وفاقی کابینہ کے تمام وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے: محسن نقوی

یہ بات وزیر داخلہ نے وزیراعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیے جانے سے ایک دن قبل اور اپنے متنازع بیان کے چند دن بعد دیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے مقام کے دورے کے موقعے پر (اے ایف پی)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیں گے کہ وفاقی کابینہ کے تمام وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔

یہ بات انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیے جانے سے ایک دن قبل اور اپنے اس متنازع بیان کے چند دن بعد دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔‘

اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ’موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا اور اپنی آئینی مدت یعنی پانچ سال مکمل کرے گا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ ’وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کی جانچ تیسرے فریق سے کروائیں اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں، تیسرے فریق کی جانچ سے پتہ لگے گا کہ کون سی وزارت کتنا کام کر رہی ہے۔‘

محسن نقوی نے کہا کہ ’کابینہ میں میری حاضری 70 فیصد کے قریب ہے۔‘

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کو بالکل چارج شیٹ نہیں کیا۔ ’میں خود حکومت کا حصہ ہوں، اپنے آپ کو بالکل چارج شیٹ نہیں کروں گا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم 14 سے 16 گھنٹے کام کر رہے ہیں، چیزیں بہتر ہوجائیں تو نتائج ہزار گنا بہتر ہوجائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محسن نقوی نے مزید کہا کہ ان کے نظام میں بھی ایف بی آر کا ریونیو بڑھایا، جنگ جیتی، سفارتی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں، وزیراعظم کو نظام ٹھیک ملتا تو ملک کو سو گنا تیزی سے آگے لے کر جاتے۔ ’جب تک سیاست دان ملکی نظام ٹھیک نہیں کریں گے فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کی خواہش ہے کہ ان کے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہو جائیں۔

محسن نقوی نے خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جن لوگوں نے کہا کہ انہوں نے 30 سال کا سفر 3 تین سال میں طے کیا، ان کا شکریہ۔‘

وزیر داخلہ نے یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں کی ہے، جب حال ہی میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے مسائل حل کرنا ممکن نہیں رہا۔

گذشتہ روز اپنی غیر رسمی گفتگو میں بھی انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ گذشتہ سال نظام تباہ حال تھا۔ ’میرا بیان حکومت کے خلاف چارج شیٹ نہیں بلکہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی تھی۔‘

نظام کی تباہی سے متعلق محسن نقوی کے بیان پر خود کابینہ کے اندر بھی کافی تنقید دیکھنے میں آئی تھی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کرکٹ کی حالت زار پر طنز کیا تھا۔ 

خواجہ آصف نے ایکس پر وزیر داخلہ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا: ’نقوی صاحب، نظام ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ مثال کے طور پر پی سی بی میں کچھ انقلاب لے آئیں۔ کرکٹ کے شائقین پی سی بی کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ پی سی بی میں آپ کو مکمل اختیار حاصل ہے، وہاں نہ وزیر اعظم ہیں، نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی کوئی فرسودہ سیاسی نظام آپ کے راستے میں رکاوٹ ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست