رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا میں 2026 کے آغاز سے صحافتی مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک نئی قانونی تبدیلی کے تحت آن لائن پلیٹ فارمز کو متنازع قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کے لیے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا جا رہا ہے۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں تنظیم کے مطابق یہ تیزی سے نافذ ہونے والا اور غیر شفاف سنسرشپ کا نظام عوام کے حقِ معلومات کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا ہے۔
کشمیری علاقوں میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد پر رپورٹس، گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے کے باعث مقامی آبادیوں کی بے دخلی سے متعلق تحقیقات اور پولیس تشدد کے الزامات پر طلبہ کے بیانات جیسے اہم صحافتی مواد کو حکام کی درخواست پر انتہائی تیزی سے سوشل میڈیا سے ہٹایا جا رہا ہے۔
فروری 2026 میں نافذ ہونے والے نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو رپورٹ شدہ مواد ہٹانے کے لیے دی جانے والی مہلت 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی گئی۔ اس مختصر مدت کے باعث پلیٹ فارمز کے پاس حکومتی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تقریباً کوئی وقت نہیں بچتا۔
40 صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف کارروائیاں
دہلی میں قائم تنظیم سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر (SFLC) نے، جو آن لائن آزادیوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے، آر ایس ایف کو بتایا: ’2026 میں صحافیوں یا میڈیا اداروں سے متعلق مواد ہٹانے اور اکاؤنٹس بلاک کیے جانے کے 40 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق مارچ اور جولائی 2026 کے درمیان حکومت نے صحافتی اور غیر صحافتی تمام اقسام کے مواد کے لیے تقریباً دو لاکھ ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔ یہ احکامات حکومتی پورٹل سہیوگ (Sahyog) کے ذریعے بھیجے گئے، جبکہ اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایسی درخواستوں کی تعداد صرف 2,312 تھی۔
سہیوگ پورٹل کیا ہے؟
اکتوبر 2024 میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے شروع کیا جانے والا سہیوگ پورٹل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آن لائن مواد فوری طور پر ہٹانے کی درخواست کرنے کی سہولت دیتا ہے اور اس عمل کو خودکار بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
نئی تین گھنٹے کی شرط پوری کرنے کے لیے میٹا نے سہیوگ پورٹل کے ساتھ ایک ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) مربوط کر لیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹوں کے مطابق اس براہِ راست رابطے کے ذریعے پورٹل پر حکام کی جانب سے بھیجی جانے والی درخواستیں میٹا کے پلیٹ فارمز پر عملے کے کسی رکن کی پیشگی جانچ پڑتال کے بغیر خودکار طور پر پراسیس کی جا سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا مواد عام طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(b) یا 69A کے تحت جاری نوٹسوں کے بعد ہٹایا جاتا ہے۔ تاہم متاثرہ صحافیوں یا مصنفین کو موصول ہونے والے نوٹس یہ نہیں بتاتے کہ مواد کیوں بلاک کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر کے مطابق: ’شفافیت کی کمی کے باعث صحافیوں کے لیے ان پابندیوں کو چیلنج کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مواد ہٹانے کا حکم کس ادارے نے دیا، کون سی قانونی دفعہ استعمال کی گئی اور اس فیصلے کی بنیاد کیا تھی۔‘
آر ایس ایف کے جنوبی ایشیا دفتر کی سربراہ سیلیا مرسیئر کے مطابق: ’تحقیقاتی رپورٹس، صحافتی تحقیقات اور یہاں تک کہ پورے میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے بڑھتے ہوئے اقدامات انڈیا میں آن لائن سنسرشپ کی شدت میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکام ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس میں عوامی مفاد کے صحافتی مواد کو چند گھنٹوں کے اندر بغیر وضاحت اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کے غائب کیا جا سکتا ہے۔‘
انہوں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کے خلاف من مانی ہٹاؤ درخواستیں بند کی جائیں، ہر کارروائی کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھی جائے اور کسی بھی صحافتی مواد پر پابندی لگانے سے پہلے آزادانہ جائزہ یقینی بنایا جائے۔
آر ایس ایف نے میٹا، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز سے بھی مطالبہ کیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں سے متعلق ہر درخواست کو خصوصی انسانی اور قانونی جانچ کے بعد ہی منظور کیا جائے جبکہ متاثرہ اداروں کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پابندی کا حکم کس ادارے نے دیا، اس کی وجہ کیا تھی اور اپیل کا طریقہ کار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بعد میں صحافتی قرار دیے جانے والے مواد کو فوراً بحال کیا جانا چاہیے۔
فروری سے ستمبر کے اہم واقعات
فروری: دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بلاک
9 فروری کو دہلی کے خبر رساں ادارے دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ، جس کے 1.3 ملین سے زیادہ فالوورز تھے، وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدی متحرک کارٹون شائع کرنے کے بعد تقریباً دو گھنٹوں کے لیے انڈیا میں بلاک کر دیا گیا۔
اگرچہ اکاؤنٹ بعد میں بحال کر دیا گیا، لیکن متنازع پوسٹ آج بھی انسٹاگرام اور فیس بک پر دستیاب نہیں۔ اسی مواد کو ایکس پر بھی بلاک کیا گیا۔
مارچ: کشمیری میڈیا اور پسماندہ طبقات کی آوازیں نشانہ
میٹا نے تین بڑے کشمیری میڈیا اداروں گریٹر کشمیر، رائزنگ کشمیر اور کشمیر لائف کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے۔ ان کے فیس بک پر مجموعی طور پر 1.8 ملین اور انسٹاگرام پر تقریباً دو لاکھ فالوورز تھے۔
اسی ماہ خبر رساں پلیٹ فارم مولیٹکس اور اس کے بیک اپ فیس بک پیج کو بلاک کیا گیا۔ دلتوں، قبائلی برادریوں اور دیگر محروم طبقات کے مسائل اجاگر کرنے والے ادارے نیشنل دستک کا فیس بک صفحہ ہٹا دیا گیا۔
تقریباً 1.7 ملین فالوورز رکھنے والے 4PM نیوز نیٹ ورک کا فیس بک صفحہ بھی انڈیا میں بلاک کر دیا گیا۔ آزاد صحافت کے پلیٹ فارم PeekTV کو ایکس پر ایسی ویڈیو کے خلاف ٹیک ڈاؤن نوٹس ملا جس میں ایک طالب علم نے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد کا ذکر کیا تھا۔
جنوبی افریقی صحافی آزاد عیسیٰ کا ایکس اکاؤنٹ بھی حکومتی احکامات پر معطل کر دیا گیا۔ مولیٹکس، نیشنل دستک اور آزاد عیسیٰ کا ایکس اکاؤنٹ تاحال قابلِ رسائی نہیں۔
مئی: ماحولیاتی رپورٹ پر پابندی
22 مئی کو میٹا نے انوائرنمنٹل رپورٹنگ کلیکٹو کی ایک انسٹاگرام ویڈیو بلاک کر دی۔ ویڈیو میں وشاکھاپٹنم میں گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے پر رپورٹ پیش کی گئی تھی جو ادانی گروپ کے اشتراک سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مقامی دلت آبادیوں کی جبری بے دخلی پر خاص توجہ دی گئی تھی۔ بلاک کیے جانے سے قبل یہ ویڈیو 2.6 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی تھی۔ قانونی مداخلت کے بعد اسے 10 ستمبر کو بحال کر دیا گیا۔
جولائی: طلبہ احتجاج سے متعلق مواد ہٹایا گیا
جولائی میں نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاجوں سے متعلق متعدد مواد انڈیا میں ناقابل رسائی بنا دیا گیا۔ فری لانس صحافی سادھیکا تیواری نے بتایا کہ ان کی وہ ویڈیو، جس میں ایک طالب علم پولیس تشدد کا الزام لگاتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ بات کر رہا تھا، ایکس پر بلاک کر دی گئی۔
اسی طرح آزاد صحافی یاقوت علی کا ایک انٹرویو انسٹاگرام پر تین مرتبہ بلاک ہوا۔ مکتوب میڈیا کی احتجاجی مظاہروں سے متعلق دو ویڈیوز بھی انسٹاگرام پر روک دی گئیں۔
پریانشی شرما کے مطابق ایک احتجاجی شریک کا انٹرویو بھی انسٹاگرام سے ہٹا دیا گیا، جس میں آن لائن دھمکی آمیز تبصروں کا ذکر تھا۔
اگست: کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کی رپورٹس بلاک
اگست کے آغاز میں سکرول کی کئی انسٹاگرام پوسٹس بلاک کی گئیں جن میں کشمیر میں پیلٹ گن سے متاثر افراد کی صورتحال بیان کی گئی تھی۔ 2010 سے انڈین سکیورٹی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز اور دیگر ہتھیار استعمال کرتی رہی ہیں۔
سکرول کے مطابق جون 2026 کے بعد یہ چوتھی مرتبہ تھا کہ اس کے مواد پر پابندی لگائی گئی۔ اسی موضوع پر دی وائر کا فیس بک اور انسٹاگرام مواد بھی بلاک کیا گیا۔
دی ہندو کی کشمیر میں گرینیڈ حملوں کے متاثرین پر مبنی رپورٹ بھی انسٹاگرام سے ہٹا دی گئی۔ یہ تمام مواد اب بھی انڈیا میں دستیاب نہیں۔
ستمبر: صحت بحران، مسجد کی مسماری اور احتجاج میں اموات کی رپورٹس
6 ستمبر کو تین آزاد صحافیوں مونیکا سنگھ، بندو گرجر اور لوک بھدرا سنگھ کے انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے۔ ان صحافیوں نے مدھیہ پردیش کی ایک آدی واسی برادری میں صحت کے بحران پر رپورٹ شائع کی تھی۔ بعد ازاں ان کے اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے۔
اسی دوران آرٹیکل 14 کی جانب سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مارے گئے شہریوں پر رپورٹ کو انسٹاگرام پر بلاک کردیا گیا۔
دی وائر کی مدیرِ اعلیٰ سیما چشتی کی ایکس پوسٹ، جس میں 150 سال پرانی مسجد کی مسماری سے متعلق مضمون شیئر کیا گیا تھا، انڈین پولیس کی درخواست پر ہٹا دی گئی، تاہم بعد میں بحال کر دی گئی۔
سیاسی کارٹون بھی نشانے پر
حالیہ دنوں میں انسٹاگرام نے حکومت کی درخواست پر معروف کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کے اکاؤنٹ تک رسائی محدود کر دی۔ کارٹونسٹ منجول نے بھی بتایا کہ 27 ستمبر کو ان کا ایک سیاسی کارٹون سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر محدود کر دیا گیا۔ دونوں معاملات میں عوامی اداروں پر تنقیدی سیاسی کارٹون شامل تھے۔
آر ایس ایف اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مواد ہٹانے کے احکامات میں بے مثال اضافے، تین گھنٹے کی نئی مہلت اور خودکار حذف کے نظام نے انڈیا میں آن لائن صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق شفافیت، عدالتی نگرانی اور مؤثر اپیل کے نظام کے بغیر ایسے اقدامات عوام کے حقِ معلومات کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔