بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پولیس کے مطابق مسلح افراد نے جمعے کو 20 زیر تربیت اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔
مستونگ کے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رخشاں ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مغوی زیر تربیت اہلکار قلات ریکروٹ سینٹر سے چھٹی پر گھروں کو جا رہے تھے۔
پولیس افسر کے مطابق: ’مغوی اہلکار پولیس ٹریننگ سینٹر قلات میں تربیت حاصل کر رہے تھے اور ایک پرائیویٹ مسافر وین میں چھٹی پر گھروں کو جا رہے تھے کہ قلات اور نوشکی کے درمیان سربند کے راستے میں انہیں اغوا کر لیا گیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’مسلح افراد نے مسافر وین میں سوار افراد کی شناخت کی۔ وین میں تین دیگر مسافر بھی سوار تھے، جنہیں چھوڑ دیا گیا جبکہ پولیس اہلکاروں کو وہ اپنے ساتھ لے گئے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق ضلع مستونگ کی حدود میں لے جانے کے بعد مغوی اہلکاروں کو نامعلوم مقام کی جانب منتقل کر دیا گیا، جن کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔
تین روز قبل رخشاں ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو بھی ڈرائیور سمیت اغوا کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق کمشنر اسداللہ کاکڑ ڈرائیور اور ایک اور شخص کے ہمراہ پرائیویٹ گاڑی میں کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے کہ خاران کے قریب انہیں اغوا کر لیا گیا، بعد میں مسلح افراد نے ایک شخص کو چھوڑ دیا جبکہ کمشنر اسداللہ خان کاکڑ اور ڈرائیور تاحال لاپتہ ہیں۔
دو ماہ کے دوران اس علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ پولیس اہلکاروں اور کمشنر کے اغوا سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر کے اغوا کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔
تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر کو بعدازاں اغوا کاروں نے چھوڑ دیا تھا۔
ان واقعات کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی، تاہم حالیہ دنوں میں بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ اغوا کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔