کوشش ہوگی کہ معاملات مذاکرات سے حل ہو جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ اور سعودی عرب نے پاکستان سے ثالثی کی درخواست کی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ثالثی کروانے کی پوزیشن میں ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان کی پرسنالٹی اتنی مسحور کن ہے کہ لگتا ہے یہ ثالثی کامیاب ہو گی۔‘

امریکہ کی دوہری پالیسی؟

جب نِک لیپمسن سے سوال کیا گیا کہ ایک طرف امریکہ سعودیہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کو کہہ رہا ہے جبکہ دوسری جانب تین ہزار اضافی فوجی دستے اور لڑاکا طیارے سعودی عرب کے دفاع کے لیے بھیجے جا رہے ہیں تو کیا یہ امریکہ کی دوہری پالیسی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’حال ہی میں سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ سعودی عرب سے تیل کا بڑا خریدار ہے اور اس کے اپنے تجارتی مفادات بھی ہیں، جن کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کو دفاعی فوجی مدد بھیجی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ پر انہیں اعتماد کم ہے۔ ’کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟ وہ اپنے ذاتی تجارتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں یا امریکہ کے مفاد کا۔‘

’ایران کو پاکستان کی نیت پر شک نہیں‘

انڈپینڈنٹ اردو نے ایران کے نجی ٹی وی سے وابستہ تجزیہ کار سید راشد نقوی سے بھی رابطہ کیا اور پوچھا کہ ایران اس ثالثی کی کوشش کو کیسے دیکھتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’تہران نے سرکاری سطح پر اس کوشش کا خیر مقدم کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ سعودی عرب سے براہ راست بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی نیت پر ایران کو بالکل شک نہیں ہے لیکن چونکہ ثالثی کی درخواست امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے کی گئی ہے اس لیے اگر پاکستان امریکہ کی ہدایات اور سعودی عرب کی فرمائشوں کو نظر انداز کرکے خود بات کرے گا تو معاملہ بہتر طور پر حل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس معاملے میں امریکی ایما پر عمل کیا گیا تو پھر مثبت نتائج کی توقع کم ہے۔‘

سفارتی تجزیہ کار قمر چیمہ نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان خود سعودی عرب پر سیاسی اور معاشی طور پر انحصار کرتا ہے، لہذا دیکھنا ہوگا کہ وہ ثالثی کے لیے کتنا پُر اثر ہو سکتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں سعودی عرب کی سنجیدگی سے ظاہر ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران سے جنگ نہ ہو کیونکہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کو سیاحتی مقام بنا رہے ہیں، جدت لا رہے ہیں تو جنگ ہونے کی صورت میں ٹورازم انڈسٹری بھی ختم ہو جائے گی جو محمد بن سلمان کا بنیادی مطمع نظر ہے۔‘

سفارتی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی سے قبل پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانی چاہیے کیونکہ اگر ایران اور امریکہ کے تعلقات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو شاید سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان