سعودی عرب کی کابینہ نے یمن کی صدارتی قیادت کونسل اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت یمن میں ریاستی اداروں کی بحالی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق منگل کو ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ حوثی امن کی کوششوں کے بجائے فوجی کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے یمن کا انسانی اور معاشی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
سعودی کابینہ نے حوثیوں کی کارروائیوں کو علاقائی سلامتی اور بحیرہ احمر کے جنوبی حصے سمیت آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کے لیے بھی خطرہ قرار دیا۔
HRH the Crown Prince Chairs Cabinet Session in Riyadh https://t.co/IncSTkq6No #SPAGOV https://t.co/nkJWAb24Ox
— SPAENG (@Spa_Eng) October 6, 2026
یہ بیان یمن میں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد تنازع کے شدید ترین اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔ یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا تھا کہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یمنی حکام کے مطابق سرکاری فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب کے اطراف اور بندرگاہی شہر المخا کے قریب بعض علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
دوسری طرف حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ منگل کو سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق نجران اور جازان کے ہوائی اڈوں کو دو حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے اور کچھ املاک کو نقصان پہنچا۔
سعودی عرب نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے علاوہ ریاض، ابہا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع میں شہری اور معاشی تنصیبات پر حملوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
Coalition Forces: Ballistic Missile Intercepted, Destroyed North of Riyadh. https://t.co/UPH4vNtbC0 #SPAGOV https://t.co/UVu5dS1wdp
— SPAENG (@Spa_Eng) October 7, 2026
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا مشترکہ دفاعی مؤقف
سعودی کابینہ نے پیر کو مکہ اتحاد برائے دفاع کے ہنگامی اجلاس کے نتائج کا بھی خیرمقدم کیا۔ اس اتحاد میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔
تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی شہروں سمیت شہری و معاشی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
اجلاس میں مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عملی اقدامات فوری طور پر شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ بیان کے مطابق ان اقدامات میں طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فراہمی اور سعودی عرب میں ان کی تیز رفتار تعیناتی شامل ہوگی، جس کا مقصد فوجی تیاری، باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ دفاعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔