اخبار فروش کے بیٹے کی انٹر کامرس میں پہلی پوزیشن

انس حبیب کے والد نے مالی مشکلات کے باوجود انٹر کرنے کے دوران انہیں پارٹ ٹائم جاب نہیں کرنے دی اور تعلیم کا تمام خرچہ اٹھایا۔

انس اور ان کے والد حبیب(تصویر بشکریہ انس حبیب)

کراچی میں انٹرمیڈیٹ کامرس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2019 میں اخبار فروش محمد حبیب کے بیٹے انس حبیب نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔

انس کے والد حبیب پچھلے 45 سال سے صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے سامنے اخبارات اور رسالوں کا سٹال لگا رہے تھے جو مارکیٹ کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مسمار کردیا گیا۔

ہفتے کو اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹرمیڈیٹ کامرس ریگولر گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2019 کے نتائج کا اعلان کیا، جس میں 41985 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جن میں سے 12888 کامیاب قرار پائے۔

کامرس کے امتحان میں پہلی پوریشن حاصل کرنے والے انس نارتھ ناظم آباد میں ایک نجی کالج کے طالب علم ہیں۔

انہوں نے امتحان میں کُل 1100 میں سے 969 نمبرز حاصل کیے۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انہیں 30 ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا۔

انس نے اپنی ذہانت کی بنیاد پرکالج میں سکالرشپ بھی حاصل کی اور اب وہ اسی ادارے سے سی اے (چارٹرڈ اکاؤنٹینسی) کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

انس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’کل مجھے تعلیمی بورڈ سے کال آئی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری ٹاپ چھ طلبا میں سے ایک پوزیشن آئی ہے تو مجھے یقین نہیں آیا۔‘

’مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میری کیا پوزیشن آئی ہے۔ بورڈ کے چیئرمین پروفیسر انعام احمد نے امتحانات میں بہترین نمبر حاصل کرنے والے طلبا کا جب اعلان کیا تو تب مجھے علم ہوا کہ میں نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس وقت میرے والد کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انس نے بتایا ’مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے اپنے والدین کی خواہش پوری کر دی۔ نہ صرف میرے والدین نے بلکہ میری بہنوں نے بھی مجھے اس مقام تک پہنچانے میں بہت محنت کی۔ میں مستقبل میں ان سب کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں، کچھ بننا چاہتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس کے لیے مجھے بہت محںت کرنا ہوگی لیکن میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘

ان کی تین بڑی بہنوں نے بیچلرز تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچہ چلانے اور انس کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں والد کی مدد کرتی ہیں۔

انس کے مطابق ان کے والدین نے کبھی اپنے بیٹے اور بیٹیوں میں فرق نہیں کیا اور اچھی تعلیم اور تربیت ہمیشہ ان کے والدین کی پہلی ترجیح رہی۔

ان کے والد نے مالی مشکلات کے باوجود انٹر کرنے کے دوران انس کو پارٹ ٹائم جاب نہیں کرنے دی اور ان کی تعلیم کا تمام خرچہ اٹھایا۔

63 سالہ حبیب نے بتایا ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران ان کا بک سٹال ہیوی مشینری کی زد میں آگیا تھا، جس کہ وجہ سے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا اورچونکہ یہ سٹال ان کی روٹی روزی کا واحد ذریعہ تھا اس لیے انہوں نے کئی دن تک زمین پر کپڑا بچھا کر اخبارات اور رسالے بیچے۔

انہوں نے مزید کہا ’میرے تمام بچوں نے تعلیم حاصل کی اور میں یہی چاہتا ہوں کہ میرے بچے پڑھ لکھ کر اچھے مقام پر پہنچیں۔ میں اس لیے اپنے بیٹے کو کام نہیں کرنے دیتا تاکہ وہ اپنی پڑھائی پرزیادہ توجہ دے۔‘

’میں نے بھی بی کام کیا ہے لیکن میری زندگی روڈ پر اخبارات کا سٹال لگاتے گزر گئی مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں کی زندگی مجھ سے مختلف ہو۔‘

انس کے والد نے کہا ’انس نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے میرا خواب پورا کردیا۔ اس میں انس کی تو محنت ہے ہی لیکن میری بیٹیوں اور ان کی والدہ کی بھی کافی محنت ہے۔ لوگ باہر آتے جاتے ہیں، تفریح کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں لیکن میرے بچوں نے بہت قربانی دی، اس لیے مجھے ان پر فخرہے۔‘

حبیب نے بتایا کہ کئی بار موقع ملنے کے باجود انس نے کبھی نقل کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب انس ملازمت تلاش کریں گے تو میرٹ کو ہی بنیاد بنائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے