یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے اتوار کو کہا کہ ریاض ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل پر نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ نامعلوم پروجیکٹائل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو ’روک کر تباہ کر دیا۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تازہ حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ حملہ اسی ایئرپورٹ کے حصے میں ہوا جہاں اندرون ملک پروازوں کے لیے ٹرمینل 3 اور 4 واقع ہیں۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں ان کے زیر کنٹرول ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
گذشتہ روز بھی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد جان سے گئے جبکہ 300 سے زائد افراد زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔
اتوار کے حملے کے وقت ایئرپورٹ بند تھا اور حکام نے دارالحکومت کے سکولوں میں آن لائن تعلیم شروع کروا دی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان نے گذشتہ روز کے ’دہشت گرد حملے‘ کی شدید مذمت کی تھی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ’دہشت گردی کا سنگین اقدام، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘
دفتر خارجہ کے کے مطابق پاکستان نے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔‘
’جارحیت کے ایسے کھلے اور بلاامتیاز اقدامات کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘