اگلے سال کرکٹ ورلڈ کپ کا فائنل جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا اور روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کے درمیان اہم میچ بھی یہیں ہوگا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جمعرات کو 2027 کے ورلڈ کپ کا شیڈول جاری کیا۔ ٹورنامنٹ کے میچ تین ملکوں جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے کے مجموعی طور پر 12 میدانوں میں کھیلے جائیں گے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ 10 اکتوبر کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا، جب کہ 21 نومبر کو ورلڈ کپ کا فائنل بھی اسی شہر میں ہوگا۔
ٹورنامنٹ میں شامل 12 ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، انڈیا، پاکستان، افغانستان، زمبابوے اور کوالیفائنگ مرحلے سے آنے والی ایک ٹیم شامل ہوگی۔
گروپ بی میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلہ دیش اور کوالیفائنگ مرحلے سے آنے والی ایک ٹیم کو رکھا گیا ہے۔
دو کوالیفائر ٹیموں کا فیصلہ اگلے سال کے اوائل میں ہونے والے 10 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کے بعد ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم براہ راست ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں جگہ بنائے گی۔
فائنل ہارنے والی ٹیم اور سیمی فائنل ہارنے والی دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ سے پہلے نمیبیا میں سپر سیریز کھیلیں گی۔ سپر سیریز کی فاتح ٹیم دوسری کوالیفائر کی حیثیت سے ورلڈ کپ میں جگہ بنائے گی۔
ٹورنامنٹ کا گروپ مرحلہ سات اکتوبر کو کیپ ٹاؤن میں شروع ہوگا، جہاں آسٹریلیا اور انڈیا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ 2023 کے ورلڈ کپ فائنل کا اعادہ ہوگا۔
پہاڑوں کے خوب صورت پس منظر کے لیے مشہور کیپ ٹاؤن کا نیولینڈز میدان 17 نومبر کو ایک سیمی فائنل کی میزبانی بھی کرے گا۔ دوسرا سیمی فائنل 18 نومبر کو سنچورین میں کھیلا جائے گا۔
آئی سی سی کے مطابق رواں سال 30 ستمبر تک اس کی عالمی درجہ بندی میں شامل پہلی 10 ٹیموں نے ورلڈ کپ کے لیے براہ راست جگہ بنائی ہے۔
ٹورنامنٹ کا مشترکہ میزبان زمبابوے اپنی مہم کا آغاز 11 اکتوبر کو بلاوایو میں افغانستان کے خلاف میچ سے کرے گا۔
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا دنیا کی بہترین ٹیموں کے لیے ایک یادگار میدان فراہم کریں گے، جہاں کرکٹ کا گہرا جذبہ، غیرمعمولی سیاحتی مقامات اور پُرتپاک میزبانی دیکھنے کو ملے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گروپ مرحلے کے بعد دونوں گروپوں کی پہلی تین ٹیمیں سپر سیون مرحلے میں پہنچیں گی۔ دونوں گروپوں میں چوتھے نمبر پر رہنے والی ٹیموں میں سے بہتر کارکردگی دکھانے والی ٹیم ساتویں ٹیم کے طور پر اس مرحلے میں جگہ بنائے گی۔
آئی سی سی کے مطابق شائقین، ٹیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے صورت حال واضح رکھنے کی غرض سے بعض ٹیموں کو سپر سیون مرحلے کے لیے پہلے ہی مخصوص پوزیشنیں دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں گروپ مرحلے میں پہلی تین پوزیشنوں میں کسی بھی نمبر پر رہیں، ان کی پہلے سے طے شدہ پوزیشن برقرار رہے گی۔ مثال کے طور پر انڈیا کو گروپ اے میں اے ون اور نیوزی لینڈ کو گروپ بی میں بی ون قرار دیا گیا ہے۔
انگلینڈ گروپ مرحلے کے دو میچ نمیبیا میں کھیلے گا۔ زمبابوے میں وکٹوریا فالز کے مقام پر نیا تعمیر شدہ میدان 24 اکتوبر کو گروپ مرحلے کے آخری میچ کی میزبانی کرے گا، جس میں مشترکہ میزبان زمبابوے کا مقابلہ انڈیا سے ہوگا۔ اسی میدان میں سپر 7 مرحلے کے مزید تین میچ بھی کھیلے جائیں گے۔
سپر سیون مرحلے کے بعد پہلی چار ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی۔ پہلے نمبر پر رہنے والی ٹیم کا مقابلہ چوتھے نمبر کی ٹیم سے ہوگا، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں دوسرے سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔