خون کے ٹیسٹ سے 50 کینسرز کی نشاندہی؟ امریکی ماہرین کی مشروط حمایت

مشاورتی پینل نے سات کے مقابلے میں دو ووٹوں سے، جبکہ ایک رکن نے رائے دینے سے گریز کیا، اس بات کی حمایت کی کہ ڈی این اے پر مبنی یہ ٹیسٹ اپنے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں زیادہ فوائد فراہم کر سکتا ہے۔

دنیا بھر میں متعدد کمپنیاں ایسے خون کے ٹیسٹوں پر تحقیق کر رہی ہیں اور بدھ کا ووٹ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ کسی وفاقی مشاورتی ادارے نے اس تجرباتی طریقہ کار کی حمایت کی ہے (اینواتو)

امریکی وفاقی صحت کے مشیروں نے ایک ایسے خون کے ٹیسٹ کی توثیق کر دی جسے بظاہر صحت مند افراد میں مختلف اقسام کے کینسر کی نشاندہی کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر کتنی مؤثر ہے۔

کمپنی ‘گریل اِنک’ (Grail Inc.) کا ‘گلیری’ (Galleri) نامی ٹیسٹ کینسر کی تشخیص نہیں کرتا، بلکہ خون کے ایک نمونے کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا کسی شخص میں کئی مختلف اقسام کے ٹیومرز میں سے کسی ایک کا اشارہ موجود ہے یا نہیں۔ جن لوگوں کا نتیجہ مثبت آتا ہے، انہیں یہ معلوم کرنے کے لیے مزید طبی معائنے اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے کہ آیا وہ واقعی کینسر میں مبتلا ہیں یا نہیں۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے مشاورتی پینل نے سات کے مقابلے میں دو ووٹوں سے، جبکہ ایک رکن نے رائے دینے سے گریز کیا، اس بات کی حمایت کی کہ ڈی این اے پر مبنی یہ ٹیسٹ اپنے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں زیادہ فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ ان خطرات میں غلط اطمینان پیدا ہونا یا غیر ضروری خوف و تشویش پیدا ہونا شامل ہیں۔ تاہم مثبت رائے کے باوجود پینل نے اس ٹیکنالوجی کے بارے میں متعدد سوالات بھی اٹھائے جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کینٹکی کے شہر لوئس وِل میں یو او ایل فزیشنز سے وابستہ ڈاکٹر وکٹر وین برکل نے کہا: ’شاید میری حمایت ایک امید پر مبنی رائے ہے، مکمل طور پر درست نہیں،‘ اور اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ ٹیسٹ عام استعمال کے لیے منظور بھی ہو جائے تب بھی مزید تحقیق ناگزیر ہوگی۔ ان کے مطابق: ’اگر ہم آبادی میں ایسے ابتدائی مرحلے کے کینسرز کا پتا لگا سکیں جن کی فی الحال سکریننگ ممکن نہیں، تو اس سے یقیناً فائدہ ہوگا۔‘

یہ فیصلہ دو پہلے ہونے والی ووٹنگز کے بعد سامنے آیا جن میں ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ ٹیسٹ 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے بظاہر محفوظ اور مؤثر نظر آتا ہے۔

دنیا بھر میں متعدد کمپنیاں ایسے خون کے ٹیسٹوں پر تحقیق کر رہی ہیں اور بدھ کا ووٹ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ کسی وفاقی مشاورتی ادارے نے اس تجرباتی طریقہ کار کی حمایت کی ہے۔ ایف ڈی اے اس سفارش کا پابند نہیں، لیکن اگر ادارہ اس سے اتفاق کرتا ہے تو امریکہ میں اس طویل عرصے سے مطلوب طریقہ کار کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس کا مقصد کینسر کی زیادہ اقسام کو نسبتاً ابتدائی مرحلے میں دریافت کرنا ہے۔ حتمی فیصلہ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔

اس وقت کینسر کی تشخیص کے لیے چند معروف سکریننگ طریقے موجود ہیں، مثلاً میموگرام اور کولونوسکوپی، جو ایک وقت میں صرف ایک مخصوص قسم کے سرطان کی جانچ کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ٹیسٹ اس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں کہ بیماری کو ابتدائی مرحلے میں دریافت کیا جا سکے، جب اس کا علاج نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ تاہم پینل نے گریل کے ٹیسٹ کو ’ابتدائی تشخیص‘‘ (Early Detection) کا نام دینے پر اعتراض کیا اور کہا کہ کمپنی اس دعوے کی مؤثر طریقے سے تصدیق نہیں کر سکی۔

ماہرین نے احتیاطی تدابیر کی ایک فہرست بھی مرتب کی جس سے ڈاکٹروں اور ممکنہ مریضوں کو آگاہ کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ ان میں یہ بات شامل ہے کہ اس ٹیسٹ کو موجودہ معمول کی کینسر سکریننگ کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ اضافی طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا نتیجہ منفی آئے تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ اسے کینسر نہیں ہے۔ مزید یہ کہ یہ ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہوگی کہ آیا یہ ٹیسٹ میموگرام جیسے روایتی سکریننگ طریقوں جتنا فائدہ مند بھی ہے یا نہیں۔

امریکہ میں لوگ پہلے ہی گلیری ٹیسٹ خرید سکتے ہیں، جس کی قیمت عموماً 700 ڈالر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور یہ رقم مریض خود ادا کرتا ہے۔ تاہم اگر ایف ڈی اے باضابطہ منظوری دے دیتا ہے تو اس ٹیسٹ کی دستیابی میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ پھر میڈیکیئر اور نجی انشورنس کمپنیاں بھی اس کے اخراجات کی کوریج فراہم کر سکتی ہیں۔

ایف ڈی اے کے ماہرین اور دیگر بیرونی مشیروں نے گھنٹوں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات پر بحث کی۔

ان خطرات میں یہ امکان شامل ہے کہ ٹیسٹ کئی حقیقی کینسر کیسز کو شناخت کرنے میں ناکام رہے، جبکہ بعض صحت مند افراد میں غلط طور پر کینسر کا شبہ ظاہر کر دے۔ مزید یہ کہ یہ ٹیسٹ ابتدائی مرحلے کے کینسرز کی شناخت میں نسبتاً کم درست ثابت ہوا، حالانکہ اسی مرحلے میں علاج زیادہ مؤثر اور مریض کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ گریل کمپنی ایسے شواہد بھی پیش نہ کر سکی جن سے ثابت ہوتا کہ اس ٹیسٹ کے ذریعے سکریننگ کرنے سے کینسر سے ہونے والی اموات میں کمی آتی ہے، کیونکہ اس قسم کے نتائج کے لیے کئی سال تک مریضوں کی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

گریل کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا ٹیسٹ ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ یہ 50 سے زیادہ اقسام کے کینسر کی علامات کا سراغ لگا سکتا ہے، جن میں درجنوں ایسی اقسام بھی شامل ہیں جن کے لیے فی الحال سکریننگ کے مؤثر طریقے موجود نہیں، مثلاً جگر اور بیضہ دانی کا کینسر۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ سے وابستہ ڈاکٹر مائلینڈا مسارٹ نے گریل کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا: ’مریض موقع چاہتے ہیں، وہ انتخاب چاہتے ہیں۔ وہ اپنی بیماری کے خلاف لڑنے کا موقع چاہتے ہیں جبکہ زندہ رہنے کی امید ابھی موجود ہو۔‘

گریل کے بنیادی مطالعے میں 140,000 معمر افراد کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق ایک سال کے دوران تشخیص ہونے والے تقریباً ایک تہائی کینسر کیسز اس ٹیسٹ کے ذریعے دریافت کیے گئے۔ علاوہ ازیں جن افراد کے نتائج میں ’کینسر سگنل دریافت ہوا‘ کی نشاندہی ہوئی، ان میں سے تقریباً دو تہائی بعد میں حقیقتاً کینسر کے مریض نکلے۔

تاہم اجلاس میں ایف ڈی اے کے جائزہ کاروں نے اسی ڈیٹا کو ایک مختلف زاویے سے پیش کرتے ہوئے ممکنہ نقصانات کو اجاگر کیا۔ ادارے کے مرکزی جائزہ کار نے نشاندہی کی کہ آئندہ ایک سال کے دوران تشخیص ہونے والے ہر تین میں سے دو کینسر کیسز اس ٹیسٹ سے دریافت ہی نہیں ہو سکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے مریضوں کو غلط اطمینان مل سکتا ہے۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں کو ڈی این اے ٹیسٹ سے سب کچھ نارمل ہونے کا پیغام مل جائے تو وہ کینسر کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

غیر منافع بخش ادارے ’نیشنل سینٹر فار ہیلتھ ریسرچ‘ سے وابستہ ڈیانا زکرمین نے عوامی مشاورت کے دوران کہا: ’جب ان میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوں گی تو وہ ڈاکٹر کے پاس جانے میں تھوڑی سی تاخیر کر سکتے ہیں، اور یہ ہی معمولی تاخیر بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ انہیں کہا جائے گا کہ وہ دیگر سکریننگ بھی جاری رکھیں، لیکن کیا وہ واقعی ایسا کریں گے؟‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت