گجرانوالہ پولیس کے ترجمان نے بدھ کو بتایا ہے کہ فوج کے ایک حاضر سروس ملازم، ان کے دو بھائیوں اور والد کو حراست میں لے کر مبینہ تشدد کرنے والے چوکی انچارچ سمیت سات اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پنجاب میں پولیس اہلکاروں کے خلاف اختیارات سے تجاوز اور تشدد کے واقعات پر آئے روز کئی شہری عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ آئی جی پنجاب آفس سے صوبے بھر میں سینکڑوں اہلکاروں کے خلاف شکایات پر کارروائیوں کی تفصیلات بھی جاری ہوتی رہتی ہیں جبکہ حکومتی سطح پر بھی پولیس ریفارمز اور تھانہ کلچر کی بہتری کے سنجیدہ اقدامات کیے جارہے ہیں، لیکن اس کے باوجود پولیس کے شہریوں پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہونا معمول بنا ہوا ہے۔
گجرانوالہ پولیس کے ترجمان محمد عرفان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’تھانہ اروپ کی چوکی عالم چوک کے انچارچ سب انسکپٹر محمد عمران سمیت سات اہلکاروں کے خلاف 10 اکتوبر کو حاضر سروس فوجی اہلکار عبدالحق اور اس کے بھائیوں پر تشدد کا مقدمہ درج کر کے ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔‘
متاثرہ فوجی اہلکار عبدالحق کے والد ذوالفقار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’میرے بیٹوں کو مجھ سمیت پولیس نے گرفتار کیا اور چوکی لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم ادارے کی مداخلت پر ہمیں رہائی ملی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میڈیکل رپورٹ پر مقدمہ درج ہوا لیکن اب بھی پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ صرف سب انسپکٹر کو گرفتار کیا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ذوالفقار احمد نے بتایا کہ ان کا بیٹا عبدالحق فوجی ملازم ہے اور لاہور میں ڈیوٹی کرتا ہے۔ ’وہ 28 دن کی چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا اور شام کے وقت اپنے گھر کے پاس ہی کریانہ سٹور پر کھڑا تھا کہ عالم چوک چوکی کے انچارج سب انسپکٹر محمد عمران دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ گاڑی پر وہاں آئے اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔‘
والد کے مطابق: ’میرے بیٹے نے بتایا کہ میں فوجی اہلکار ہوں اور چھٹی پر آیا ہوں۔ اسی دوران ان میں تلخ کلامی ہوئی، جس پر پولیس نے زبردستی پکڑ کر میرے بیٹے کو گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی، لیکن وہاں پر موجود لوگوں کے شور شرابے اور میرے دوسرے دو بیٹوں کے وہاں آنے پر انہوں نے مزید نفری بلا لی۔‘
ذوالفقار احمد نے بتایا: ’میں وہاں پہنچا تو معاملہ ختم کرنے کی بجائے پولیس نے ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ہم چاروں کو زبردستی پکڑ کر چوکی لے گئی۔ وہاں لے جاکر پلاسٹک کے پائپوں اور ڈنڈوں سے ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہمارے عزیزوں نے کسی طرح عبدالحق کے دفتر بتایا تو انہوں نے ہمیں چوکی سے رہا کروایا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے تشدد کا طبی معائنہ کروایا، جس کے بعد مشکل سے پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ صرف سب انسپکٹر محمد عمران کو گرفتار کیا گیا ہے مگر باقی اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔‘
عبدالحق کے مطابق: ’ہم نے اعلیٰ حکام کو بھی درخواست دی ہے کہ ہمیں انصاف دلوایا جائے اور واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف اختیارات سے تجاوز کرنے اور ہمیں بے گناہ تشدد کا نشانہ بنانے پر نوکریوں سے برطرف کر کے سخت سزا دی جائے۔‘