ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد امریکہ اور انڈیا کے درمیان تجارتی بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی ہے، اور دونوں جانب کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ محصولات اور مارکیٹ تک رسائی کے معاملات پر اہم اختلافات اب بھی باقی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک ’بڑے اور شاندار‘ تجارتی معاہدے کے قریب ہیں۔ تاہم مہینوں بعد، مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔
انڈین وزیر خزانہ نرملا ستھارامن نے اس ہفتے کہا کہ مذاکرات ’ایک ایسی سطح پر پہنچ چکے ہیں‘ جس کے بعد سمجھوتہ کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جس کے بعد مزید لین دین دونوں فریقوں کے لیے ’بہت، بہت مشکل‘ ہوگا۔
دارالحکومت دہلی میں ایک تقریب کے دوران نرملا ستھارامن نے کہا، ’اس معاہدے پر بہت سخت اور بھرپور انداز میں مذاکرات کیے گئے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت جاری ہے۔
ٹرمپ کے محصولات ایک بڑی رکاوٹ
گذشتہ سال صدر ٹرمپ کی جانب سے ’لبریشن ڈے‘ کے نام سے بڑے پیمانے پر جوابی درآمدی محصولات کے اعلان کے بعد، انڈیا امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات شروع کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ دونوں فریقوں نے ’مشن 500‘ کا بھی آغاز کیا، جو 2030 تک دو طرفہ تجارت کو دوگنا سے زیادہ بڑھا کر 500 ارب ڈالر تک لے جانے کا ایک پرعزم ہدف ہے۔
تاہم اس کے بعد درآمدی محصولات پر متعدد تنازعات کے باعث واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، جبکہ روس سے توانائی کی خریداری، منڈیوں تک رسائی اور زرعی شعبے پر اختلافات نے معاہدے تک پہنچنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے ’لبریشن ڈے‘ اقدامات کے تحت ابتدا میں انڈین مصنوعات پر 26 فیصد درآمدی محصول عائد کیا گیا تھا۔
بعد ازاں انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے پر واشنگٹن نے مزید 25 فیصد اضافی محصول عائد کر دیا، جس کے نتیجے میں بعض انڈین مصنوعات پر مؤثر درآمدی محصولات کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی۔
فروری میں مذاکرات کے لیے اعلان کردہ فریم ورک نے کچھ ریلیف فراہم کیا، جس میں واشنگٹن انڈین مصنوعات پر جوابی محصولات کی شرح کو 18 فیصد تک کم کرنے پر رضامند ہوا۔
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر کے ہنگامی اختیارات کے استعمال کے ذریعے وسیع تر عالمی ڈیوٹیزعائد کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کے بعد محصولات کی صورت حال بدل گئی، جس کے بعد انڈین برآمدات پر 10 فیصد بنیادی محصول لاگو ہو گیا، جبکہ دونوں ممالک ایک وسیع تر معاہدے کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹ گئے۔
برطانیہ میں قائم سکیورٹی انٹیلی جنس فرم ڈریگن فلائی کے تجزیہ کار ترن نائر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کا امکان تو ہے لیکن شاید اگلے سال تک ایسا نہ ہو سکے۔‘
’بنیادی طور پر، انڈیا اب بھی امریکی مارکیٹ تک زیادہ رسائی اور اپنی برآمدات پر کم امریکی محصولات چاہتا ہے۔‘
ترون نائر نے کہا کہ امریکہ اب بھی بھارت کو اپنی برآمدات کے لیے ایک پرکشش منڈی سمجھتا ہے۔
ان کے مطابق انڈیا کو اپنی ٹیکنالوجی کی سپلائی چینز میں شامل کرنے سے امریکہ کو فائدہ ہوگا، کیونکہ اس سے ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
معاہدے کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟
امریکہ انڈیا کے زرعی اور ڈیری سیکٹر تک زیادہ رسائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
لیکن ایک زرعی معیشت ہونے کے ناطے، جس کے زرعی شعبے میں آٹھ کروڑ لوگ برسرروزگار ہیں، انڈیا اس مارکیٹ کو کھولنے کے حوالے سے حساس رہا ہے جبکہ وہ امریکی محصولات میں زیادہ رعایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
انڈیا نے ڈیری، پولٹری، چاول، گندم اور دیگر زرعی مصنوعات کو مارکیٹ کھولنے کے وعدوں کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کوئی بھی رعایت دینے سے پہلے امریکی محصولات کے حوالے سے زیادہ یقین دہانی چاہتا ہے۔
اس نے اب تک 150 فیصد تک کے بھاری درآمدی محصولات عائد کر کے اپنے کسانوں کو غیر ملکی مسابقت سے بچائے رکھا ہے۔
زرعی شعبہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کھولنے سے کسانوں کو معاشی نقصان پہنچنے کے خدشات کے علاوہ نریندر مودی کی حکومت کو سیاسی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مودی حکومت نے 2020 میں زرعی اصلاحات کے قوانین منظور کیے تھے، جن کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہوا۔ کسانوں کے نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد حکومت کو یہ قوانین واپس لینا پڑے تھے۔
فروری میں طے پانے والے فریم ورک میں جانوروں کی خوراک، خشک میوہ جات، پھلوں، سویابین کے تیل، شراب اور دیگر الکوحل والے مشروبات کے شعبوں میں ممکنہ رعایتوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
برطانوی کثیرالقومی تحقیقی ادارے بی ایم آئی کے مطابق انڈیا بالآخر ان شعبوں میں محدود رسائی دینے پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن دودھ سے بنی مصنوعات اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ زرعی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیاں کھولنے کی سیاسی قیمت کہیں زیادہ ہوگی۔
’انڈیا ایسی رعایتیں دینے سے گریز کرے گا جن کی اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے، جب تک امریکہ اسے دیگر برآمد کنندگان کے مقابلے میں کوئی واضح فائدہ نہیں دیتا۔‘
روس سے توانائی کی درآمدات ایک بڑی رکاوٹ
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی مسلسل خریداری نے ان مشکل تجارتی مذاکرات میں ایک اور پیچیدگی کا اضافہ کر دیا ہے، جس نے محصولات اور مارکیٹ تک رسائی کے تنازع کے طور پر شروع ہونے والے اس معاملے کو ایک جغرافیائی سیاسی اختلاف میں بدل دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دہلی پر روسی خام تیل کی خریداری کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، اور یہ دلیل دی ہے کہ اس کے خرچ کیے گئے اربوں ڈالر ماسکو کو یوکرین میں اپنی جنگ کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انڈیا نے اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ تیل کہاں سے خریدے گا، اس کا فیصلہ اس کے ایک ارب 40 کروڑ عوام کی توانائی کی ضروریات اور سستے داموں فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
فروری 2022 میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد روسی خام تیل انڈیا کے لیے خاص طور پر اہم ہو گیا، جب مغربی پابندیوں اور یورپی طلب میں کمی نے انڈین ریفائنریوں کو رعایتی قیمتوں پر تیل خریدنے کا موقع فراہم کیا۔
نتیجے کے طور پر دہلی روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کے مطالبے کو سیاسی اور معاشی طور پر پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی ترسیل میں ہونے والے تعطل نے قیمتوں اور توانائی کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا کر صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ترن نائر نے کہا کہ زرعی مارکیٹ تک رسائی اور روسی تیل کی درآمدات روکنے کے امریکی مطالبات پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’مودی عوام میں اس تاثر سے بچنے کی پوری کوشش کریں گے کہ امریکہ کسی بھی طرح انڈیا کے خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان کی حکومت کو مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں جیسے مسائل پر خاصے دباؤ کا سامنا ہے۔‘
ترون نائر نے کہا، ’اگرچہ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران انڈیا میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حمایت حاصل رہی ہے، لیکن اب یہ صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اپوزیشن جماعتیں اس تعلق کی حدود اور کمزوریوں کو اجاگر کر رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مودی کے پاس امریکہ کو مزید رعایتیں دینے کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔‘
آگے کیا ہوگا؟
دو طرفہ مذاکرات کی اب بھی امید ہے کیوں کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اس ماہ کے آخر میں انڈیا کا دورہ متوقع ہے۔
مودی اور ٹرمپ، جن کی 30 ستمبر کو فون پر بات چیت ہوئی تھی، پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ان کے درمیان جلد ہی دوبارہ بات چیت بھی متوقع تھی۔
نریندر مودی کا جی 20 کے اجلاس کے لیے دسمبر میں امریکہ کا دورہ متوقع ہے۔
نائر نے کہا کہ ’اس تعطل سے ان کے درمیان عدم اعتماد میں اضافے کا امکان ہے جو اب تک زیادہ تر امریکہ کی غیر متوقع محصولاتی حکمت عملی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ دفاعی فروخت جیسے شعبوں میں محدود تعاون کی توقع کر سکتے ہیں۔‘
© The Independent