پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

پاکستانی دفتر خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں مارچ میں کابل میں ہونے والے ایک فضائی حملے کو ’ممکنہ جنگی جرم‘ قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں 16 مارچ 2026 کو کابل کے ایک منشیات بحالی مرکز پر ہونے والے فضائی حملے کو ’ممکنہ جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو ’مکمل طور پر مسترد‘ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی رپورٹس بغیر ثبوت کے پیش کی جا رہی ہیں اور پاکستان ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی توجہ افغان طالبان حکومت کی جانب مبذول کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے تمام فوجی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع، ضرورت کے اصول اور آخری چارۂ کار کے طور پر کیے گئے تھے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کی تمام کارروائیاں ’صرف اور صرف دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود ان کے لاجسٹک سپورٹ مراکز‘ کے خلاف کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل درپیش خطرات کے تناسب سے تھا اور اس میں بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں، خصوصاً امتیاز، احتیاط اور تناسب کا مکمل خیال رکھا گیا۔

ان کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار اور نوعیت پاکستان کو درپیش مسلسل دہشت گرد حملوں کے باوجود تحمل کا مظہر تھی اور پاکستان اس حوالے سے ہر قسم کے تاثر یا الزام کو مسترد کرتا ہے۔

طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بین الاقوامی برادری کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مسلسل سرپرستی کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ ان کے بقول یہی اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے جسے رپورٹ میں نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، دوحہ معاہدے اور دیگر وعدوں پر عمل نہ کرنے پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

16 مارچ 2026 کے فضائی حملوں کے ایک روز بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے زیرِ استعمال عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق کابل میں دو مقامات پر موجود تکنیکی معاونت کے ڈھانچے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر تباہ کیے گئے جبکہ حملوں کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے بڑے اسلحہ ڈپو کی موجودگی کا ثبوت تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ننگرہار میں بھی چار عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، اسلحہ اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائیاں صرف ان تنصیبات تک محدود تھیں جو افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں، اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 16 مارچ 2026 کو کابل میں واقع امید بحالی و علاج مرکز پر پاکستان کے فضائی حملے میں کم از کم 269 شہری مارے گئے اور اس حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کی جانی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ حملے کے وقت اس مرکز کو ہتھیار یا گولہ بارود ذخیرہ کرنے یا کسی فوجی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت طبی مراکز کو حاصل خصوصی تحفظ، شہریوں اور فوجی اہداف میں امتیاز، احتیاط اور تناسب کے اصولوں کی خلاف ورزی تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس نے اپنی تحقیقات کے دوران 60 سے زائد تصاویر اور ویڈیوز، 30 سے زائد سیٹلائٹ تصاویر اور 11 افراد کے انٹرویوز کا جائزہ لیا۔ ان افراد میں مرکز اور ابنِ سینا ہسپتال کے ملازمین، متاثرہ خاندانوں کے افراد اور امدادی کارروائیوں میں شامل لوگ شامل تھے۔

تنظیم کے مطابق حملے سے قبل شہریوں کو کوئی انتباہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی انہیں انخلا کا موقع ملا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایمنسٹی نے پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز کا بھی تجزیہ کیا لیکن ان میں ہتھیار، گولہ بارود یا ایسے ثانوی دھماکوں کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا جو اسلحہ کے ذخیرے کی موجودگی کو ثابت کرتا ہو۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 9 جولائی کو پاکستان کی وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے حملے سے متعلق تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور اس دعوے کے شواہد طلب کیے گئے تھے کہ حملے کا ہدف اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ تھا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک پاکستان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مارچ میں ہونے والے یہ فضائی حملے پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کیے گئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی سرحد پر پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں کیے گئے یہ حملے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے جواب میں کیے گئے، جن کا ذمہ دار وہ افغان طالبان حکومت کو قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب طالبان حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے اور کہتی ہے کہ وہ پاکستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی حمایت نہیں کرتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان