پاکستانی ریئلٹی شو ’تماشا‘ کے پانچویں سیزن کے گرینڈ فینالے سے قبل چھ فائنلسٹس نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ دو ماہ تک ایک ہی گھر میں مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ رہنا، اپنی شخصیت پر قابو رکھنا اور مقابلے میں آگے بڑھنا ان کے لیے کس قدر مشکل رہا۔
ہفتے، 10 اکتوبر کو ہونے والے گرینڈ فینالے سے پہلے ڈاکٹر زی خان، ببرک شاہ، سامیہ حجاب، فصیح خالد، اسراء عائشہ اور یاسر عالم نے اپنی حکمت عملی اور گھر کے اندر پیش آنے والے واقعات پر بات کی۔
کسی نے اپنے غصے کو قابو میں رکھنا سب سے بڑا امتحان قرار دیا تو کسی کے لیے گھر میں بند رہنا اور دوسروں کے ساتھ رہائش اختیار کرنا مشکل ثابت ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
فائنلسٹس کی گفتگو سے یہ بھی سامنے آیا کہ شو میں ہونے والی لڑائیوں، دوستیوں اور ایک دوسرے پر حکمت عملی اختیار کرنے کے الزامات کے باوجود بیشتر شرکا کا اصرار ہے کہ انہوں نے کیمروں کے سامنے اپنی اصل شخصیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
’اس گھر میں خاموش رہنا ممکن نہیں تھا‘: ڈاکٹر زی خان
ڈاکٹر زی خان نے بتایا کہ شو میں آنے سے پہلے ان کی بہن اور ٹیم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی شخصیت کے وقار اور سوشل میڈیا پر موجود تاثر کو برقرار رکھیں۔
تاہم ان کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے اگلے ہی دن اسراء عائشہ کے ساتھ تلخ کلامی نے صورت حال بدل دی۔
ڈاکٹر زی خان نے بتایا کہ اسراء نے ان سے کہا، ’تمہاری اوقات کیا ہے؟‘ جس پر انہیں غصہ آیا اور وہ اپنا ردعمل قابو میں نہ رکھ سکے۔
ان کے بقول اس واقعے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت کا ایک ایسا پہلو بھی سامنے لے آئے ہیں جو شاید ناظرین نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ شو میں مختلف عمروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہنا ان کے لیے دلچسپ تجربہ تھا۔
ڈاکٹر زی خان کے مطابق اس گھر میں خاموشی یا دوسروں سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہوں نے سب کے ساتھ گھلنے ملنے کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر میں اپنے الفاظ اور ردعمل کو قابو میں رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ کوئی بھی بات بعد میں تنازع بن سکتی تھی۔
انہوں نے اس حوالے سے شو کے میزبان ’بادشاہ سلامت‘ کی رہنمائی کو بھی اہم قرار دیا۔
’کبھی آپ ہار کر جیتتے ہیں‘: ببرک شاہ
اداکار ببرک شاہ نے کہا کہ انہوں نے شو میں مثبت سوچ کے ساتھ حصہ لیا، تاہم مقابلے میں کسی دوسرے کھلاڑی کو شکست دینے پر وہ اکثر آپ کو خودغرض سمجھنے لگتا ہے۔
ان کے مطابق اچھے کھلاڑی کی پہچان صرف جیت نہیں بلکہ ہار اور جیت، دونوں صورتوں کو سمجھنا ہے۔
ببرک شاہ نے کہا، ’کبھی آپ ہار کر جیتتے ہیں، کبھی آپ جیت کر جیتتے ہیں۔ یہی اچھے کھلاڑی کی پہچان ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ شو کے دوران ان کے لیے سب سے بڑی مشکل گھر کے اندر محدود رہنا تھا کیونکہ وہ عام زندگی میں اس طرح بند رہنے کے عادی نہیں۔
ان کے مطابق مشترکہ رہائش میں صفائی اور حفظان صحت کا خیال رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔
ببرک شاہ نے کہا کہ انہیں مختلف چیزوں سے الرجی ہے، اس لیے وہ اپنے گلاس، پانی کی بوتل اور برتنوں کی صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کسی کی ڈانٹ سننا ان کے لیے مشکل تھا۔
ان کے بقول وہ اپنے گھر میں بڑے ہونے کی وجہ سے دوسروں کو ہدایات دینے کے عادی ہیں، جبکہ ’تماشا‘ کے گھر میں انہیں دوسرے لوگوں کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا تھا۔
سامیہ حجاب نے ببرک شاہ کی حکمت عملی پر سوال اٹھا دیا
سامیہ حجاب نے گفتگو کے دوران ببرک شاہ کی حکمت عملی کے بارے میں دلچسپ انداز میں کہا کہ وہ بھی یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ ببرک شاہ نے ابتدا میں سب سے اختلاف کرکے خود کو تنہا ظاہر کیا اور بعد میں انہی لوگوں سے دوستی کر لی۔
تاہم سامیہ نے واضح کیا کہ وہ اسے ببرک شاہ کی منصوبہ بندی قرار نہیں دے رہیں، کیونکہ ان کے خیال میں بہت سی باتیں فطری انداز میں ہوتی رہیں۔
سامیہ کے مطابق وہ خود بھی کوئی خاص حکمت عملی بنا کر شو میں نہیں آئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عام زندگی میں بھی ہنستی کھیلتی اور جذباتی طبیعت کی مالک ہیں اور شو کے دوران بھی ان کا رویہ زیادہ مختلف نہیں تھا۔
سامیہ کا کہنا تھا کہ انہیں دوسروں سے ناراضی برقرار رکھنا پسند نہیں، اس لیے وہ اختلاف کے بعد جلد معافی مانگ کر معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا، ’اگر مجھے غصہ آئے گا تو یا میں رو پڑوں گی یا میں ہنس پڑوں گی۔‘
سامیہ کے مطابق گھر میں اپنے قریبی لوگوں کی کمی محسوس کرنا ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا اور شروع میں انہوں نے ایسے دوست بنائے جو مشکل وقت میں انہیں سہارا دے سکیں۔
’اپنی زبان پر قابو رکھنا سب سے بڑا امتحان تھا‘: فصیح خالد
فصیح خالد نے بتایا کہ شو میں شرکت سے پہلے وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ گھر کے اندر حالات کیسے ہوں گے۔
ان کے مطابق انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی اصل شخصیت کے ساتھ شو میں جائیں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالیں۔
فصیح کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں دوسرے شرکا اور شو کے انداز کو سمجھنے میں وقت لگا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ عام زندگی میں مذاق کرنے والے اور متحرک انسان ہیں، لیکن گھر کے اندر انہیں اپنے غصے، مذاق اور ردعمل پر خاص توجہ دینا پڑی۔
ان کے بقول قومی ٹیلی ویژن پر ہر وقت کیمروں کی موجودگی کا احساس انہیں محتاط رکھتا تھا۔
فصیح نے کہا کہ بعض اوقات وہ جذبات میں کچھ کہہ دیتے تھے، لیکن بعد میں خود اپنا جائزہ لیتے تھے کہ انہیں کس انداز میں بات کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اپنے رویے اور زبان پر قابو رکھنا ان کے لیے شو کا سب سے بڑا چیلنج رہا۔
’میری نظر صرف ٹرافی پر تھی‘: اسرا عائشہ
اسرا عائشہ نے کہا کہ انہوں نے شو میں اپنی اصل شخصیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اور کسی دوسرے کھلاڑی کی نقل نہیں کی۔
ان کے مطابق ابتدا میں انہیں اپنی ذہانت اور صلاحیتوں سے متعلق مختلف تبصرے سننے کو ملے، لیکن انہوں نے ان باتوں کو اپنے کھیل پر اثرانداز نہیں ہونے دیا۔
اسرا نے دعویٰ کیا کہ وزارت کی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران انہیں کوئی سزا نہیں ملی اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح ادا کیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں کرکٹ بھی کھیل چکی ہیں اور اسی وجہ سے مقابلے کے دوران ان کی توجہ ہمیشہ کامیابی پر رہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ایک کرکٹر کی نظر گیند اور ہدف پر ہوتی ہے، اسی طرح وہ بھی شو کے دوران اپنی توجہ ٹرافی پر مرکوز رکھتی تھیں۔
اسرا نے کہا کہ انہوں نے ’تماشا‘ کے گزشتہ سیزن کو بھی زیادہ نہیں دیکھا تھا تاکہ وہ کسی دوسرے کھلاڑی کے انداز سے متاثر نہ ہوں۔
یاسر عالم نے سیف علی خان کی نقل کرنے کا الزام مسترد کر دیا
فائنلسٹ یاسر عالم سے جب گزشتہ سیزن کے کھلاڑی سیف علی خان کے انداز اور شاعری کی نقل کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔
یاسر کے مطابق ان کے اندر شاعری کا شوق پہلے سے موجود تھا، تاہم ڈاکٹر زی خان کی جانب سے ان کی اردو اور شاعری پر سوال اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے اس صلاحیت کو زیادہ نمایاں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ شاعری پڑھنے اور سننے کی عادت نے ان کے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کیا۔
یاسر نے سیف علی خان کو پسندیدہ کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں، لیکن ان کی نقل نہیں کرنا چاہتے۔
ان کا کہنا تھا، ’میں چاہوں بھی تو سیف علی خان نہیں بن سکتا، میں چاہوں بھی تو بادشاہ سلامت نہیں بن سکتا، میں بس یاسر عالم ہوں۔‘
یاسر نے کہا کہ وہ شو میں جیتنے کے ارادے سے آئے تھے اور ان کے لیے صرف فائنل تک پہنچنا کافی نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھر میں رہتے ہوئے انہیں اپنے اہل خانہ کے علاوہ اپنے افریقی گرے طوطے ’آزی‘ کی بہت یاد آئی۔
فائنلسٹس کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ گئے
گفتگو کے دوران ببرک شاہ نے بعض کھلاڑیوں کی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ڈاکٹر زی خان، فصیح خالد اور اسراء عائشہ کا رویہ زیادہ تر فطری تھا۔
تاہم انہوں نے سامیہ حجاب کے بارے میں کہا کہ وہ گھر میں ایک شخص کی بات دوسرے تک پہنچاتی تھیں اور مختلف مواقع پر اپنی موجودگی نمایاں رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔
سامیہ نے بھی ببرک شاہ کے بارے میں کہا کہ وہ کھیل کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے اور دوسروں کو مشورہ دیتے ہوئے اپنے فائدے کو بھی مدنظر رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ببرک شاہ اور لیلیٰ جیسے تجربہ کار شرکا نے نوجوان کھلاڑیوں کو سخت مقابلہ دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فصیح خالد نے اس موقع پر کہا کہ دوسرے کھلاڑی انہیں کم عمر اور ناتجربہ کار سمجھتے تھے، لیکن وہ گھر میں ہونے والی سرگرمیوں اور لوگوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔
گرینڈ فینالے سے پہلے کیا توقعات ہیں؟
ڈاکٹر زی خان نے کہا کہ انہیں گرینڈ فینالے کے ساتھ اس بات کا بھی تجسس ہے کہ شو سے باہر ناظرین نے ان کی شخصیت اور کارکردگی کو کس طرح دیکھا ہے۔
ان کے مطابق آخری چند دنوں میں بھی گھر کے اندر کئی اہم واقعات پیش آئے، جو ناظرین کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ببرک شاہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ناظرین نے شو کے دوران ان کی شخصیت کے مختلف پہلو دیکھے ہوں گے، جن میں مشکل حالات کا سامنا کرنا، غصے کو قابو میں رکھنا، گھر کے کام کرنا اور اختلافات کے باوجود دوسروں سے تعلقات بہتر بنانا شامل ہیں۔
یاسر عالم نے کہا کہ وہ شو میں اپنی محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھے اور آخری وزارت حاصل کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا ٹاسک بھی جیتا۔
چھ فائنلسٹس کی گفتگو میں جہاں ایک دوسرے کے بارے میں اختلافات اور دلچسپ تبصرے سامنے آئے، وہیں سب نے اس تجربے کو اپنی شخصیت، برداشت اور دوسروں کے ساتھ رہنے کی صلاحیت آزمانے کا موقع قرار دیا۔
’تماشا‘ کے پانچویں سیزن کا گرینڈ فینالے 10 اکتوبر کو ہونا ہے، جس میں فاتح کا فیصلہ سامنے آئے گا۔