پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پہلی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ صوبے کے عوام گذشتہ 13 سال سے ریلیف کے منتظر ہیں۔
پشاور میں منعقدہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا ملک کی مضبوط دیوار تھا، لیکن بدقسمتی سے حالات اس نہج پر آ گئے کہ عوام کے مسائل، جیسے تعلیم، علاج اور جان و مال کا تحفظ، سب ایک طرف کر دیے گئے۔ دہشت گردوں کے ساتھ معاملات کے حوالے سے ان کے رویوں اور لاتعلقی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایسا ممکن نہیں تھا کہ صوبہ جلتا رہے اور ہم بانسری بجاتے رہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا جلتا رہے اور ہم بانسری بجاتے رہیں، یہ ممکن نہیں۔ آخری کوشش کے طور پر ہم نے ایک ٹیم تشکیل دی اور 48 گھنٹوں میں دن رات محنت کر کے معاملات طے کرنے کی کوشش کی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ معاملات طے ہو گئے، لیکن سہیل آفریدی گئے اور پھر اس کے بعد سب تاریخ ہے۔‘
وزیر اعظم نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’پی ٹی آئی کی حکومتوں میں علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی کو وفاق نے بتایا تھا کہ ہم مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، لیکن وہ تیار نہیں تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پچھلی حکومت میں پولیس کی پانچ ہزار اسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی 2026 کا اختتام ہو رہا ہے۔ 800 ارب روپے دیے گئے، لیکن دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ اتنے وسائل کے باوجود دہشت گرد دوبارہ آ گئے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے شفاف طریقے سے وسائل استعمال کرنے کا کہا، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور ملک دشمن اقدامات کی وجہ سے ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔‘
شہباز شریف نے بتایا کہ ’اسی وجہ سے ہم نے یہ آخری کوشش کی کہ معیشت دوبارہ مستحکم ہو سکے اور ایک ایک اینٹ لگا کر اس گھر کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ یہ سیاسی اور فوجی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسی کے نتیجے میں ہماری معیشت اب مستحکم ہے۔‘
خیبر پختونخوا میں سابقہ حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ’صوبے میں کرپشن کے انبار لگے تھے، جس میں صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’13 سال سے خیبر پختونخوا کے عوام منتظر ہیں کہ انہیں کچھ ریلیف مل جائے، علاج معالجہ بہتر ہو جائے اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہو جائے۔ امید ہے کہ یہ معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت ریفرنڈم میں اس صوبے نے پاکستان کا ساتھ دیا، لیکن آج یہ صوبہ دہشت گردی سے چور چور ہے اور عوامی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے محرومی کے سائے چھا گئے ہیں۔‘