مسلح گروہ بالآخر افغان طالبان حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اسحاق ڈار کا انتباہ

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جولائی 2025 میں کابل کے دورے کے دوران افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کو پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔

اسحاق ڈار آٹھ جون، 2023 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (فائل فوٹو/اے ایف پی)

پاکستان نے پیر کو افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگجوؤں کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے اور ساتھ ہی ایک بار پھر خبردار کیا کہ یہ مسلح گروہ بالآخر خود طالبان کی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے باعث دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جنگجوؤں کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے جاری تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔

پاکستانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تھنک ٹینک میں کی گئی تقریر میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جولائی 2025 میں کابل کے دورے کے دوران افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کو پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا: ’میں نے انہیں شائستگی سے یاد دلایا تھا کہ اگر افغان حکام اپنی سرزمین سے متحرک دہشت گرد گروہوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہے، تو وہ دن آئے گا جب یہ گروہ ان کی اپنی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن جائیں گے۔ ‘

 انہوں نے افغانستان کے جواب کی تفصیلات نہیں دیں، لیکن افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور حل پر پروپیگنڈے کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا: ’پاکستانی حکام کا اپنی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر ڈالنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ایکس پر کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ کابل اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرے اور جنگجوؤں کے پناہ گاہوں اور معاونتی نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔

پاکستان اکثر کابل پر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اور عالمی انتہا پسند نیٹ ورک سے منسلک القاعدہ برصغیر کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کے حکمران طالبان سے الگ ہے لیکن ان کی قریبی اتحادی ہے۔ اسحاق ڈار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ فرض کیوں کیا کہ جنگجو افغان طالبان کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کو نشانہ بنانے والے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے بارہا انکار کرتی رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کابل کے لیے پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پیشرفت سے اس کے بنیادی سکیورٹی مطالبے یعنی افغان سرزمین سے متحرک جنگجوؤں کے خلاف کارروائی، پر کوئی معنی خیز پیشرفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا: ’اچھے پڑوسیوں کے تعلقات دو طرفہ ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ان کا مطلب مسلسل ایک کے بعد دوسرے حملے کو خاموشی سے برداشت کرنا نہیں ہو سکتا۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے 2025 میں تین بار کابل کا دورہ کیا کیونکہ پاکستان تجارت کو وسعت دینے، سفارتی نمائندگی کو سفیر کی سطح تک بڑھانے اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والی ریلوے لائن کے منصوبے پر عمل پیرا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے لیکن سرحد پار سے مسلسل جاری جنگجوؤں کے خطرے کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا: ’پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار سے ہوتی ہے، وہیں سے ہدایات ملتی ہیں اور وہیں سے انہیں ان کا آغاز ہوتا ہے۔ دہشت گرد پہاڑی علاقوں سے گھس آتے ہیں، ہمارے سپاہیوں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنی پناہ گاہوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کے ساتھ 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً 95 فیصد مکمل کر لیا ہے۔ اس باڑ کی تعمیر کا آغاز 2017 میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر جنگجوؤں کے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے بعد ہوا تھا۔

اسحاق ڈار نے سکولوں، مساجد، بازاروں اور سکیورٹی تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے سنگین ترین سکیورٹی خطرات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے علیحدگی پسند بی ایل اے پر بھی شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوری سے اب تک 2,800 سے زائد جنگجوؤ ں کے حملوں میں تقریباً 3,000 افراد جان سے جا چکے ہیں یا زخمی ہو چکے ہیں۔

پیر کو اسی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تشدد میں اضافے کا ذمہ دار افغانستان میں مقیم جنگجوؤں، بشمول ٹی ٹی پی، کو ٹھہرایا۔

اقوام متحدہ اور آزادانہ جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں 6,000 سے زائد ٹی ٹی پی جنگجو اور مجموعی طور پر 20,000 سے زائد جنگجو موجود ہیں۔

انہوں نے ٹی ٹی پی پر الزام لگایا کہ وہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان پر حملوں کی بھرتی، تربیت اور منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان