سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہفتے کو ریاض کے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں اموات اور زخمیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حوثیوں کے اس حملے میں 12 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اتوار کو یمن کے حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کا ذمہ دار حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا اور اسے ایک ’مکمل جنگی جرم‘ قرار دیا ہے، جسے ایک سفارتی ذریعے نے میزائل حملہ بتایا۔
#بيان إلحاقي بشأن الاعتداء الذي استهدف مطار الملك خالد الدولي بالرياض. #الطيران_المدني https://t.co/JoAi69jwvp
— هيئة الطيران المدني (@ksagaca) October 10, 2026
یہ حملہ مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی ایک بے مثال لہر کے دوران ہوا ہے جو جولائی میں یمن کی ریاض نواز حکومت کے ساتھ تنظیم کی طویل جنگ میں جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔
بڑھتے ہوئے اس تشدد نے بڑی کشیدگی کا امکان پیدا کر دیا ہے، کیوں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے میں جان سے جانے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ دو بنگلہ دیشی، ایک امریکی، ایک مصری، ایک اردنی، ایک شامی، ایک فلسطینی اور ایک سوڈانی شہری شامل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 309 زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
حملے کے بعد ہوائی اڈے پر سرگرمیاں معطل کر دی گئیں اور حکام نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام جاری ہے۔
ایک طبی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے بعد ’سنگین ہنگامی صورت حال‘ سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت کے حکام نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کو طلب کر لیا۔
دو ڈاکٹروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مکہ جانے والے کئی زائرین بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثی ملیشیا کی جانب سے نشانہ بنانے کے تازہ ترین ’دہشت گرد حملے‘ کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ’دہشت گردی کا سنگین اقدام، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘
دفتر خارجہ کے کے مطابق پاکستان نے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔‘
’جارحیت کے ایسے کھلے اور بلاامتیاز اقدامات کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دہشت گرد حملے فوری طور پر بند کرے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرے جو بے گناہ افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے اور مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔