نواز شریف منگل کو بیرون ملک روانہ ہوں گے: مریم اورنگزیب

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی ہے۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف (فائل تصویر: اے ایف پی)

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو غیر مشروط طور پر علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ محمد نواز شریف منگل (19 نومبر) کو بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے بیان میں سیکرٹری اطلاعات مریم نواز نے بتایا کہ ’ڈاکٹروں  نے محمد نواز شریف کا آج صبح پھر تفصیلی معائنہ کیا اور آپس میں مشورے کے بعد سابق وزیراعظم کو سٹیرائیڈ کی ہائی ڈوز دینے کا عمل جاری ہے تاکہ ان کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد اتنی ہوجائے کہ وہ سفر کے قابل ہو سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہائی بلڈ شوگر، ہارٹ اور دیگر طبی خطرات کو کم سے کم سطح پر لانے کے لیے بھی نواز شریف کو  ادویات دی جا رہی ہیں اور ڈاکٹر ایسی محفوظ طبی حکمت عملی پر کاربند ہیں، جس سے وہ بحفاظت سفر کر سکیں۔‘

مسلم لیگ ن کی ترجمان نے نواز شریف کی صحت کے لیے قوم سے دعا کی خصوصی اپیل بھی کی۔

نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ نواز شریف 48 گھنٹوں کے اندر طبی عملے اور سازوسامان سے لیس ایئر ایمبولینس میں علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہوں گے۔

گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریک کے وکلا کو فراہم کردہ عدالتی مسودے کے متن کے مطابق نواز شریف کی صحت بہتر نہ ہوئی تو اس مدت میں مزید توسیع ہو سکتی ہے جب کہ حکومت کا نمائندہ سفارت خانے کے توسط سے نواز شریف سے رابطہ کر سکے گا۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ہفتے کے روز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے اپنے بھائی کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

وفاقی حکومت نے جمعے کو اعتراض اٹھایا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ یہ درخواست نہیں سن سکتی، جس پر عدالت نے دونوں اطراف کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد شام پونے چھ بجے کے قریب حکومتی موقف رد کرتے ہوئے ہفتے کا دن سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

ہفتے کی سماعت میں حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری اشتیاق احمد خان، قومی احتساب بیور (نیب) کی جانب سے فیصل بخاری اور چوہدری خلیق الرحمٰن جب کہ شہباز شریف کے وکلا کی ٹیم میں ایڈووکیٹ امجد پرویز اور ایڈووکیٹ اشتر اوصاف پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ وہ اپنے موکل کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرتے ہیں کہ نواز شریف صحت یاب ہو کر وطن واپس آ جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر بینچ نے کمرہ عدالت میں موجود شہباز شریف نے پوچھا کہ آیا وہ اس قسم کی یقین دہانی کراتے ہیں، تو پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’وہ یقین دلاتے ہیں۔‘

اس پر عدالت نے حکومت کا ردعمل جاننے کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان کو مخاطب کیا، جنہوں نے کہا کہ حکومت بھی نواز شریف سے انڈر ٹیکنگ ہی مانگ رہی ہے کہ وہ اپنی واپسی کے حوالے سے لکھ کر دیں تاکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے اپنے موکل کا ہاتھ سے تحریر شدہ ایک حلف نامہ جمع کرایا، جس کے مطابق نواز شریف بیرونِ ملک ڈاکٹروں کی اجازت کے بعد وطن واپس آئیں گے۔

شہباز شریف کی جانب سے جاری کروایا گیا حلف نامہ


تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ بیانِ حلفی میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ واپس کب آئیں گے؟

جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ’بیانِ حلفی مناسب لگ رہا ہے‘، تاہم جمع کروائے گئے حلف نامے میں ’سہولت کاری‘ (Facilitate) کے لفظ کی جگہ ’یقینی بنانے‘ (Ensure) کا لفظ استعمال کیا جائے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ اشتر اوصاف نے کہا کہ ’ہم اسے تبدیل کردیتے ہیں۔‘

بعدازاں وفاقی حکومت نے بھی ایک جوابی ڈرافٹ پیش کیا، جس پر نواز شریف کے وکیل اور عدالت نے بھی اعتراض کیا۔

حکومتی ڈرافٹ میں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے شورٹی بانڈ کے علاوہ یہ شرط بھی شامل تھی کہ اگر وفاقی حکومت یہ سمجھے کہ نواز شریف صحت مند ہیں تو ایک میڈیکل بورڈ بنایا جائے گا اور اگر میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ میں یہ کہے کہ وہ صحت مند ہیں تو نواز شریف کو واپس آنا پڑے گا۔

تاہم عدالت نے اس ڈرافٹ میں شامل شرائط پر اعتراض کیا، جس پر وفاقی حکومت کے نمائندے نے جواب دیا کہ ’مجھے یہی ہدایات ملی ہیں۔‘

اشتر اوصاف نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈرافٹ میں شامل کی گئی شرائط غیر قانونی ہیں۔

ان اعتراضات کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ اپنا ڈرافٹ تیار کر کر فریقین کے وکلا کو دے گی اور اگر فریقین عدالتی ڈرافٹ پر متفق ہوئے تو عدالت فیصلہ دے گی، جس کے بعد سماعت تیسری مرتبہ ملتوی کردی گئی۔

سماعت کے دوبارہ آغاز پر عدالت نے اپنا تیار کردہ مسودہ وفاقی حکومت اور شہباز شریف کے وکلا کو فراہم کیا اور بعدازاں حکومت کی جانب سے سات ارب روپے کے بونڈ کی شرط مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان