’نواز شریف کا علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے انکار‘

طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم کی رہائی کے احکامات پر مسلم لیگ ن کی قیادت مطمئن دکھائی دیتی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک  جانے کو تیار نہیں ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو کینسر نہیں ہے اور ان کی بیماری کا علاج ممکن ہے۔ (اے ایف پی)

لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی ضمانت منظور کرکے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم کی رہائی کے احکامات پر مسلم لیگ ن کی قیادت بھی مطمئن دکھائی دیتی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق رہائی کے باوجود میاں نواز شریف علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک  جانے کو تیار نہیں ہیں جبکہ ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ ابھی ان کی طبیعت ایسی نہیں کہ وہ سفر کر سکیں۔

اس صورتحال میں میاں نواز شریف کو علاج معالجے کی غیر معمولی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کی بیماری تشخیص کر لی گئی ہے اور انہیں اسی کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ ان کے پلیٹ لیٹس بھی سات ہزار سے بڑھ کر 45 ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔

نواز شریف کی موجودہ صورتحال

ڈاکٹروں کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو کینسر نہیں ہے اور ان کی بیماری کا علاج ممکن ہے۔ ماہرِ امراض ہیماٹالوجسٹ پروفیسر طاہر سلطان شمسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نواز شریف کی بیماری تشخیص ہو گئی ہے اور ان کو لاحق بیماری کا نام اکیوٹ آئی ٹی پی ہے اور یہ مرض ہے قابلِ علاج ہے۔

سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر محمود ایاز نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ نوازشریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کا بون میرو جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا، انہیں بون میرو کا کوئی کینسر نہیں ہے اور ان کی بیماری کا علاج اسٹیرائیڈ اور آئی وی آئی جی انجیکشن کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ یہ ادویات ملنے کے بعد مریض کے پلیٹ لیٹس بننا شروع ہو جاتے ہیں، آئی وی آئی جی انجیکشن ملنے کے 10 سے 12 روز بعد مریض کے پلیٹ لیٹس تقریباً نارمل ہو جاتے ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر محمود ایاز نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ نواز شریف کی بیماری کے بارے میں ابھی نہیں بتا سکتے تاہم انہیں مختلف مسائل ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی بیماری شامل ہے، ان کے گردے بھی خراب ہیں اور دو مرتبہ دل کا آپریشن بھی ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نواز شریف کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کر چکا ہے، انہیں ڈینگی نہیں ہے اور ان کی بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن ہے۔

نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک کیوں نہیں جانا چاہتے؟

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف رہائی کے احکامات پر بھی بیرون ملک علاج کے لیے جانے پر رضامند نہیں۔ شہباز شریف، مریم نواز اور ان کی والدہ شمیم بیگم اور پارٹی رہنماؤں نے ان سے درخواست کی ہے کہ بیرون ملک ان کا بہترعلاج ہوسکتا ہے لہذا جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن سابق وزیراعظم نے اس رائے کو مسترد کردیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر شاہین بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز کے بعد میاں نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے بار بار ان کی صحت پر تحفظات سے حکومت کو آگاہ کیا گیا لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ اب ان کی صحت بگڑ جانے پر حکومت ہمدردیاں دکھا رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ضمانت کے بعد کیا میاں صاحب علاج کے لیے بیرون ملک جاسکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میاں نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک جانے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں بھی علاج ہوسکتا ہے جیسا بھی ہو میں یہیں رہوں گا۔‘

سینیئر صحافی سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی صحت پر سیاست کی گئی، لیکن اب وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو انہیں سروسز ہسپتال میں صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو علاج کے لیے بلانا بھی بہتر اقدام ہے، چاہے تاخیر سے ہی ہوا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’نواز شریف کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور اپنی والدہ کی رائے پر بیرون ملک علاج کے لیے جانے سے انکار کردیا ہے۔‘

حکومتی آفر

پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جمعے کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’وزیراعظم کے حکم پر نواز شریف کے لیے ایئر ایمبولینس تیار کھڑی ہے، وہ جہاں سے علاج کرانا چاہیں، جاسکتے ہیں، ہم ہر جگہ انہیں بھجوانے کو تیار ہیں۔‘

واضح رہے کہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے دو دن پہلے لاہور میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر فاضل جج سے درخواست کی تھی کہ انہیں ہسپتال جاکر والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے بعد محکمہ داخلہ نے انہیں ہسپتال میں والد سے ملاقات کی اجازت دی تھی، جہاں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور کئی گھنٹے ہسپتال میں رکھنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا گیا تھا۔ بعدازاں وزیراعظم کے احکامات پر انہیں اپنے والد کے ساتھ ہسپتال میں رہنے کی اجازت دی گئی اور وہ سروسز ہسپتال منتقل کردی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست