وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں وائرل ہونے والے ریمارکس کی میڈیا کوریج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوز اداروں نے صدر کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔
ٹرمپ نے پیر کو ریاست نیبراسکا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث بڑھنے والی قیمتوں کا ذکر کیا اور انہیں ’دنیا کو محفوظ رکھنے اور اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ادا کی جانے والی ایک چھوٹی قیمت‘ قرار دیا۔
اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ’وہ ایک شہر کو تباہ کر سکتے ہیں۔ انہیں لاس اینجلس کو تباہ کرنے دیں، انہیں سان ڈیاگو کو تباہ کرنے دیں۔‘
ان کے اس بیان پر ریلی میں موجود افراد نے نعرے لگائے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ بہت چھوٹی قیمت ہے جو ادا کرنا پڑ رہی ہے، اور یہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔‘
ان ریمارکس پر ڈیموکریٹس کی جانب سے فوری مذمت سامنے آئی اور یہ بیان ملک بھر میں خبروں کی سرخی بن گیا۔
مثال کے طور پر لاس اینجلس ٹائمز نے سرخی لگائی: ’ٹرمپ نے انتخابی ریلی میں ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ’تباہ کرنے‘ دینے کی تجویز دی۔‘
وائٹ ہاؤس نے اخبار پر ٹرمپ کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔
وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے ایکس پر لاس اینجلس ٹائمز کی خبر کے جواب میں لکھا: ’نہیں، انہوں نے ایسا نہیں کہا، آپ لوگ مکمل طور پر غلط ہیں۔‘
اکاؤنٹ نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ دراصل یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو جوہری ہتھیار سے تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جنگ کر رہا ہے اور اگر ایران کو موقع ملتا تو وہ ایسا کرتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے بھی ٹرمپ کے بیان کا دفاع کیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر ٹرمپ کے تبصروں پر میڈیا میں پیدا کیا گیا ہنگامہ حقیقت پر مبنی نہیں۔‘
ان کے بقول ’وہ واضح طور پر یہ بیان کر رہے تھے کہ اگر جوہری ہتھیار رکھنے والے ایران کو نہ روکا جاتا تو امریکی شہر خطرے میں ہوتے۔ صدر کی وجہ سے امریکہ زیادہ محفوظ ہے۔‘
ٹرمپ کو ایک غیر متوقع شخصیت کی جانب سے بھی دفاع حاصل ہوا۔
سی این این کے فیکٹ چیکر ڈینیئل ڈیل نے کمالا ہیرس سے منسلک اکاؤنٹ ہیڈکوارٹرز کی ایک پوسٹ کو چیلنج کیا، جس میں ٹرمپ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن دیا گیا تھا: ’ایران کے بارے میں ٹرمپ: انہیں لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو تباہ کرنے دیں، یہ ایک چھوٹی قیمت ہے۔‘
ڈیل نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ ٹرمپ کا براہ راست بیان نہیں ہے اور میں بالکل نہیں سمجھتا کہ یہ ان کے بیان کا درست خلاصہ ہے۔‘
No, he didn't, you buffoons. He was saying the U.S. is fighting to STOP Iran from having the ability to take out LA and San Diego with a nuclear weapon — which they would if they had the chance.
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) October 6, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ جنگ کے نتائج، مثلاً پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اس کے مقابلے میں ایک چھوٹی قیمت ہیں جو ایک ایسے ایران کو روکنے کے لیے ادا کرنا پڑتی ہے جسے مبینہ طور پر بغیر روک ٹوک کے کارروائی کرنے دی جائے۔
ڈیل نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے ’بکھرے ہوئے اور نامکمل اندازِ گفتگو‘ کے باعث ان کے بیان کا اصل مطلب سمجھنا مشکل تھا۔
دوسری جانب، کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے کئی اعلیٰ سطح کے ڈیموکریٹ رہنماؤں نے پیر کی شب ٹرمپ کے ریمارکس کی فوری اور شدید مذمت کی۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیشنل گارڈ اور میرینز کو کیلیفورنیا پر قبضے کے لیے بھیجنے کے بعد اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے غیر ملکی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ’تباہ کر دیں‘۔‘
نیوسم نے مزید کہا ’وہ ذہنی طور پر غیر متوازن اور خطرناک ہیں۔‘
لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے کہا کہ ’امریکہ کے صدر نے ایک غیر ملکی حکومت کی جانب سے لاس اینجلس پر حملے کی تجویز دی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے شہر کے خلاف ان کے بیانات خطرناک ہیں اور ممکنہ طور پر ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔‘
© The Independent