اٹھارہ ہزار سال پرانا دو ماہ کا بچہ: کتا ہے یا بھیڑیا؟

جانور کے اس بچے کو پیار سے ’ڈروگو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے دانت دودھ کے ہیں اور جسم پر بالوں کی موٹی تہہ اور پنجے مضبوط ہیں، حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کی پلکیں تک محفوظ ہیں۔

’یہ معلوم نہیں کہ حیرت انگیز طور پر بہترین حالت میں موجود یہ لاش بھیڑیا ہے یا کتا یا پھراس کا تعلق بھیڑیوں کے پالتو کتے بننے تک کے ارتقائی مرحلے سے ہے‘ (سوشل میڈیا)

محققین کے مطابق سائبیریا کے ہمیشہ برف سے ڈھکے رہنے والے حصوں سے ایک جانور کی لاش دریافت ہوئی ہے جو مکمل طور جمی ہوئی اور بالکل صحیح و سالم حالت میں ہے۔

لیبارٹری میں کاربن تجزیے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ کتے (یا بھیڑیے) کے ایک کم عمر نر بچے کی لاش ہے، جو 18 ہزار سال قدیم ہے لیکن حال ہی میں مرنے والے جانور جیسا دکھائی دیتا ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کے سائنس دانوں کو یہ بچہ 2018 کے موسم گرما میں شمال مشرقی سائبیریا کے دور دراز مقام سے ملا تھا۔ یہ جگہ روسی قصبے بیلایا گورا کے قریب ترین قصبے سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

اخبار دا سائبیرئین ٹائمز کے مطابق موت کے وقت جانور کے اس بچے کی عمر صرف دو ماہ تھی، وہ مستقل طور پر منجمد رہنے والے علاقے میں پڑا رہا اور کسی نے اسے نہیں چھیڑا، حتیٰ کہ گذشتہ ہفتے سائنس دانوں کو اس کی لاش مل گئی۔

یہ لاش روس میں ہی ہے لیکن سائنس دان لوڈیلن اور34 سالہ ڈیس سٹینٹن اس کی ایک پسلی تجزیے کے لیے سویڈن لے گئے۔ ’یہ معلوم نہیں کہ حیرت انگیز طور پر بہترین حالت میں موجود یہ لاش بھیڑیا ہے یا کتا یا پھراس کا تعلق بھیڑیوں کے پالتو کتے بننے تک کے ارتقائی مرحلے سے ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارتقائی جینیات کے پروفیسر ڈیلن نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ہمیں جو ملا ہے وہ بھیڑیا ہے لیکن ابھی ہمیں کروموسوم کے پہلے مرحلے کے نتائج ملے ہیں اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کتا ہے یا بھیڑیا۔ ہمیں یہ بتانے کے قابل ہونا چاہیے۔ یہ آسان ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یا تو یہ بہت ابتدائی دور کا جدید بھیڑیا ہے یا بالکل آخری دور کا کتا، یا اس کے بعد کے وسطِ حیاتی دور(برفانی دور) کا بھیڑیا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کتا نکلا تو میں یہ کہوں گا کہ یہ یقینی ہے کہ اس کا تعلق قدیم ترین دور سے ہے۔‘

مردہ جانور کے نمونے سویڈن کے مرکز برائے قدیم جینیات بھیجے گئے ہیں جہاں کتے کی نسل سے تعلق رکھنے والے جانوروں کے دنیا بھر سے اکٹھے کیے گئے جینیاتی نمونوں کا سب سے بڑا بینک بنایا گیا ہے، لیکن ابھی تک سائبیریا سے ملنے والے جانور کی اس قسم کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

جانور کے اس بچے کو پیار سے’ڈروگو‘کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے دانت دودھ کے ہیں اور جسم پر بالوں کی موٹی تہہ اور پنجے مضبوط ہیں، حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کی پلکیں تک محفوظ ہیں۔

صرف اس کی ریڑھ کی ہڈی کا کچھ حصہ خراب ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کی پسلیاں نمایاں ہو گئی ہیں۔ مزید تجزیے اور جینیاتی مواد کی زنجیر جوڑ کر یہ پتہ لگایا جائے گا کہ کتے کی نسل کی ارتقا کے عمل میں ڈروگو کو کہاں رکھا جائے؟

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق